ترکیہ ایک رومان ہے۔ سیاست،مذہب، تہذیب،سب رومان کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں۔کمال ازم ہو یا اسلام ازم، خلافت ہو یاجدید جمہوری ریاست، تہذیب کےمشرقی مظاہر ہوں یا مغربی ،ترکیہ کی تاریخ، جغرافیہ، ثقافت،سیاسی تجربات،سب رومان میں لپٹے ہوئے ہیں۔اہلِ مذہب اس رومان کونجم الدین اربکان کی صورت میں مجسم دیکھتے ہیں اورکبھی طییب اردوان کی شکل میں۔سیکولرازم کے علم بردار مصطفیٰ کمال کو عالمِ اسلام کے لیے مثال قرار دیتے ہیں۔اہلِ تصوف کو سعید نورسی میں روحانیت مجسم دکھائی دیتی ہے۔اس پر مستزاد تصوف کےروایتی سلاسل ہیں جو اس سرزمین پر جلوہ گرہیں۔رومی و اقبال کی حقیقی اور فرضی قبور بھی قونیہ میں ہیں۔ فتح اللہ گولن کے ‘سول اسلام’ نے بھی یہیں ظہور کیا۔یہ وہ سرزمین ہے جہاں موذن طلوعِ سحر کے ساتھ پروردگارِ عالم کی بڑائی کا اعلان کرتاہے تو مساجد کے صحن نوجوانوں کے سجدوں سے چمک اٹھتے ہیں۔خورشید ڈوبتا ہے تو ساغر ومینا میں رات قطرہ قطرہ اترنے لگتی ہے۔
ایسی رنگا رنگ سرزمین پرقدم رکھنے کے بعد اوسان بحال رکھنا اوران بکھرے رنگ ہائے حیات کوالفاظ میں ڈھالنا آسان نہیں۔اس کے لیے لازم ہے کہ لکھنے والوں کو ادب سے شغف ہو کہ رومان اس کے بغیر گرفت میں نہیں آسکتا۔اس میں صحافیانہ تجسس ہو کہ یہ تجزیے کی ناگزیر ضرورت ہے۔وہ تاریخی حرکیات کو سمجھتا ہو۔اس کےبعد ہی وہ جان سکتا ہے کہ اسلام ازم نے کیسےکمال ازم کی جگہ لی۔اس کے ساتھ خود پر قابو بھی ہو۔بردارم فاروق عادل کی ذات میں یہ اوصاف جمع ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ قلم عطا کیا ہے جو اس رنگا رنگی کو اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔ان کا یہ سفر نامہ اس پر گواہ ہے۔وہ مشاہدے کواس مہارت کے ساتھ تاریخ سے ہم آہنگ کرتے ہیں کہ ان کا قلم دو رنگی روشنائی میں ڈوبا ،صاف دیکھاجاسکتا ہے۔مذہب و سیاست کی تعبیرات و تنوع سے ان کی آگاہی نے اس سفر نامے کو دل کے ساتھ دماغ کا مخاطب بھی بنا دیا ہے۔اس کا مطالعہ ایک طرف آپ کو وہ لذت دیتا ہے جو ادب کا خاصا ہے۔دوسری طرف فکر ونظر کے لیے وہ مواد فراہم کر تا ہے جو تحقیقی مقالے کاامتیاز ہے۔