Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » بیانیہ اور کہانی پن

بیانیہ اور کہانی پن

محمد حمید شاہد

کی طرف سے Ranaayi مارچ 7, 2026
کی طرف سے Ranaayi مارچ 7, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
39

فکشن میں بیانیہ ہی ہے جو ایک واقعہ کو کہانی اور کہانی کو افسانہ بناتا ہے ، جی بیان نہیں بیانیہ۔ کون نہیں جانتا کہ فکشن میں کہانی کا تصور کہانی کے عمومی تصور سے یکسر مختلف ہو جاتا ہے۔ جسے میں نے کہانی کا عمومی تصور کہا ہے اُسے آپ نان فکشن کی ذیل میں رَکھ سکتے ہیں۔ دیکھئے کوئی بھی واقعہ خبر بن کر ایک اخبار میں چھپنے سے پہلے اُس تخلیقی عمل سے دوچار نہیں ہوتا جس کا اِمکان فکشن کے اندر ہوتا ہے۔ میں نے یہاں ’’اِمکان‘‘ کا لفظ جان بوجھ کر اِستعمال کیا ہے اور اِس کا سبب یہ ہے کہ ایک خبر عین مین ایک مکمل کہانی ہوسکتی ہے یا پھر اسی خبر کو کہانی کا جزو بھی بنایا جا سکتا ہے تا ہم یادرکھا جانا چاہییے کہ فکشن پارے کی مجموعی فضا میں اُس کی جُون بدل جاتی ہے۔ یہاں پہنچتے ہی خبر کی طرح ضبط تحریر میں لایا گیا واقعہ وقت اور حقیقت کومٹھی میں کر لیتا ہے۔ وقت اورحقیقت کی قید سے میری مراد لگ بھگ وہی ہے جو راجندر سنگھ بیدی کے نزدیک اس کی تھی۔ اُس نے اَپنا تخلیقی تجربہ بیان کرتے ہوئے لکھا تھا:’’ جب کوئی واقعہ مشاہدے میں آتا ہے تو میں اُسے مِن و عن بیان کر دینے کی کوشش نہیں کرتا ‘ بلکہ حقیقت اور تخیل کے اِمتزاج سے جو چیز پیدا ہوتی ہے اُسے احاطہ ٔ تحریر میں لانے کی سعی کرتا ہوں‘‘ بیدی نے ایک اور کتاب کے دِیباچے میں دُنیا کو پرانے فلسفیوں کے تخیل کی طرح مانتے ہوئے کہا تھا کہ ہم شروع اور آخر کے انداز میں سوچنے والے اِس تخیل کی با بت دُھندلا سا تصور تو باندھ سکتے ہیں‘ اِس کی گہرائی کو نہیں پاسکتے۔ اِسی خیال کے زیرِاَثر جس میں ’’عالم تمام حلقہ ٔ دامِ خیال ہے ‘‘اُس نے فکشن کے واقعہ کو افسانوی سازش کہا تھا۔ تو صاحب یوں ہے کہ فکشن کی کہانی کا واقعہ بظاہرعام واقعہ ہو کر بھی عام نہیں رہتا اِس کی کیمسٹری بدل جاتی ہے، تو اس کی کیمسٹری بدل دینے کا معجزہ یہ بیانیہ ہی دکھایا کرتا ہے۔ میں نے اپنی کتاب ’’اردو افسانہ:صورت و معنیٰ‘‘ میں فاروقی صاحب کے اس ضمن کے مباحث پر بات کی ہے ، وہی یہاں دہرا نے کی اجازت چاہوں گا۔ فاروقی صاحب نے بیانیہ کے باب میں ایک اصول متعین کرتے ہوئے جو لکھا پہلے وہ دیکھ لیں:

’’۔۔۔وُہ بیان جس میں کسی قسم کی تبدیلی کا ذِکر ہو اسے ’ایونٹ‘یعنی واقعہ کہا جائے گا۔‘‘

اور اب ان مثالوں کو دیکھیں جنہیں واقعہ کہا گیا ہے:

