سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے: ‘جس نے چاہا کہ لوگ اس کی آمد پر کھڑے ہوں وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے’
(ترمذی شریف)
یہ حدیث مبارک یاد آنے کا باعث چند سطروں کے بعد پیش کیا جاتا ہے۔ پہلے یہ مشاہدہ سنیے کہ بیشک کیسے ہی نوع بہ نوع امراض نے گھیر کر دل و جان اور رگ و پے میں ایک بیزاری اور شدید کڑواہٹ سی بھر ڈالی ہو لیکن ایک صورت، مولانا محمد الیاس عطار قادری کی، ایسی ہے کہ جسے دیکھ کر قلب و روح کی مرجھائی کلیاں کھل جاتی ہیں اور زبانِ شیریں بیاں سے جو ارشاد ہوتا ہے اس کو سن کر دل ایک سکون کے مضبوط ترین حصار میں آ جاتا ہے۔ آج کا معاملہ سنیے کہ جب آنجناب کی گفتگو کا کچھ حصہ سنا تو فرما رہے تھے کہ جب مَیں مسجد میں مدنی مذاکرے (سلسلۂ سوال و جواب) کے لیے آتا ہوں تو حاضرین (یعنی مریدین و محبین) کھڑے نہ ہوا کریں۔ پھر اسی بات پر کچھ مزید ذہن سازی بھی فرمائی۔ یہ جملے اس خاکسار نے بالمشافہ بھی متعدد مرتبہ سن رکھے ہیں اور حیران ہوتا ہوں کہ معاشرے میں بہت سے چھوٹے بڑے شعبے ہیں اور ان میں بہت سی ایسی روایات موجود ہیں بلکہ ہزاروں قسم کے پروٹوکولز ہیں جو کسی شخص کو فراہم نہ کیے جائیں تو ایسا ایسا آدمی بھی ناراض، سیخ پا اور بدلے کی کارروائی پر اتر آتا ہے جس کو چند ماتحتوں کے علاوہ بہت ہی کم لوگ جانتے ہوں گے اور ماتحتوں کے علاوہ کوئی بھی کسی اس کے لیے کسی خصوصی احترام کا پابند ہوتا ہے اور نہ ہی لوگ بے مقصد کسی کو ایسا احترام دیتے ہیں۔ دوسری طرف کئی شعبوں کی عوامی شخصیات بھی کئی طرح کے احترام، محبین کی طرف سے ضرورت سے زیادہ اظہارِ عجز و انکسار، اور بعض اوقات ایسی طے شدہ عزت افزائی کے گھیرے میں ہوتے ہیں جس سے مداحوں کے شرفِ انسانی تک کی تذلیل ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ لیکن اس کو مزے سے انجوائے کیا جاتا ہے بلکہ خاص اہتمام سے اس انجوائے منٹ کے مواقع پیدا کیے جاتے ہیں۔
جبکہ ادھر حضرتِ امیرِ اہلسنت مولانا الیاس قادری کا مذکورہ انداز دیکھیے! ایک ایسی شخصیت کا انداز جس کی ایک جھلک دیکھنے کے خواہشمندوں میں لاکھوں کروڑوں افراد شامل ہیں۔ کیا امیر اور کیا غریب، کیا منصب دار اور کیا حکمران، ایک اچھی خاصی تعداد ہے جو آنجناب کی نام لیوا ہے اور ان کی چلائی ہوئی کسی ایک بھی دینی و فلاحی مہم پر سبھی دوڑے چلے آتے ہیں اور ان کی بات پر عمل کرنے کو اپنا اعزاز سمجھتے ہیں۔ بیسیوں ملکوں کے مسلمان ہیں جو اس فقیرِ گوشہ گیر کی اپنے ملک آمد کے متمنی رہتے ہیں۔ لیکن عاجزی کا یہ عالم ہے کہ اپنی آمد پر لوگوں کو احتراما کھڑا ہونے سے بھی منع فرما رہے ہیں۔
