Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » جدید دور کی مہلک ترین بیماری

جدید دور کی مہلک ترین بیماری

عرفان جاوید

کی طرف سے Ranaayi مارچ 7, 2026
کی طرف سے Ranaayi مارچ 7, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
41

یہ ایک ایسی انسانی بیماری ہے جسے نظر انداز کر دیا گیا ہے۔یہ پوری دنیا میں پائی جاتی ہے، متعدی ہے اور اس کا علاج کسی اور کے پاس نہیں—سوائے ہمارے اپنے۔ اس بیماری کا نام ہے—— کاہلی۔ یہ ہمیں کسی وبائی مرض کی طرح اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، تاوقتیکہ ہم اس کے خلاف اپنے اندر مزاحمت پیدا کریں۔یہ مزاحمت پیدا ہوتی ہے حرکت سے اور اپنے سوچے سمجھے خود مختارانہ فیصلوں سے۔ کاہلی، امنگ اور صلاحیت کو ختم کر دیتی ہے۔ اگر ہم اپنے معاملات، طرزِ معاشرت یا حکومت کے معاملے میں سست پڑ جائیں تو یہ کئی نفسیاتی اور جسمانی مسائل کا باعث بن جاتی ہے۔ جب ہم کوشش کرنا، سوال اٹھانا، تنقیدی اور خودمختار سوچ اپنانا اور عقل و ضمیر کے مطابق جینا چھوڑ دیتے ہیں تو ہم ایک ڈھلان پر لُڑھکتے چلے جاتے ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی نے آسائش کو کمال تک پہنچا دیا ہے۔ اب آپ کو خوراک، توانائی، دوا یا اخلاقیات کے بارے میں خود سوچنے کی ضرورت نہیں—اب جدید معاشی و معاشرتی نظام کے کارندے آدمی کو سمجھا کر یقین دلا دیتے ہیں کہ کیا کھانا بہتر ہے، کس سے ڈرنا ہے، کیا ماننا ہے، کیا درست ہے، اور کیا خریدنا ہے۔ ہم پڑھنے اور سیکھنے ( اور سب سے بڑھ کر آزادانہ غور و فکر) کے بجائے صرف اسکرول کرتے رہتے ہیں۔ ہم تفکر کے بجائے محض ردِعمل دیتے ہیں۔ ہم دلیل کے ماننے والے نہیں، اندھی پیروی کے پُجاری ہیں۔

ضمیر بھی ہم نے گویا دوسروں کے حوالے کر دیا ہے۔ اب یہ بات اہم نہیں رہی کہ ہم فطری طور پر کیا درست سمجھتے ہیں—اہم یہ ہے کہ اختیار رکھنے والے لوگ کن عقائد کو درست اور جائز سمجھتے ہیں۔

ہر بار جب ہم ان کارندوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں، موبائل فون تھامے یا ٹی وی کے سامنے رکھے صوفے پر ڈھلک جاتے ہیں، اور کوشش نہیں کرتے، تو ہم اپنی ذات کا ایک حصہ کھو دیتے ہیں۔

تہذیب کا ہر قدم اس شخص کی وجہ سے آگے بڑھا جس نے سستی کو قبول کرنے اور ہجوم کے ساتھ چلنے سے انکار کیا۔ حق کے متلاشی، موجد، فنکار اور مصلح—سب نے اپنے زمانے کے رائج دستور کے خلاف بے پناہ مزاحمت کی۔

کاہلی اور تن آسانی کا مقابلہ دواؤں یا سماج کے مروجہ اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے فیصلہ کرنا پڑتا ہے، عملی قدم اٹھانا پڑتا ہے، تنہائی میں بیٹھ کر جدید کھلونوں( موبائل فون، ٹیبلیٹ وغیرہ) سے دور رہ کر تفکر وتدبر کے زینے پر قدم رکھنا پڑتا ہے۔

دنیا چند درندہ صفت آدمیوں کی وجہ سے برباد نہیں ہوتی۔ دنیا اس لیے زوال پذیر ہوتی ہے کہ ہم کاہلی، آسانی اور مروجہ ( غلط)عقائد کو چن لیتے ہیں۔ آج کے آدمی( اور اپنے آپ کو آئینے میں) دیکھ کر مُجھے بچپن میں دیکھی ایک فلم یاد آجاتی ہے جس میں بندر کھلونوں سے کھیلتے ہوئے اور مختلف کھلونا سواریوں پر اٹکھیلیاں کرتے ہوۓ جنگل میں درپیش بڑے خطرات سے غافل ہو کر معدوم ہو جاتے ہیں۔