’’۱۔ اُس نے دَروازہ کھول دیا۔

۲۔ دروازہ کھلتے ہی کتا اَندر آگیا۔

۳۔ کتا اُس کو کا ٹنے دَوڑا۔

۴۔ وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔‘‘

فاروقی کی نظر میں جن بیانات سے واقعہ قائم نہیں ہوتا وہ یہ ہیں:

’’۱۔ کتے بھونکتے ہیں۔

۲۔ اِنسان کتوں سے ڈرتا ہے۔

۳۔ ہر کتے کے جبڑے مضبوط ہوتے ہیں۔

۴۔ کتے کے نوکدار دانتوں کو داندانِ کلبی کہا جاتا ہے‘‘

اوپر کے چاروں بیانات جنہیں فاروقی صاحب نے دلچسپ تو تسلیم کیا ہے مگر ان سے واقعے کے قیام کے امکانات کو رد کیا ہے ‘ عمومی واقعے اور فکشن کے واقعے میں حدِ فاصل قائم نہ کرنے کا شاخسانہ ہیں۔ ایک لمحے کو تصور باندھیے کہ کتوں کے بارے میں یہ معلومات کہانی میں محض کتے کے حوالے سے نہیں آرہی ہیں۔ کہانی ایک ایسے مسلح آدمی کی بیان ہورہی ہے جو آدمیت کے منصب کو جھٹک چکا ہے۔ اَب آپ دیکھیں گے کہ اُوپر کے سارے بیانات سے واقعہ قائم ہونے لگا ہے۔ آدمیت کے منصب کو جھٹکنے والا آدمی بول رہا ہے اور قاری ایک کتے کو بھونکتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔ آدمی کے سامنے سہمے ہوئے لو گ گم سم کھڑے ہیں جبکہ پڑھنے ولاایک کتے کے منھ سے ٹپکتی دہشت کی جھاگ کا تصور باندھ رہا ہے۔ مسلح آدمی کے اسلحے پر قاری کی نظر پڑتی ہے تو وہ تصور میں ایسے کتے کو لاتا ہے جس کے جبڑے مضبوط ہیں۔ مسلح آدمی کے تیز دھار خنجر کا کوئی بھی نام ہو مگر قاری کتے کے داندان ِکلبی کا تصور باندھتا ہے … تو صاحب ایک آدمی عین چار جملوں میں چیرتا پھاڑتا کتا ہو گیا اور آپ کہتے ہے کہ کوئی واقعہ قائم نہیں ہوا ؟ واقعہ یہ ہے کہ ہر جملے کے ساتھ ہی قاری کے ذہن میں اس آدمی کے بارے میں تصور تبدیل ہوتا رہا ہے۔ یوں چار واقعات باہم مل کر ایک ایسی کہانی بناتے ہیں جو اِحساس کی سطح پر تو حرکی ہے مگر خارج میں فقط بیان ہے۔یہ بیانیہ ہی ہوتا ہے جو متن کی باطنی ترکیب اور ترتیب کو حرکی بناتا ہے۔

اب رہا کہانی پن کا مسئلہ، تو یوں ہے صاحب فکشن اور کہانی پن تو ایک دوسرے میں گتھے ہوئے تھے ، یوں پیوست تھے کہ انہیں الگ الگ کرنا ممکن نہ تھا ، مگر یہ ’’کارنامہ‘‘ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں علامت نگاروں اور تجرید کاروں نے سر انجام دیا اور افسانے کو انشائیہ بنا ڈالا تھا پھر جب وہ ایسی تحریریں لکھنے سے خود ہی اوب گئے کہ جنہیں پڑھنے کو کوئی قاری نہ تھا توسجدہ سہو کیا اور کہا کہ لو جی ، افسانے میں کہانی واپس آگئی ہے‘‘ مجھے یوں لگتا ہے ہمارے علامت نگاروں اور تجرید کاروں سے کہیں زیادہ معاملہ فہم تو پریم چند تھے جن کا کہنا تھا ’’موجودہ افسانے کا بنیادی نقطہ ہی ذہنی اتار چڑھائو ہے۔واقعات اور کردار تو اس نفسیاتی حقیقت کی تصدیق کے لیے ضروری ہیں ‘‘ خیر وقت گزرا ہے تو اب یوں ہے کہ وہ جو نفسیاتی حقیقت کے لیے ضروری کہانی پن پر ’پریم چندی افسانے‘ کی پھبتی کستے تھے، کہانی لکھنے کے تخلیقی عمل سے وابستہ ہوئے ہیں تو اس میں پوری تہذیب کو زندہ کر لیا ہے اور وہ جو ذہنی کیفیت اور اتارچڑھائو کی ہنڈیا چڑھانے کو ہی افسانہ سمجھتے تھے، واقعاتی تصدیق کے قائل نہ تھے ،کہانی کی واپسی کی خبر دے رہے ہیں۔یہ فکشن کے حق میں بہت اچھا ہوا ہے کہ اب کہانی پن کوئی مسئلہ نہیں رہا ہے اور اس باب میں افسانے کی’’ اُمت کا اجماع‘‘ ہو گیا ہے کہ فکشن میں کہانی پن اس کے بنیادی عناصر میں سے ایک ہے۔

