Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » قبائلی بیٹیوں کے خواب اور خاموش دیواریں

قبائلی بیٹیوں کے خواب اور خاموش دیواریں

فہد یوسفزئی

کی طرف سے Ranaayi فروری 25, 2026
کی طرف سے Ranaayi فروری 25, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
175

پختونخوا کے قبائلی علاقے آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ یہاں بجلی کا نظام اکثر خراب رہتا ہے، انٹرنیٹ نہ ہونے کے برابر ہے اور تعلیمی اداروں کی حالت بھی تسلی بخش نہیں۔ سڑکیں ٹوٹی پھوٹی، ہسپتال دور اور روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ ان علاقوں میں ٹیلنٹ نہیں، تو یہ سراسر زیادتی ہوگی۔ جیسے قدرت نے ان علاقوں کو معدنیات، خوبصورت پہاڑوں، سرسبز کھیتوں اور دلکش موسم سے نوازا ہے۔ اسی طرح یہاں کے لوگ بھی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں، فرق صرف مواقع کا ہے۔

خاص طور پر لڑکیوں کے لیے ترقی کا راستہ اور بھی مشکل ہے۔ اگر کوئی بچی غیر معمولی صلاحیت لے کر پیدا بھی ہو جائے تو اسے مذہب، ثقافت، روایت اور غیرت کے نام پر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ اسے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اس کے خواب اس کے اپنے نہیں بلکہ خاندان اور معاشرے کی مرضی کے تابع ہیں۔

ان ہی علاقوں نے کئی توانا آوازوں کو جنم دیا ہے۔ رضیہ محسود، خکلا مہمند، جمائمہ آفریدی، وگمہ فیروز ، گل نساء وزیر جیسی باہمت خواتین اسی دھرتی کی بیٹیاں ہیں۔ انہی میں ایک ننھی سی بچی آئنہ وزیر بھی ہے، جس کی عمر صرف آٹھ سال ہے۔

آئنہ اچانک ایک ویڈیو کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہوگئی۔ اس کی بولنگ دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے۔ کہا گیا کہ یہ بچی جنوبی افریقہ کے فاسٹ بولر ڈیل سٹین کی طرح گیند کروا سکتی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا نے اس پر خبریں چلائیں۔ پاکستان میں بھی ہر طرف اس کا ذکر ہونے لگا۔ گورنر خیبر پختونخوا، سیاست دان، کھیلوں کے ستارے اور سماجی کارکن سب نے اسے سراہا۔ پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی اس کی بولنگ سے اتنے متاثر ہوئے کہ اسے زلمی ویمن لیگ میں نامزد کیا۔ لاہور قلندر کی جانب سے بھی اسے اسلام آباد آنے کی دعوت دی گئی۔ آئنہ اور اس کی فیملی کے لیے یہ کسی خواب سے کم نہیں تھا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئنہ نے اپنے مرحوم والد کی خواہش کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ اچھی تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے۔ وہ کرکٹ میچز دیکھنے کا شوق رکھتی ہے، مگر علاقے میں سگنل کم ہونے کی وجہ سے وہ براہ راست میچ نہیں دیکھ پاتی۔ اس کا کزن منظور بازار جا کر کرکٹ میچز کی ویڈیوز خرید کر لاتا تھا تاکہ آئنہ انہیں دیکھ کر سیکھ سکے۔ ایک بچی کا یہ جذبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیلنٹ سہولیات کا محتاج نہیں ہوتا، مگر اسے آگے بڑھنے کے لیے ماحول کی ضرورت ضرور ہوتی ہے۔ مگر یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ اچانک خبر آئی کہ آئنہ کی ویڈیو بنانے والے سماجی کارکن کو نامعلوم افراد نے اغوا کیا، تشدد کا نشانہ بنایا اور ہراساں کیا۔ بعد میں اس شرط پر چھوڑا گیا کہ وہ ویڈیو میں معافی مانگے اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ کرے۔ اس واقعے کے بعد ایک قدامت پسند سوچ رکھنے والے افراد بھی سرگرم ہوگئے۔ انہوں نے سوال اٹھانا شروع کر دیے کہ کیا آئنہ میدان میں کھیلے گی؟ کیا وہ تعلیم حاصل کرے گی؟ کیا وہ لڑکوں کے ساتھ کرکٹ کھیلے گی؟ کیا یہ سب اسلام اور پشتون روایات کے خلاف نہیں؟

