فی زمانہ چرب زبانی سب سے منافع بخش فن ہے۔ آپ کو بس باتوں کے طوطے مینا اڑانا آتا ہو پھر دیکھیے لکشمی دیوی کیسے آپ پر مہربان ہوتی ہے۔ علم و ہنر کا توشہ خالی ہو ، چلے گا۔ عقل سے پیدل ہوں یہ بھی قابل قبول ہے۔ بس لچھے دار باتیں بناتے جائیں اور لوگوں کو شیشے میں اتارتے جائیں۔ آپ بس لسان ہوں پھر رطب و یابس جو مرضی ہو بکتے چلے جائیں۔بات ایسی کرنی ہے جس سے عام لوگوں کا دل جیتا جا سکے کہ جو بھی سنے یہ کہے یہ تو میرے دل میں تھا۔ ہماری اکثر عوام اس کلیہ پہ عمل پیرا ہونا بہتر سمجھتی ہے کہ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا ہے۔ ہماری اکثریت یا تو تھوک میں پکوڑے تلنے کی ماہر یا اس فن کی قدر دان ہے۔ آج کل سوشل میڈیا کی مارکیٹ میں ایسے شعبدہ باز بڑی آسانی سے دستیاب ہیں جو لوگوں کی یہ کہہ کر چونا لگاتے، ورغلاتے، لوٹتے اور ان کی جیب پہ قینچی چلاتے ہیں کہ شوگر کا علاج دواؤں کے بغیر ممکن ہے بلکہ ذیابیطس کا مرض بغیر دوا کے ختم یا ریورس ہو جاتا ہے۔ یہ پرانے حکیمی حربے اور جال ہیں جنہیں نئی شکل میں تیار کر کے سادہ لوح عوام کو ان میں پھانسا جا رہا ہے۔ کوئی چھ ماہ قبل ایک مریض میرے پاس آیا اس کا ہیموگلوبن اے ون سی 14 تھا۔ شوگر کی بہت زیادہ خرابی کی بہت سی علامات اس میں موجود تھیں۔میں نے اسے چہل قدمی، پرہیزاور شوگر کے حساب سے خوراک میں کی جانے والی ساری احتیاطیں بتائیں۔ شوگر کے مرض اور اس مرض سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا پھر اس کے لیے دوائیں تجویز کیں ان دواؤں میں انسولین بھی شامل تھی۔ آدھ گھنٹے کے تفصیلی گفتگو کے بعد حضرت گویا ہوئے کہ ڈاکٹر صاحب آپ نے تو ایسے ہی مجھے انسولین اور دوائیں لکھ کے دے دی ہیں میں نے ایک چودھری کے شوگر ریورسل پروگرام کے لیے فیس جمع کروا دی ہے۔ ان دواؤں اور انسولین کے بغیر ہی میری شوگر تین ماہ میں ریورس ہو جائے گی۔ میں سر پکڑ کے بیٹھ گیا اور دل میں دعا کی کہ اللّٰہ اس مریض کو بھی اسے گمراہ کرنے والے کو بھی ہدایت دے۔ کل ایک دوست اپنی والدہ کو لے کر آئے۔ والدہ کی شوگر ساڑھے چار سو تھی بلڈ پریشر دو سو بٹہ ایک سو بیس ٹھا۔ لاغر اور کمزور ویل چئیر پہ مشکل سے کلینک میں لے کر ائے۔ میں نے بلڈ پریشر اور شوگر کی دواؤں کے بارے میں استفسار کیا۔ ایک سال قبل انہیں ہارٹ اٹیک بھی ہو چکا تھا انجیو گرافی پہ دل کی تینوں شریانوں میں کافی زیادہ تنگی تھی اور بائی پاس تجویز کیاگیا تھا۔ تو دوست نے بتایا کہ چھ مہینے پہلے فیس جمع کروا کے چودھری کے شوگر ریورسل پروگرام میں شمولیت کی تھی تو انہوں نے شوگر، بلڈ پریشر اور دل کی تمام دوائیں بند کروا دی تھیں اور الحمدللہ شوگر ان کی بالکل ختم ہو گئی تھی۔ میں نے استفسار کیا کہ شوگر ختم ہو گئی تھی تو اب یہ ساڑھے چار سو پہ کیوں ہے اور بلڈ پریشر دو سو کیوں ہے؟ تو کہنے لگے کہ اب انہوں نے کھانا پینا شروع کیا ہے تو شوگر بڑھنا شروع ہو گئی ہے اب چودھری کا ڈائیٹ پلان چھوڑ دیا ہے ۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیوں چھوڑ دیا تو بتانے لگے کہ اس سے کمزوری اتنی ہو گئی تھی کہ چارپائی سے اٹھ کر واش روم تک بھی جانے کی سکت نہیں رہی تھی تو کھانا پینا دوبارہ شروع کردیا جیسے ہی کھانا دوبارہ شروع کیا تو اس سے شوگر اور بلڈ پریشر اتنا زیادہ بڑھ گیا۔ میں نے جب شوگر بلڈ پریشر اور دل کی دواؤں کے بارے میں پوچھا تو وہ بدستور بند تھیں۔ اس پوسٹ کا مقصد یہ تھا کہ شوگر کے مریض کی صرف شوگر ہی کنٹرول نہیں کرنی ہوتی ، شوگر کے ساتھ ساتھ، بلڈ پریشر ، دل کے امراض اور فالج سے بچاؤ اور کولیسٹرول کا کنٹرول کئی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو دواؤں کے بغیر کنٹرول کرنا مشکل ہوتاہے۔ اگر کسی مریض کا ہیموگلوبن اے ون سی دس سے اوپر ہے اور آپ اسے دوا اور انسولین کے بغیر خوراک سے کنٹرول کرنے کی کوشش کریں گے تو کسی جان لیوا پیچیدگی کا شکار ہوسکتے ہیں جس میں ڈیابیٹک کیٹو ایسیڈوسس، معمولی پیشاب یا چیسٹ انفیکشن کا شدید قسم کے سیپسز میں تبدیل ہو جانا( سیپسز،پورے جس اور خون میں انفیکشن کا شدید پھیلاؤ جو کہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے)۔تو بغیر دوا کے یہ علاج آپ کو راہی ملک عدم بھی کروا سکتا ہے۔ عالم بالا کے اس سفر کے ٹکٹ کا بندو بست چودھری صاحب دوا کے بغیر آپ کے لیے بالکل مفت میں کر دیں گے۔
24
گزشتہ تحریر
سیدہ عابدہ حسین؛ اقتدار سے مطالعے تک
اگلی تحریر