(ابوالکلام قاسمی( مرحوم) نے معاصراُردو فکشن ،روایت اور امکانات کے عنوان سے ایک بحث کو تحریک دینے کے لیے اپنے جریدے’’امروز‘‘ علی گڑھ کے لیے مختلف ادیبوں کوکچھ سوالات لکھ کر بھیجے تھے۔ ان میں سے ایک سوال تھا:’’ آپ مشہور اور مقبول ترین اصطلاحات بیانیہ اور کہانی پن کی بازیافت کے سلسلے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟‘‘ یہ اقتباس اس سوال کے جواب سے ہے جو امروز میں شائع ہونے والی گفتگو کا حصہ تھا۔)

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • تراشیدم، پرستیدم، شکستم (افسانہ)
  • رومی کے چند اشعار کا ترجمہ
  • منقبت حضرت عباس بن عبد المطلب
  • غالب کے چند فارسی شعر مع اردو (ویڈیو)
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
جدید دور کی مہلک ترین بیماری
اگلی تحریر
سیدہ عابدہ حسین؛ اقتدار سے مطالعے تک

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

جہانِ گزراں (یہ دنیا رنگ رنگیلی بابا)

دسمبر 26, 2025

عربی زبان کے عالمی دن کے حوالے سے چند باتیں

دسمبر 15, 2025

تخلیقی فرصت

دسمبر 8, 2025

مرزا بیدل کی ایک نعت

فروری 19, 2026

انجنہاری کی گھریا؛ایک مطالعہ (دوسری قسط)

دسمبر 9, 2025

گزرتے برس کی ایک اہم کتاب

دسمبر 22, 2025

بکھری ہے میری داستاں؛ ایک مطالعہ

جنوری 5, 2026

نئے سال کی آمد پر ایک نظم

جنوری 3, 2026

آدمی (افسانہ)

دسمبر 28, 2025

سنسکرت کی دو کتابیں اور چند جملے

دسمبر 30, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • محمد حمید شاہد کی سالگرہ
  • شوگر کی دواؤں کی چھٹی؟
  • سیدہ عابدہ حسین؛ اقتدار سے مطالعے تک
  • بیانیہ اور کہانی پن
  • جدید دور کی مہلک ترین بیماری

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 318 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 302 views
  • 3

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 294 views
  • 4

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 288 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 262 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (44)
  • انٹرویوز (4)
  • بچے (2)
  • بلاگ (44)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (31)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • محمد حمید شاہد کی سالگرہ

    مارچ 25, 2026
  • شوگر کی دواؤں کی چھٹی؟

    مارچ 11, 2026
  • سیدہ عابدہ حسین؛ اقتدار سے مطالعے تک

    مارچ 9, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (44)
  • انٹرویوز (4)
  • بچے (2)
  • بلاگ (44)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (31)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

شعری مجموعہ ‘گلِ دوگانہ’

دسمبر 19, 2025

نئے سال کی آمد پر ایک...

جنوری 3, 2026

ایک نئی زبان کیوں سیکھی جائے؟

دسمبر 11, 2025
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here