ایسے سوالات نے ایک معصوم بچی کے خوابوں کو خوف میں بدل دیا۔ خاندان کو اپنی جان کا خطرہ محسوس ہوا اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل ہونا پڑا۔ یوں ایک ابھرتا ہوا ٹیلنٹ دباؤ اور دھمکیوں کی نذر ہوگیا۔

یہ صرف آئنہ کی کہانی نہیں۔ یہ قبائلی علاقوں کی ہر اس لڑکی کی کہانی ہے جو کچھ بننا چاہتی ہے، کچھ کرنا چاہتی ہے، مگر اسے روک دیا جاتا ہے۔ پدر شاہی نظام میں لڑکی کے خواب اکثر خاندان کی عزت کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔

دوسری طرف اگر ہم خیبر پختونخوا سے باہر کے علاقوں کو دیکھیں تو وہاں تعلیمی اداروں میں طالبات کو کھیلنے، سیکھنے اور آگے بڑھنے کے مواقع ملتے ہیں۔ وہ اپنی دوستوں کے ساتھ میدان میں جا سکتی ہیں، مقابلوں میں حصہ لے سکتی ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکتی ہیں۔ کھیل اور تعلیم ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور یہی چیز ان کے اعتماد کو بڑھاتی ہے۔

لیکن خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں آئنہ نہ کھل کر کھیل سکتی ہے اور نہ ہی کوئی اس کی ویڈیو بنا سکتا ہے۔ اگر کوئی اس کا ٹیلنٹ سامنے لانے کی کوشش کرے تو اسے دھمکیوں، ہراسانی اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات جبری معافی تک منگوائی جاتی ہے۔ اس طرح نہ صرف ایک بچی بلکہ پورے معاشرے کا مستقبل متاثر ہوتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ پورے پاکستان میں ہر آئنہ کو یکساں مواقع، تحفظ اور آزادی دی جائے۔ اسے یہ حق ملے کہ وہ تعلیم حاصل کرے، کھیل میں حصہ لے اور اپنے خواب پورے کرے۔ خواتین کو محفوظ اور بااختیار بنائے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ اگر ہم واقعی مضبوط پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں ہر بیٹی کے خواب کی حفاظت کرنا ہوگی۔ کیونکہ جب ایک لڑکی آگے بڑھتی ہے تو صرف وہ نہیں بلکہ پورا معاشرہ آگے بڑھتا ہے۔

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • کیا عقلی دلیل ممنوع ہے ؟
  • خوشیاں، کلچر اور احتیاط
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ
  • ٹالسٹائی کی قوم اور کتاب بینی
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
معین نظامی کی مخطوطہ شناسی
اگلی تحریر
Tongues , Identity & Region

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

امریکہ میں ممدانی اور قرآن

جنوری 4, 2026

اے آئی کی کلہاڑی

دسمبر 31, 2025

پاکستان سے ڈاکٹروں کی ہجرت کا مطلب کیا ہے؟

فروری 22, 2026

میں اور سید کاشف رضا

فروری 26, 2026

ہماری تفریحی سرگرمیاں

دسمبر 31, 2025

دو ستارے ڈوب گئے

اکتوبر 12, 2026

پنجابی کھوج گڑھ؛ یادگار کارنامہ

دسمبر 29, 2025

خوشیاں، کلچر اور احتیاط

فروری 9, 2026

جدید دور کی مہلک ترین بیماری

مارچ 7, 2026

سخن ہائے گفتنی

فروری 1, 2026

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • تحویل کی تحلیل (3)
  • دو ستارے ڈوب گئے
  • تحویل کی تحلیل (دوسری قسط)
  • تحویل کی تحلیل (قسط اول)
  • شعوری کوشش کرتا اقبال خورشید

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    لاہور بک فیئر کی تاریخوں کا اعلان کر...

    دسمبر 9, 2025 450 views
  • 2

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 443 views
  • 3

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 437 views
  • 4

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 427 views
  • 5

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 417 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (48)
  • انٹرویوز (4)
  • بچے (2)
  • بلاگ (46)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (31)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • تحویل کی تحلیل (3)

    اکتوبر 19, 2026
  • دو ستارے ڈوب گئے

    اکتوبر 12, 2026
  • تحویل کی تحلیل (دوسری قسط)

    اکتوبر 1, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (48)
  • انٹرویوز (4)
  • بچے (2)
  • بلاگ (46)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (31)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

پنجابی کھوج گڑھ؛ یادگار کارنامہ

دسمبر 29, 2025

چند ادبی و سماجی مسائل

دسمبر 28, 2025

امریکہ میں ممدانی اور قرآن

جنوری 4, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here