Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » سیدہ عابدہ حسین؛ اقتدار سے مطالعے تک

سیدہ عابدہ حسین؛ اقتدار سے مطالعے تک

ٹیم رعنائی کی طرف سے عالمی یوم خواتین کی مناسبت سے خصوصی پیشکش

کی طرف سے Ranaayi مارچ 9, 2026
کی طرف سے Ranaayi مارچ 9, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
28

سیدہ عابدہ حسین پاکستانی سیاست کی ان نمایاں اور سینئر ترین خواتین میں سے ایک بےخوف آواز کا نام ہے جس نے پاکستانی سیاست میں صنفِ نازک کی طاقت کا لوہا منوایا۔

تاریخ کے جھروکوں سے جھانکنے کی کوشش کریں تو حیرت ہوتی ہے کہ جب کسی لڑکی کے سر سے باپ کا سایہ اس وقت اٹھ جائے جب وہ محض پچیس برس کی ہو مگر وہ سوگ منانے کے بجائے اپنے باپ کے ادھورے مشن کو مکمل کرنے کا فیصلہ کر لے تو یہ کوئی چھوٹا قدم، یا کم ہمتی کی بات نہیں ہو سکتی۔ ایسے مواقع پر تاریخ کو اپنے اوراق میں ایک نیا باب رقم کرنا پڑتا ہے۔ سیدہ عابدہ حسین کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ جھنگ کی روایتی اور جاگیردارانہ سیاست میں جہاں خواتین کا گھر سے نکلنا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا، عابدہ حسین نے نہ صرف قدم رکھا بلکہ ایک طویل اور شاندار سیاسی و سفارتی باوقار کیریئر ان کے کریڈٹ پر موجود ہے۔ وہ ایم پی اے بنیں، ضلع کونسل جھنگ کی چیئرپرسن منتخب ہوئیں، تین بار قومی اسمبلی پہنچیں، وفاقی وزراتیں سنبھالیں اور امریکا میں بطور سفیر پاکستان کی نمائندگی کی۔

عابدہ حسین ماضی کے دریچوں میں جھانکتے ہوئے بتاتی ہیں، "میرے والد نے زیادہ عمر نہیں پائی۔ ان کی وفات کے وقت میں نے شدت سے محسوس کیا کہ ان کا سیاسی کام ادھورا رہ گیا ہے، اور اب اسے مجھے ہی مکمل کرنا ہے۔ بس اسی ایک جذبے نے مجھے سیاست کے اس کٹھن راستے پر لا کھڑا کیا۔”

ہمارے ہاں سیاست کا مردانہ مزاج، اور سیاسی ایوانوں میں خواتین پر جملے کسنا، ان کی صلاحیتوں کو کم تر سمجھنا فقط آج کا طَور نہیں ہے۔ عابدہ حسین کے دور میں بھی اسمبلیوں کا ماحول اس سے مختلف نہیں تھا۔ ان کی بےخوفی، حق گوئی اور دلیری کو دیکھ کر اکثر یہ جملہ کہا جاتا تھا کہ "کابینہ میں اگر کوئی ایک مرد ہے تو وہ بیگم عابدہ حسین ہیں۔” اس روایتی جملے، اور کسی حد تک مزاح آمیز حقیقت کے بارے میں ان کا ردعمل انتہائی متانت بھرا ہے۔ کیا باوقار اور حق گو ہونے کے لیے ‘مرد’ ہونا واقعی ضروری ہے؟ اس کے جواب میں وہ ایک ایسا استعارہ استعمال کرتی ہیں جو صنفِ نازک کی اصل طاقت کو عیاں کرتا ہے، انہوں نے کہا "خواتین اپنی ذات میں باوقار ہوتی ہیں اور انہیں ایسا ہی رہنا چاہیے۔ کیونکہ عورت ایک ماں ہے، اور ماں کا درجہ سب سے بلند ہے۔”

ان کی گفتگو سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عورت کو اپنی طاقت منوانے کے لیے مردانہ رویوں کی نقل کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ اس کی اصل طاقت اس کی نسوانیت اور ممتا کے اس بلند درجے میں ہے جو کائنات کو ترتیب دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ امریکا میں بطور سفیر تعینات ہوئیں، تو انہیں کسی احساسِ کمتری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ بلکہ دوسری طرف وہ یہ حقیقت بھی بیان کرتی ہیں کہ ان کی سفارت کے دور میں بھی امریکہ میں کام کے حوالے سے مرد و زن کی تفریق نہیں کی جاتی تھی۔ اس لیے ایک خاتون کا وہاں سفیر تعینات ہونا کوئی عجوبہ نہیں تھا۔

اپنی معرکہ آرا کتاب "پاور فیلیر اِن پاکستان ” کے تناظر میں جب وہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والی عورت کی روزمرہ جدوجہد کو بیان کرتی ہیں کہ انکی کتاب میں ان کہی کہانیوں کے بیچوں بیچ پنپتی سیاست کا عام عورت پر کیا اثر پڑتا ہے جو خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے تو اس موقع پر عابدہ حسین کے لفظوں میں ایک درد جاگ اٹھتا ہے اور وہ اس عمل کو محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک المیہ سمجھتی ہیں۔ محدود ترین وسائل میں گھر کا چولہا جلانا اور خاندان کو پالنا ایک ایسا کٹھن کام ہے جس کے لیے، ان کے بقول، "عورت کو بے پناہ ہمت کرنی پڑتی ہے۔”