خاکسار کو کئی بار اُس دسترخوان پر حاضری کا شرف بھی حاصل ہوا ہے جہاں مولانا الیاس قادری صاحب متعدد عام و خاص، امیر و غریب مریدین و معتقدین کے ساتھ بیٹھ کر، اپنے گھر سے منگوایا گیا سادہ کھانا تناول فرماتے ہیں جو مریدین کو پیش کیے گئے لنگر سے کئی گنا سادہ ہوتا ہے۔ یہ کھانا وہ منگواتے تو اپنے لیے ہیں لیکن قصدا زیادہ منگواتے ہیں تا کہ قریب قریب بیٹھے ہوئے کئی افراد میں تقسیم کیا جا سکے۔ یوں اس لاکھوں دلوں کی دھڑکن کی ہر سحری، اور رات کا کھانا معاشرے کے ایسے افراد کے ساتھ ہوتا ہے جن میں اکثر لوگ مزدور پیشہ، ریڑھی بان، اور متوسط درجے کے ہوتے ہیں۔ دنیا کے لاتعداد اعلی درجے پر فائز افراد تو عام آدمی سے ہاتھ ملانا بھی گوارا نہیں کرتے چہ جائیکہ سحر و افطار کا ہر کھانا عوام الناس کے ساتھ کھایا جائے۔
لیکن یہاں پر ایک اور بہت اہم اور حیرت انگیز بات ملاحظہ کیجیے کہ جب دستر خوان لگ جاتا ہے اور مولانا الیاس قادری تشریف لانے والے ہوتے ہیں تو بڑی پابندی، نرمی اور اہتمام سے بار بار حاضرین کی ذہن سازی کی جاتی ہے کہ امیر اہلسنت اپنی آمد پر لوگوں کے کھڑے ہونے کو پسند نہیں کرتے لہذا کوئی بھی کھڑا نہ ہو، حتی کہ جب وہ لوگوں کے درمیان خود جا جا کر، ہر روز تحائف تقسیم کر رہے ہوتے ہیں تب بھی ہر ایک کو بیٹھے رہنے کی تاکید کی گئی ہوتی ہے اور اسی پر عمل ہوتا ہے۔ یہ عاجزی، سخاوت، ضبطِ نفس موجودہ دنیا میں ایک خواب ہے جو امام غزالی کی احیاء العلوم اور دیگر امہات کتبِ تصوف اور کبار صوفیۂ کرام کے کردار کا آئینہ ہے۔ اور یاد رہے کہ ایسے خوابناک منظر اور انداز کو دیکھنے، اس کی مٹھاس محسوس کرنے اور اس کے نور کا نظارہ کرنے کے لیے اپنی عینک ہر قسم کے تعصب سے صاف کرنی پڑتی ہے۔
کمزور اور طاقتور ، امیر اور غریب کا فرق کیے بغیر اپنے مریدین و محبین کے ساتھ بلا تکلف بیٹھ کر کھانا کھانے کا یہ انداز دیکھ کر سیرت مبارکہ کے کئی مناظر اور کئی احادیث نظروں کے سامنے آ جاتی ہیں جن میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی غرباء کے ساتھ خصوصی ہمدردی و اپنائیت اور ان کی خبر گیری، ان کے فضائل، اور آخرت میں ان کے لیے راحتوں کا ذکر ہے۔ یقینا ہمیں انہی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے، اسی سے معاشرے میں مساوات، انسانی حقوق کا تحفظ اور عدل و انصاف کا بول بالا ہو سکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔ ہماری انا، ہمارا تکبر، ہمارا پروٹوکول، ہمارا احساسِ برتری آڑے آ جاتا ہے جو ہمارے دل و دماغ سمیت معاشرے میں بھی اندھیرے کا باعث بنتا ہے۔ اس اندھیرے کو دور کرنے کی جھلک مولانا الیاس قادری کی شخصیت میں واضح، شفاف، نمایاں، اور بےمثل انداز میں موجود ہے جس کا سطور بالا میں نہایت سرسری سے بھی بےحد کم ذکر ہو سکا ہے۔ خدا اس شمع کو روشن رکھے، اور اس کے اجالے اور اس کے پروانے بڑھتے رہیں۔