آج کا آدمی موبائل فون، ٹی وی، چمکتی گاڑیوں جیسے کھلونوں میں منہمک ہو کر بڑے مسائل سے غافل ہو جاتا ہے۔ آدمی ابتدائے آفرینش سے کھلونوں سے کھیلتا آیا ہے، ان میں قدیم ظروف، بیل گاڑیاں وغیرہ عجائب گھروں میں سجی ہیں، دیدہِ عبرت نگاہ کے لیے۔ البتہ آدم و حوا کو وہی پہلے سے مسائل درپیش ہیں، طمع، نفرت، ذخیرہ کرنے کی خواہشِ لامختتم، حسد وغیرہ۔

آدمی کا کمال یہ نہیں کہ ہر آنے والے دور میں پہلے سے بہتر کھلونے ایجاد کر لے اور ان کو دیکھ کر بن مانسوں کی طرح حیران آنکھوں سے مسرت کے قہقہے لگائے۔ آدمی کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنی جبلت کے منفی عناصر پر قابو پا لے، حسد کو اپنے اندر سے نکال پھینکے، انتقام کی آگ کو بُجھا ڈالے!!

سو بات جہاں سے شروع ہوئی تھی وہیں ختم ہوتی ہے۔ زرعی دور شکاری دور کی بہ نسبت سُستی کا دور تھا، صنعتی دور اس سے بھی بڑھ کر آدمی کو ایک مقام پر گاڑ گیا، اور جدید دور نے تو آدمی کو گھر سے نکلنے کے تکلف سے بھی آزاد کر دیا ہے۔ ہر دور نئے کھلونے لے کر آتا ہے۔آج کا دور خیرہ کُن چمک والے کھلونوں کا ہے،البتہ اس نے آدمی کو ایک مردود بیماری تحفہ کی ہے—— کاہلی!

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • کالونیل ازم کی ایک نئی شکل
  • ہماری تفریحی سرگرمیاں
  • آموں کی پیٹی سے آج تک
  • ٹالسٹائی کی قوم اور کتاب بینی
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
فاروق عادل کا سفرنامۂ ترکی
اگلی تحریر
بیانیہ اور کہانی پن

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

میں اور سید کاشف رضا

فروری 26, 2026

پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی

فروری 22, 2026

خود کش حملے کیسے ختم ہوں؟

فروری 12, 2026

میرا کراچی

دسمبر 24, 2025

لاہور میں بسنت کے رنگ

فروری 11, 2026

ماں کی یاد میں

فروری 19, 2026

خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ

مارچ 1, 2026

سخن ہائے گفتنی

فروری 1, 2026

ہم اور ہماری سوچیں

دسمبر 31, 2025

معاشرے کا اجالا؛ مولانا الیاس قادری

مارچ 2, 2026

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • محمد حمید شاہد کی سالگرہ
  • شوگر کی دواؤں کی چھٹی؟
  • سیدہ عابدہ حسین؛ اقتدار سے مطالعے تک
  • بیانیہ اور کہانی پن
  • جدید دور کی مہلک ترین بیماری

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 318 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 302 views
  • 3

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 294 views
  • 4

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 288 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 262 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (44)
  • انٹرویوز (4)
  • بچے (2)
  • بلاگ (44)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (31)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • محمد حمید شاہد کی سالگرہ

    مارچ 25, 2026
  • شوگر کی دواؤں کی چھٹی؟

    مارچ 11, 2026
  • سیدہ عابدہ حسین؛ اقتدار سے مطالعے تک

    مارچ 9, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (44)
  • انٹرویوز (4)
  • بچے (2)
  • بلاگ (44)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (31)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

پنجابی کھوج گڑھ؛ یادگار کارنامہ

دسمبر 29, 2025

کیا عقلی دلیل ممنوع ہے ؟

دسمبر 23, 2025

آپ اے آئی سے ڈرتے ہیں...

جنوری 5, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here