لیکن کیا یہ جبر صرف غریب عورت کا مقدر ہے؟ عابدہ حسین اس خاموش حقیقت سے بھی پردہ اٹھاتی ہیں کہ جبر طبقات کا محتاج نہیں۔ وہ ایک مختصر مگر جامع جواب میں تصدیق کرتی ہیں کہ ایلیٹ کلاس (اشرافیہ) کی خواتین بھی ظلم اور زیادتی کا شکار ہوتی ہیں۔

ان کے نزدیک عورت کا اصل مسئلہ ‘اس کے وقت کا بےحد قیمتی ہونا ہے کیونکہ اس پر بہت سی گھریلو ذمہ داریاں ہوتی ہیں’ شاید یہی وجہ ہے کہ آج کی پڑھی لکھی لڑکیاں بھی سیاست کے خار زار میں قدم رکھنے سے گھبراتی ہیں کیونکہ ‘یہاں قدم قدم پر رکاوٹیں ہیں’ لیکن ساتھ ہی وہ پرامید ہیں کہ ‘اگر عورت ہمت کرے تو سب چیزوں کے ساتھ نبھا سکتی ہے’

سیاست کی گہما گہمی سے دور عابدہ حسین کی شخصیت کا ایک اور پہلو ان کا وسیع مطالعہ بھی ہے۔ ویسے تو ان کی فکری و عملی تربیت میں زیادہ تر ان کی والدہ اور والدہ کی قریبی دوست بیگم طاہرہ مظہر علی خان ‘جن سے انہوں نے تیزی سے کام کرنا اور ہمت نہ ہارنا سیکھا’ کا بھی ہاتھ ہے، لیکن عالمی ادب نے بھی ان کے ذہن کو جلا بخشی۔ ان کا ماننا ہے کہ انسان کی سب سے بڑی تربیت گاہ ماں کی گود ہوتی ہے۔

تاہم جب ان سے گفتگو کے دوران ان کی پسندیدہ خواتین مصنفین کا ذکر چھڑا، تو انہوں نے جن ناموں کا انتخاب کیا وہ ان کے ادبی ذوق کو ظاہر کرتا ہے۔ انہیں انیسویں صدی کے برطانوی ادب کی مشہورِ زمانہ ‘برونٹے سسٹرز’ ( شارلٹ، ایملی، اور این برونٹے) کی تحریریں بے حد پسند ہیں’ جن کے ناول انسانی جذبات اور معاشرتی پابندیوں کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ‘اروندھتی رائے کی تحریریں بھی انہیں بہت اچھی اور بہت دلچسپ لگتی ہیں’

آج کل وہ برطانوی نژاد اور نوبل انعام یافتہ مصنفہ ‘ڈورس لیسنگ (Doris Lessing) کا مطالعہ کر رہی ہیں’ ڈورس لیسنگ اپنے ناولوں میں حقوقِ نسواں، سماجی ناانصافیوں اور انسانی نفسیات کے پیچیدہ پہلوؤں کو انتہائی باریک بینی سے اجاگر کرنے کے لیے عالمی سطح پر جانی جاتی ہیں۔ عابدہ حسین کا مطالعے کے لیے ان خواتین مصنفین کا انتخاب ان کی اپنی نسوانیت اور فکری جدوجہد کا ایک خوبصورت تسلسل معلوم ہوتا ہے۔

‘عورتوں کے حوالے سے میرا ذہن ہمیشہ یہی رہا ہے کہ انہیں آگے بڑھنا چاہیے اور بلند مقام حاصل کرنا چاہیے۔ جب بھی عورتوں کا عالمی دن آتا ہے، تو میں ہر اس پلیٹ فارم پر جہاں میں موجود ہوتی ہوں، اس بات کا ذکر ضرور کرتی ہوں کہ عورت کو آگے بڑھنا چاہیے’

یہ تھا خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے ان کا خصوصی پیغام اور ان کی یہ گفتگو محض ایک سیاست دان کا انٹرویو نہیں، بلکہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس نے روایت کی بیڑیوں کو اپنے علم، مطالعے، وقار اور ہمت کی طاقت سے توڑا اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن اور باوقار مثال پیش کی۔

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • رمضان اور صحت
  • کیمیا گروں کا کیمیا گر
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
بیانیہ اور کہانی پن
اگلی تحریر
شوگر کی دواؤں کی چھٹی؟

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

کیمیا گروں کا کیمیا گر

دسمبر 9, 2025

رمضان اور صحت

فروری 18, 2026

جنوری 1, 2026

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • محمد حمید شاہد کی سالگرہ
  • شوگر کی دواؤں کی چھٹی؟
  • سیدہ عابدہ حسین؛ اقتدار سے مطالعے تک
  • بیانیہ اور کہانی پن
  • جدید دور کی مہلک ترین بیماری

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 318 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 302 views
  • 3

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 294 views
  • 4

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 288 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 262 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (44)
  • انٹرویوز (4)
  • بچے (2)
  • بلاگ (44)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (31)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • محمد حمید شاہد کی سالگرہ

    مارچ 25, 2026
  • شوگر کی دواؤں کی چھٹی؟

    مارچ 11, 2026
  • سیدہ عابدہ حسین؛ اقتدار سے مطالعے تک

    مارچ 9, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (44)
  • انٹرویوز (4)
  • بچے (2)
  • بلاگ (44)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (31)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

رمضان اور صحت

فروری 18, 2026

جنوری 1, 2026

کیمیا گروں کا کیمیا گر

دسمبر 9, 2025
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here