Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » معاشرے کا اجالا؛ مولانا الیاس قادری

معاشرے کا اجالا؛ مولانا الیاس قادری

احمد تراث

کی طرف سے Ranaayi مارچ 2, 2026
کی طرف سے Ranaayi مارچ 2, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
66

سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے: ‘جس نے چاہا کہ لوگ اس کی آمد پر کھڑے ہوں وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے’

(ترمذی شریف)

یہ حدیث مبارک یاد آنے کا باعث چند سطروں کے بعد پیش کیا جاتا ہے۔ پہلے یہ مشاہدہ سنیے کہ بیشک کیسے ہی نوع بہ نوع امراض نے گھیر کر دل و جان اور رگ و پے میں ایک بیزاری اور شدید کڑواہٹ سی بھر ڈالی ہو لیکن ایک صورت، مولانا محمد الیاس عطار قادری کی، ایسی ہے کہ جسے دیکھ کر قلب و روح کی مرجھائی کلیاں کھل جاتی ہیں اور زبانِ شیریں بیاں سے جو ارشاد ہوتا ہے اس کو سن کر دل ایک سکون کے مضبوط ترین حصار میں آ جاتا ہے۔ آج کا معاملہ سنیے کہ جب آنجناب کی گفتگو کا کچھ حصہ سنا تو فرما رہے تھے کہ جب مَیں مسجد میں مدنی مذاکرے (سلسلۂ سوال و جواب) کے لیے آتا ہوں تو حاضرین (یعنی مریدین و محبین) کھڑے نہ ہوا کریں۔ پھر اسی بات پر کچھ مزید ذہن سازی بھی فرمائی۔ یہ جملے اس خاکسار نے بالمشافہ بھی متعدد مرتبہ سن رکھے ہیں اور حیران ہوتا ہوں کہ معاشرے میں بہت سے چھوٹے بڑے شعبے ہیں اور ان میں بہت سی ایسی روایات موجود ہیں بلکہ ہزاروں قسم کے پروٹوکولز ہیں جو کسی شخص کو فراہم نہ کیے جائیں تو ایسا ایسا آدمی بھی ناراض، سیخ پا اور بدلے کی کارروائی پر اتر آتا ہے جس کو چند ماتحتوں کے علاوہ بہت ہی کم لوگ جانتے ہوں گے اور ماتحتوں کے علاوہ کوئی بھی کسی اس کے لیے کسی خصوصی احترام کا پابند ہوتا ہے اور نہ ہی لوگ بے مقصد کسی کو ایسا احترام دیتے ہیں۔ دوسری طرف کئی شعبوں کی عوامی شخصیات بھی کئی طرح کے احترام، محبین کی طرف سے ضرورت سے زیادہ اظہارِ عجز و انکسار، اور بعض اوقات ایسی طے شدہ عزت افزائی کے گھیرے میں ہوتے ہیں جس سے مداحوں کے شرفِ انسانی تک کی تذلیل ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ لیکن اس کو مزے سے انجوائے کیا جاتا ہے بلکہ خاص اہتمام سے اس انجوائے منٹ کے مواقع پیدا کیے جاتے ہیں۔

جبکہ ادھر حضرتِ امیرِ اہلسنت مولانا الیاس قادری کا مذکورہ انداز دیکھیے! ایک ایسی شخصیت کا انداز جس کی ایک جھلک دیکھنے کے خواہشمندوں میں لاکھوں کروڑوں افراد شامل ہیں۔ کیا امیر اور کیا غریب، کیا منصب دار اور کیا حکمران، ایک اچھی خاصی تعداد ہے جو آنجناب کی نام لیوا ہے اور ان کی چلائی ہوئی کسی ایک بھی دینی و فلاحی مہم پر سبھی دوڑے چلے آتے ہیں اور ان کی بات پر عمل کرنے کو اپنا اعزاز سمجھتے ہیں۔ بیسیوں ملکوں کے مسلمان ہیں جو اس فقیرِ گوشہ گیر کی اپنے ملک آمد کے متمنی رہتے ہیں۔ لیکن عاجزی کا یہ عالم ہے کہ اپنی آمد پر لوگوں کو احتراما کھڑا ہونے سے بھی منع فرما رہے ہیں۔

خاکسار کو کئی بار اُس دسترخوان پر حاضری کا شرف بھی حاصل ہوا ہے جہاں مولانا الیاس قادری صاحب متعدد عام و خاص، امیر و غریب مریدین و معتقدین کے ساتھ بیٹھ کر، اپنے گھر سے منگوایا گیا سادہ کھانا تناول فرماتے ہیں جو مریدین کو پیش کیے گئے لنگر سے کئی گنا سادہ ہوتا ہے۔ یہ کھانا وہ منگواتے تو اپنے لیے ہیں لیکن قصدا زیادہ منگواتے ہیں تا کہ قریب قریب بیٹھے ہوئے کئی افراد میں تقسیم کیا جا سکے۔ یوں اس لاکھوں دلوں کی دھڑکن کی ہر سحری، اور رات کا کھانا معاشرے کے ایسے افراد کے ساتھ ہوتا ہے جن میں اکثر لوگ مزدور پیشہ، ریڑھی بان، اور متوسط درجے کے ہوتے ہیں۔ دنیا کے لاتعداد اعلی درجے پر فائز افراد تو عام آدمی سے ہاتھ ملانا بھی گوارا نہیں کرتے چہ جائیکہ سحر و افطار کا ہر کھانا عوام الناس کے ساتھ کھایا جائے۔

