Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » سخن ہائے گفتنی

سخن ہائے گفتنی

محمد امین الدین

کی طرف سے Ranaayi فروری 1, 2026
کی طرف سے Ranaayi فروری 1, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
168

دوستو!

آزاد انصاری نے کہا تھا

افسوس بے شمار سخن ہائے گفتنی

خوف فساد خلق سے ناگفتہ رہ گئے

کیا کسی کو یاد ہے کہ ۱۹۶۰ کے آس پاس حیدرآباد میں نواب مظفر نے کن حالات سے مجبور ہوکر مہاجر اتحاد کونسل نامی تنظیم بنائی تھی۔

یہ ایم کیو ایم کے قیام سے ۲۴ سال پہلے کی بات ہے۔

میں خود کو ہمیشہ اُردو اسپیکنگ سندھی کہتا اور سمجھتا ہوں۔

مجھے اس پر فخر ہے کہ میرے والدین نے نا کسی مکان پر قبضہ کیا، نا کلیم سے کچھ حاصل کیا اور نا ہی اس کا بدل مانگا جو ہندوستان میں چھوڑ آئے تھے۔

میں نے حیدرآباد اور کراچی، دونوں شہروں میں راحت، رفاقت، رقابت اور سوالوں بھری سماجی زندگی گزاری ہے۔

میں نے کبھی کسی لسانی جماعت کو ووٹ نہیں دیا۔ کبھی ان کا جلسہ اٹینڈ نہیں کیا۔ کوئی تقریر نہیں سُنی۔

۱۹۷۹ میں جب بھٹو صاحب اور ۲۰۰۷ میں بی بی کو قتل کیا گیا، وہ دونوں دن میرے لئے بہت تکلیف دہ تھے۔ میں دونوں کو حقیقی لیڈر کی طرح دیکھتا ہوں۔ ( میری آپ بیتی میں اس کا ذکر بھی موجود ہے)

۱۹۸۴سے ۲۰۱۶ تک سرکاری ملازمت کے دوران میں نے انسانی سماج کے جو رُخ دیکھے ہیں اسے بیان کرنے کے لئے مجھے ایک اور آپ بیتی لکھنا پڑے گی، جو کہ بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے۔

محبوب خزاں نے کہا ہے کہ

جسارت دل میں کیا ہو، فن میں کیا ہو

ملازم پیشہ ہیں ڈرتے بہت ہیں

میں ہر طرح کی آمریت کا مخالف ہوں، ضیا کا سخت ناقد مگر مشرف کے چند بہترین کام مثلا نادرہ کے ذریعے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ، برتھ، ڈیتھ، نکاح رجسٹریشن سسٹم اور پاکستانی تاریخ کا بہترین بلدیاتی نظام دینے پر انہیں چند رعایتی مارکس دیتا ہوں۔

۲۰۰۸ میں جب پیپلز پارٹی نے بلدیات کے نظام کو تباہ و برباد کیا، تب ان کی ناعاقبت اندیشی پر افسوس ہوا، اور اس دن بہت ہنسی آئی جب کوشش کے باوجود پورے نظام کو جڑ سے نا اُکھاڑ سکے کیونکہ یونین کونسل ہر طرح کے کمپیوٹرائزڈ سرٹیفکیٹ جاری کرتی تھیں۔ ( یہ موضوع پوری تفصیل کا متقاضی ہے)

اب اچانک گُل سینٹر کے واقعے نے سماج میں ایک دراڑ پیدا کردی ہے۔ سوشل میڈیا پر متواتر گالم گلوچ، بدتہذیبی اور نفرت انگیز رکیک جملوں کی ہوا چل پڑی ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ میں اس لہر میں خاصے سلجھے اور تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی بہتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔بعض رکیک جملے یوں محسوس ہوئے جیسے کسی نے مجھے براہ راست کہے ہوں۔میری شناخت پر سوال اُٹھادیا ہو۔ میں چھیانسٹھ برس کا ہوں اور کم و بیش اتنے برس پہلے ہی حیدرآباد میں نواب مظفر نے کسی جذباتی لمحے میں اُس نام سے تنظیم بنائی تھی جسے آج گالی بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔

ہمارے دوستوں کو وہ بدین والے مرزا صاحب تو ضرور یاد ہوں گے۔ شاید حبیب جالب انہی کے بارے میں کہہ گئے ہیں کہ:

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا

اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا

کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ

وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا

آج سوئے ہیں تہ خاک نہ جانے یہاں کتنے

کوئی شعلہ کوئی شبنم کوئی مہتاب جبیں تھا

اب وہ پھرتے ہیں اسی شہر میں تنہا لیے دل کو

اک زمانے میں مزاج ان کا سر عرش بریں تھا

چھوڑنا گھر کا ہمیں یاد ہے جالبؔ نہیں بھولے

تھا وطن ذہن میں اپنے کوئی زنداں تو نہیں تھا

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • دو اہم افسانوں کا تذکرہ
  • میرا کراچی
  • قبائلی بیٹیوں کے خواب اور خاموش دیواریں
  • کالونیل ازم کی ایک نئی شکل
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
رومی کے چند اشعار
اگلی تحریر
فارمیسی میں منہ چڑاتی دو دوائیں

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

اکیسویں صدی میں اتارے ہوئے لوگ

جنوری 1, 2026

کیا عقلی دلیل ممنوع ہے ؟

دسمبر 23, 2025

میرا کراچی

دسمبر 24, 2025

احوال ایران؛ چند فکری زاویے

جنوری 9, 2026

امریکہ میں ممدانی اور قرآن

جنوری 4, 2026

ایک کیس کی روداد (سیکھنے کے چند پہلو)

فروری 15, 2026

رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے

مارچ 1, 2026

اخلاقیات کی دھنک

جنوری 8, 2026

فیس بک کی دنیا

فروری 9, 2026

معاشرے کا اجالا؛ مولانا الیاس قادری

مارچ 2, 2026

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • تحویل کی تحلیل (3)
  • دو ستارے ڈوب گئے
  • تحویل کی تحلیل (دوسری قسط)
  • تحویل کی تحلیل (قسط اول)
  • شعوری کوشش کرتا اقبال خورشید

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    لاہور بک فیئر کی تاریخوں کا اعلان کر...

    دسمبر 9, 2025 450 views
  • 2

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 443 views
  • 3

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 437 views
  • 4

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 427 views
  • 5

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 417 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (48)
  • انٹرویوز (4)
  • بچے (2)
  • بلاگ (46)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (31)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • تحویل کی تحلیل (3)

    اکتوبر 19, 2026
  • دو ستارے ڈوب گئے

    اکتوبر 12, 2026
  • تحویل کی تحلیل (دوسری قسط)

    اکتوبر 1, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (48)
  • انٹرویوز (4)
  • بچے (2)
  • بلاگ (46)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (31)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

احوال ایران؛ چند فکری زاویے

جنوری 9, 2026

ماں کی یاد میں

فروری 19, 2026

دہلی نامہ؛ امرتسر کے دو کردار

فروری 23, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here