میری 69 ویں سالگرہ پر نسیم سید نے ایک تحریر اور ایک تصویربھیجی ، تحریر میں ایک سوال بھی ہے کہ ایک لکھنے والے کا تخلیقی لمحوں میں ایک گوشے میں جا کر بیٹھ جانے کا سبب کیا ہو سکتا ہے؟ ۔ میں نے اس پر پہلے نہیں سوچا مگر اب مڑ کر پیچھے دیکھتا ہوں تو لگتا ہے جیسے میری ساری تخلیقی زندگی گھر کے اندر ایک کمرے کے گوشے میں گزری ہے ۔ گھر بدلتے رہے تو بھی میں ایسا کونا تلاش کر لیتا تھا جہاں میں سکون سے الگ تھلگ بیٹھا رہوں اور اسی طرح مجھے لکھنے کی تحریک ملتی رہی ہے۔ کبھی موقع نکلا تو میں اس پر ضرور لکھوں گا فی الحال نسیم سید کی تحریر آپ کے لیے۔ م ح ش
۔۔۔۔۔
ایک چھوٹا سا تخلیقی جزیرہ
از: نسیم سید
حمید شاہد صاحب سے پہلی ملاقات بڑی دلچسپ تھی ۔ ہوا یہ کہ کراچی اردو کانفرنس کے جس سیشن میں ناول اور افسانے پر گفتگو ہورہی تھی اس میں ہر ادیب نے حمید شاہد صاحب کے ناول ” مٹی آدم کھا تی ہے” کا ذکر بہترین ناول کے طور کیا خاص کر شمیم حنفی صاحب نے تفصیل سے ستائش کی۔ لہذا ناول ان تمام بک اسٹالز پر ڈھونڈی جو آرٹس کونسل میں اس وقت موجود تھیں مگر تمام کاپیز بک چکی تھیں ۔ چند دنوں کے بعد میرا اسلام آباد جانا ہوا اور حلقہ کے پروگرام میں شرکت کا موقع ملا ۔ واپسی پر منتظمین نے بتایا کہ آپ کی رائیڈ کا انتظام ہو گیا ہے۔ راحت سعید مرحوم بھی ہمارے ساتھ تھے۔ وہ مستقل، جو صاحب گاڑی چلا رہے تھے، ان سے باتیں کر رہے تھے۔ اچانک انہوں نے کہا ” بھئ حمید شاہد صاحب” تو میری حیرانی اور خوشی نے ان کی بات کاٹ دی ” حمید شاہد صاحب ، یعنی کہ ‘مٹی آدم کھا تی ہے’ والے حمید شاہد ؟ ” انہوں نے قہقہہ لگایا ” جی یہ خاکسار ہی ہے” واقعی تلاش سچی ہو تو کتاب مع مصنف کے مل سکتا ہے خیرتو انہوں نے گاڑی اپنے گھر کی طرف موڑ دی۔ یاسمین نے بارہ بجے یا شاید ایک بجے رات کو گرم گرم کباب تلے۔ باتیں کرتے کرتے حمید شاہد صاحب اپنے بیڈ روم میں لے گئے اور ہم تینوں کو تازہ تخلیق کا کچھ حصہ سنایا مجھے ‘مٹی آدم کھا تی ہے’ دستخط شدہ ملی ۔
آمدم بر سر مطلب ، اس کمرے میں ا یک کونا تھا کمرے کا جہاں ایک چھوٹی سی میز، ایک کرسی ، ان کا لیپ ٹاپ ،کچھ کتابیں تھیں گویا ان کی تخلیقی ریاست و فکری کائنات کو یہ بہت چھوٹی سی جگہ خوش آئی۔ دوبارہ ملاقات ہوئی تو ویسا ہی ایک گوشہ اور وہی کرسی وہی میز ۔جہاں ان کی فکرمراقبہ کرتی ہوگی۔ اس سال ان کے نئے گھر گئی تو ہوبہو وہی ایک کونا کمرے کا، وہی میز وہی کرسی، لیپ ٹاپ اور کچھ کتابیں میں سوچ رہی تھی کہ اس گوشہ نے حمید شاہد صاحب کی ہر تحریر کو خود میں جذب کیا ہوگا۔ کتنا قیمتی ہے یہ سب کچھ۔۔ میں نے سوچا۔ مجھے کبھی کی پڑھی ہوئی بات یاد آئی کہ اکثر معروف لکھاریوں کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ ان کے پاس لکھنے کے لئے ایک مخصوص گوشہ یا جگہ ہوتی ہے اور ساتھ ہی اس جگہ سے وابستگی کی وجوہات بھی تھیں۔ اس کتاب کا کہنا تھاکہ کسی مخصوص گوشے سے تعلق کی کئی نفسیاتی، تخلیقی اورعملی وجوہات ہوسکتی ہیں، مثلاً
ذہنی یکسوئی اور سکون ۔ تخلیق کے لئے یکسوئی بہت ضروری ہوتی ہے۔ جب لکھاری ایک ہی جگہ بیٹھ کر بار بار لکھتا ہے تو وہ جگہ اس کے ذہن کو سکون اور توجہ فراہم کرتی ہے۔ آہستہ آہستہ اس جگہ پر بیٹھتے ہی ذہن تخلیقی کیفیت میں داخل ہونے لگتا ہے۔یا پھر انسان کا ذہن جگہوں کے ساتھ یادیں اور کیفیتیں جوڑ لیتا ہے۔ جب ایک مصنف ہمیشہ ایک ہی میز، ایک ہی کمرے یا ایک ہی کھڑکی کے پاس لکھتا ہے تو شاید اس جگہ سے اس کے ذہن کا تخلیقی ربط قائم ہو جاتا ہے اور یہ وہاں بیٹھتے ہی خیالات بہنے لگتے ہیں۔ اور پھر یہ بھی تو ہے کہ ادب تخلیق کرنا دراصل ایک طرح کی اندرونی گفتگو ہے۔ شور، ہجوم یا بار بار کی مداخلت اس عمل کو توڑ دیتی ہے۔ اس لئے بہت سے ادیب ایک ایسا گوشہ منتخب کرتے ہیں جہاں خلوت اور خاموشی ہو
کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ یہ علامتی اور جذباتی وابستگی ہو کہ وہ جگہ صرف عملی نہیں بلکہ علامتی اہمیت بھی رکھتی ہے اور پھر کسی کے لئے وہ کھڑکی جس سے آسمان نظر آتا ہے، کسی کے لئے کتابوں سے بھرا کمرہ، اور کسی کے لئے ایک چھوٹی سی میز۔۔ یہ سب اس کے تخلیقی سفر کے ساتھی بن جاتے ہیں۔
جس طرح موسیقار کے لئے ساز اور مصور کے لئے اسٹوڈیو ضروری ہوتا ہے، اسی طرح ادیب کے لئے بھی ایک مخصوص گوشہ اس کی ریاضت کی جگہ بن جاتا ہے ۔ ان سب سوالوں کے بعد میرے ذہن نے فیصلہ کیا کہ لکھنے والا اپنے لئے ایک چھوٹا سا جزیرہ بنا لیتا ہے
جہاں دنیا کی آوازیں مدھم پڑ جاتی ہیں اورصرف خیال کی لہریں سنائی دیتی ہیں۔
یہ سب کچھ کبھی کا پڑھا ہوا یاد آیا تو دل نے کہا
حمید شاہد کیا کہتے ہیں ان سے تو پوچھیں۔
تو حمید شاہد صاحب بتائیے، کیا اکثر بڑے ادیبوں کی طرح آپ کے لئے اس گوشئہ الہام کی اہمیت ہے؟
کیا اس کرسی اس میز سے کوئ رشتہ کوئی تعلق بن گیا ہے؟
ذرا اپنی کہانیوں جیسا بیان کریں ۔
۔۔۔۔۔
(سالگرہ کی بہت بہت مبارکباد قبول کیجئے ۔ دراصل اس تصویر کے ساتھ مبارک باد لکھ رہی تھی تو پھر لکھتی چلی گئی۔ ن س)