فکشن میں بیانیہ ہی ہے جو ایک واقعہ کو کہانی اور کہانی کو افسانہ بناتا ہے ، جی بیان نہیں بیانیہ۔ کون نہیں جانتا کہ فکشن میں کہانی کا تصور کہانی کے عمومی تصور سے یکسر مختلف ہو جاتا ہے۔ جسے میں نے کہانی کا عمومی تصور کہا ہے اُسے آپ نان فکشن کی ذیل میں رَکھ سکتے ہیں۔ دیکھئے کوئی بھی واقعہ خبر بن کر ایک اخبار میں چھپنے سے پہلے اُس تخلیقی عمل سے دوچار نہیں ہوتا جس کا اِمکان فکشن کے اندر ہوتا ہے۔ میں نے یہاں ’’اِمکان‘‘ کا لفظ جان بوجھ کر اِستعمال کیا ہے اور اِس کا سبب یہ ہے کہ ایک خبر عین مین ایک مکمل کہانی ہوسکتی ہے یا پھر اسی خبر کو کہانی کا جزو بھی بنایا جا سکتا ہے تا ہم یادرکھا جانا چاہییے کہ فکشن پارے کی مجموعی فضا میں اُس کی جُون بدل جاتی ہے۔ یہاں پہنچتے ہی خبر کی طرح ضبط تحریر میں لایا گیا واقعہ وقت اور حقیقت کومٹھی میں کر لیتا ہے۔ وقت اورحقیقت کی قید سے میری مراد لگ بھگ وہی ہے جو راجندر سنگھ بیدی کے نزدیک اس کی تھی۔ اُس نے اَپنا تخلیقی تجربہ بیان کرتے ہوئے لکھا تھا:’’ جب کوئی واقعہ مشاہدے میں آتا ہے تو میں اُسے مِن و عن بیان کر دینے کی کوشش نہیں کرتا ‘ بلکہ حقیقت اور تخیل کے اِمتزاج سے جو چیز پیدا ہوتی ہے اُسے احاطہ ٔ تحریر میں لانے کی سعی کرتا ہوں‘‘ بیدی نے ایک اور کتاب کے دِیباچے میں دُنیا کو پرانے فلسفیوں کے تخیل کی طرح مانتے ہوئے کہا تھا کہ ہم شروع اور آخر کے انداز میں سوچنے والے اِس تخیل کی با بت دُھندلا سا تصور تو باندھ سکتے ہیں‘ اِس کی گہرائی کو نہیں پاسکتے۔ اِسی خیال کے زیرِاَثر جس میں ’’عالم تمام حلقہ ٔ دامِ خیال ہے ‘‘اُس نے فکشن کے واقعہ کو افسانوی سازش کہا تھا۔ تو صاحب یوں ہے کہ فکشن کی کہانی کا واقعہ بظاہرعام واقعہ ہو کر بھی عام نہیں رہتا اِس کی کیمسٹری بدل جاتی ہے، تو اس کی کیمسٹری بدل دینے کا معجزہ یہ بیانیہ ہی دکھایا کرتا ہے۔ میں نے اپنی کتاب ’’اردو افسانہ:صورت و معنیٰ‘‘ میں فاروقی صاحب کے اس ضمن کے مباحث پر بات کی ہے ، وہی یہاں دہرا نے کی اجازت چاہوں گا۔ فاروقی صاحب نے بیانیہ کے باب میں ایک اصول متعین کرتے ہوئے جو لکھا پہلے وہ دیکھ لیں:
’’۔۔۔وُہ بیان جس میں کسی قسم کی تبدیلی کا ذِکر ہو اسے ’ایونٹ‘یعنی واقعہ کہا جائے گا۔‘‘
اور اب ان مثالوں کو دیکھیں جنہیں واقعہ کہا گیا ہے:
’’۱۔ اُس نے دَروازہ کھول دیا۔
۲۔ دروازہ کھلتے ہی کتا اَندر آگیا۔
۳۔ کتا اُس کو کا ٹنے دَوڑا۔
۴۔ وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔‘‘
فاروقی کی نظر میں جن بیانات سے واقعہ قائم نہیں ہوتا وہ یہ ہیں:
’’۱۔ کتے بھونکتے ہیں۔
۲۔ اِنسان کتوں سے ڈرتا ہے۔
۳۔ ہر کتے کے جبڑے مضبوط ہوتے ہیں۔
۴۔ کتے کے نوکدار دانتوں کو داندانِ کلبی کہا جاتا ہے‘‘