لیکن یہاں پر ایک اور بہت اہم اور حیرت انگیز بات ملاحظہ کیجیے کہ جب دستر خوان لگ جاتا ہے اور مولانا الیاس قادری تشریف لانے والے ہوتے ہیں تو بڑی پابندی، نرمی اور اہتمام سے بار بار حاضرین کی ذہن سازی کی جاتی ہے کہ امیر اہلسنت اپنی آمد پر لوگوں کے کھڑے ہونے کو پسند نہیں کرتے لہذا کوئی بھی کھڑا نہ ہو، حتی کہ جب وہ لوگوں کے درمیان خود جا جا کر، ہر روز تحائف تقسیم کر رہے ہوتے ہیں تب بھی ہر ایک کو بیٹھے رہنے کی تاکید کی گئی ہوتی ہے اور اسی پر عمل ہوتا ہے۔ یہ عاجزی، سخاوت، ضبطِ نفس موجودہ دنیا میں ایک خواب ہے جو امام غزالی کی احیاء العلوم اور دیگر امہات کتبِ تصوف اور کبار صوفیۂ کرام کے کردار کا آئینہ ہے۔ اور یاد رہے کہ ایسے خوابناک منظر اور انداز کو دیکھنے، اس کی مٹھاس محسوس کرنے اور اس کے نور کا نظارہ کرنے کے لیے اپنی عینک ہر قسم کے تعصب سے صاف کرنی پڑتی ہے۔

کمزور اور طاقتور ، امیر اور غریب کا فرق کیے بغیر اپنے مریدین و محبین کے ساتھ بلا تکلف بیٹھ کر کھانا کھانے کا یہ انداز دیکھ کر سیرت مبارکہ کے کئی مناظر اور کئی احادیث نظروں کے سامنے آ جاتی ہیں جن میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی غرباء کے ساتھ خصوصی ہمدردی و اپنائیت اور ان کی خبر گیری، ان کے فضائل، اور آخرت میں ان کے لیے راحتوں کا ذکر ہے۔ یقینا ہمیں انہی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے، اسی سے معاشرے میں مساوات، انسانی حقوق کا تحفظ اور عدل و انصاف کا بول بالا ہو سکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔ ہماری انا، ہمارا تکبر، ہمارا پروٹوکول، ہمارا احساسِ برتری آڑے آ جاتا ہے جو ہمارے دل و دماغ سمیت معاشرے میں بھی اندھیرے کا باعث بنتا ہے۔ اس اندھیرے کو دور کرنے کی جھلک مولانا الیاس قادری کی شخصیت میں واضح، شفاف، نمایاں، اور بےمثل انداز میں موجود ہے جس کا سطور بالا میں نہایت سرسری سے بھی بےحد کم ذکر ہو سکا ہے۔ خدا اس شمع کو روشن رکھے، اور اس کے اجالے اور اس کے پروانے بڑھتے رہیں۔

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • امریکہ میں ممدانی اور قرآن
  • سوشل میڈیا کے دور میں مطالعہ کیوں کیا جاۓ؟
  • احوال ایران؛ چند فکری زاویے
  • خوشیاں، کلچر اور احتیاط
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
آموں کی پیٹی سے آج تک
اگلی تحریر
فاروق عادل کا سفرنامۂ ترکی

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

لاہور میں بسنت کے رنگ

فروری 11, 2026

دو اہم افسانوں کا تذکرہ

جنوری 2, 2026

سخن ہائے گفتنی

فروری 1, 2026

کیا عقلی دلیل ممنوع ہے ؟

دسمبر 23, 2025

ایران میں بھوک کا احتجاج

جنوری 6, 2026

اے آئی کی کلہاڑی

دسمبر 31, 2025

میں اور سید کاشف رضا

فروری 26, 2026

ٹالسٹائی کی قوم اور کتاب بینی

جنوری 15, 2026

قبائلی بیٹیوں کے خواب اور خاموش دیواریں

فروری 25, 2026

یہ کون ہے احمد شاہ؟

دسمبر 31, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • محمد حمید شاہد کی سالگرہ
  • شوگر کی دواؤں کی چھٹی؟
  • سیدہ عابدہ حسین؛ اقتدار سے مطالعے تک
  • بیانیہ اور کہانی پن
  • جدید دور کی مہلک ترین بیماری

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 318 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 302 views
  • 3

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 295 views
  • 4

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 289 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 262 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (44)
  • انٹرویوز (4)
  • بچے (2)
  • بلاگ (44)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (31)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • محمد حمید شاہد کی سالگرہ

    مارچ 25, 2026
  • شوگر کی دواؤں کی چھٹی؟

    مارچ 11, 2026
  • سیدہ عابدہ حسین؛ اقتدار سے مطالعے تک

    مارچ 9, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (44)
  • انٹرویوز (4)
  • بچے (2)
  • بلاگ (44)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (31)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

اخلاقیات کی دھنک

جنوری 8, 2026

پاکستان سے ڈاکٹروں کی ہجرت کا...

فروری 22, 2026

اکیسویں صدی کے پہلے 25 برس

دسمبر 22, 2025
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here