یہ اُس شخص سے بھی کُھسر پُھسر کر رہا تھا جس نے کسی دُھن میں اپنا نام سعید سے سدا رکھ لیا تھا۔ کوئی بات سُنی نہ جا سکی تھی، …
ادب
جب مجھے اتنی آزادی حاصل تھی کہ میں خود سے باز پُرس کر سکوں، تو یہ لازم ٹھہرتا تھا کہ میں اِس ضمن میں کوئی دائرہِ کار طے کروں۔ مجھے …
ایک کاری ضرب کے لیے کبھی کبھی مُدتیں بِیت جاتی ہیں۔ بِلاشبہ مجھے خود کو قتل کرنے کی عُجلت تھی، مگر میں اپنی گرفت میں نہیں آ رہا تھا۔ میری …
میں جن گلیوں، رستوں، سڑکوں، عمارتوں اور ان میں بسنے والے تھوڑے ناراض، تھوڑے سے خوش، کہیں معصوم تو کبھی چالاک، زندگی کی کھٹنائیوں کو جھیلتے، برداشت کرتے یا سگریٹ …
فکشن میں بیانیہ ہی ہے جو ایک واقعہ کو کہانی اور کہانی کو افسانہ بناتا ہے ، جی بیان نہیں بیانیہ۔ کون نہیں جانتا کہ فکشن میں کہانی کا تصور …
کچھ وقت پہلے میں نے ایلیسن روز کا ذکر کیا تھا جو نیویارکر میں ریسیپشنسٹ کی نوکری کرنے آئیں اور پھر مقبول رائٹر بن گئیں۔ ایک ائیر ٹکٹ بکنگ کلرک …
مثنوی کی صنف میں مرزا عبدالقادر بیدل جیسے عبقری قادری قلندر کی ایک مختصر نعت اور اس کی ترجمانی ملاحظہ فرمائیے: زبانم قابلِ حمدِ خدا شد کہ با نامِ محمد …
آئی فون کے بلوریں ڈسپلے کے اندر سے جیسے دودھ ملائی اور شہد سے ڈھالی گئی اُجلی لڑکی باہر اُبل پڑنے کو تھی۔ سنہرے بالوں اور بھرے جسم کی وہ …
"تنہائی تمہاری اور کائنات اندر کی” تم اکیلے نہیں ہو یاد رکھو تم کسی طور پر نہیں تنہا اپنے اندر تو جھانک کر دیکھو ہے نہاں پوری کائنات وہاں …