اوپر کے چاروں بیانات جنہیں فاروقی صاحب نے دلچسپ تو تسلیم کیا ہے مگر ان سے واقعے کے قیام کے امکانات کو رد کیا ہے ‘ عمومی واقعے اور فکشن کے واقعے میں حدِ فاصل قائم نہ کرنے کا شاخسانہ ہیں۔ ایک لمحے کو تصور باندھیے کہ کتوں کے بارے میں یہ معلومات کہانی میں محض کتے کے حوالے سے نہیں آرہی ہیں۔ کہانی ایک ایسے مسلح آدمی کی بیان ہورہی ہے جو آدمیت کے منصب کو جھٹک چکا ہے۔ اَب آپ دیکھیں گے کہ اُوپر کے سارے بیانات سے واقعہ قائم ہونے لگا ہے۔ آدمیت کے منصب کو جھٹکنے والا آدمی بول رہا ہے اور قاری ایک کتے کو بھونکتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔ آدمی کے سامنے سہمے ہوئے لو گ گم سم کھڑے ہیں جبکہ پڑھنے ولاایک کتے کے منھ سے ٹپکتی دہشت کی جھاگ کا تصور باندھ رہا ہے۔ مسلح آدمی کے اسلحے پر قاری کی نظر پڑتی ہے تو وہ تصور میں ایسے کتے کو لاتا ہے جس کے جبڑے مضبوط ہیں۔ مسلح آدمی کے تیز دھار خنجر کا کوئی بھی نام ہو مگر قاری کتے کے داندان ِکلبی کا تصور باندھتا ہے … تو صاحب ایک آدمی عین چار جملوں میں چیرتا پھاڑتا کتا ہو گیا اور آپ کہتے ہے کہ کوئی واقعہ قائم نہیں ہوا ؟ واقعہ یہ ہے کہ ہر جملے کے ساتھ ہی قاری کے ذہن میں اس آدمی کے بارے میں تصور تبدیل ہوتا رہا ہے۔ یوں چار واقعات باہم مل کر ایک ایسی کہانی بناتے ہیں جو اِحساس کی سطح پر تو حرکی ہے مگر خارج میں فقط بیان ہے۔یہ بیانیہ ہی ہوتا ہے جو متن کی باطنی ترکیب اور ترتیب کو حرکی بناتا ہے۔
اب رہا کہانی پن کا مسئلہ، تو یوں ہے صاحب فکشن اور کہانی پن تو ایک دوسرے میں گتھے ہوئے تھے ، یوں پیوست تھے کہ انہیں الگ الگ کرنا ممکن نہ تھا ، مگر یہ ’’کارنامہ‘‘ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں علامت نگاروں اور تجرید کاروں نے سر انجام دیا اور افسانے کو انشائیہ بنا ڈالا تھا پھر جب وہ ایسی تحریریں لکھنے سے خود ہی اوب گئے کہ جنہیں پڑھنے کو کوئی قاری نہ تھا توسجدہ سہو کیا اور کہا کہ لو جی ، افسانے میں کہانی واپس آگئی ہے‘‘ مجھے یوں لگتا ہے ہمارے علامت نگاروں اور تجرید کاروں سے کہیں زیادہ معاملہ فہم تو پریم چند تھے جن کا کہنا تھا ’’موجودہ افسانے کا بنیادی نقطہ ہی ذہنی اتار چڑھائو ہے۔واقعات اور کردار تو اس نفسیاتی حقیقت کی تصدیق کے لیے ضروری ہیں ‘‘ خیر وقت گزرا ہے تو اب یوں ہے کہ وہ جو نفسیاتی حقیقت کے لیے ضروری کہانی پن پر ’پریم چندی افسانے‘ کی پھبتی کستے تھے، کہانی لکھنے کے تخلیقی عمل سے وابستہ ہوئے ہیں تو اس میں پوری تہذیب کو زندہ کر لیا ہے اور وہ جو ذہنی کیفیت اور اتارچڑھائو کی ہنڈیا چڑھانے کو ہی افسانہ سمجھتے تھے، واقعاتی تصدیق کے قائل نہ تھے ،کہانی کی واپسی کی خبر دے رہے ہیں۔یہ فکشن کے حق میں بہت اچھا ہوا ہے کہ اب کہانی پن کوئی مسئلہ نہیں رہا ہے اور اس باب میں افسانے کی’’ اُمت کا اجماع‘‘ ہو گیا ہے کہ فکشن میں کہانی پن اس کے بنیادی عناصر میں سے ایک ہے۔
(ابوالکلام قاسمی( مرحوم) نے معاصراُردو فکشن ،روایت اور امکانات کے عنوان سے ایک بحث کو تحریک دینے کے لیے اپنے جریدے’’امروز‘‘ علی گڑھ کے لیے مختلف ادیبوں کوکچھ سوالات لکھ کر بھیجے تھے۔ ان میں سے ایک سوال تھا:’’ آپ مشہور اور مقبول ترین اصطلاحات بیانیہ اور کہانی پن کی بازیافت کے سلسلے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟‘‘ یہ اقتباس اس سوال کے جواب سے ہے جو امروز میں شائع ہونے والی گفتگو کا حصہ تھا۔)