پختونخوا کے قبائلی علاقے آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ یہاں بجلی کا نظام اکثر خراب رہتا ہے، انٹرنیٹ نہ ہونے کے برابر ہے اور تعلیمی اداروں کی حالت بھی تسلی بخش نہیں۔ سڑکیں ٹوٹی پھوٹی، ہسپتال دور اور روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ ان علاقوں میں ٹیلنٹ نہیں، تو یہ سراسر زیادتی ہوگی۔ جیسے قدرت نے ان علاقوں کو معدنیات، خوبصورت پہاڑوں، سرسبز کھیتوں اور دلکش موسم سے نوازا ہے۔ اسی طرح یہاں کے لوگ بھی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں، فرق صرف مواقع کا ہے۔
خاص طور پر لڑکیوں کے لیے ترقی کا راستہ اور بھی مشکل ہے۔ اگر کوئی بچی غیر معمولی صلاحیت لے کر پیدا بھی ہو جائے تو اسے مذہب، ثقافت، روایت اور غیرت کے نام پر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ اسے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اس کے خواب اس کے اپنے نہیں بلکہ خاندان اور معاشرے کی مرضی کے تابع ہیں۔
ان ہی علاقوں نے کئی توانا آوازوں کو جنم دیا ہے۔ رضیہ محسود، خکلا مہمند، جمائمہ آفریدی، وگمہ فیروز ، گل نساء وزیر جیسی باہمت خواتین اسی دھرتی کی بیٹیاں ہیں۔ انہی میں ایک ننھی سی بچی آئنہ وزیر بھی ہے، جس کی عمر صرف آٹھ سال ہے۔
آئنہ اچانک ایک ویڈیو کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہوگئی۔ اس کی بولنگ دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے۔ کہا گیا کہ یہ بچی جنوبی افریقہ کے فاسٹ بولر ڈیل سٹین کی طرح گیند کروا سکتی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا نے اس پر خبریں چلائیں۔ پاکستان میں بھی ہر طرف اس کا ذکر ہونے لگا۔ گورنر خیبر پختونخوا، سیاست دان، کھیلوں کے ستارے اور سماجی کارکن سب نے اسے سراہا۔ پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی اس کی بولنگ سے اتنے متاثر ہوئے کہ اسے زلمی ویمن لیگ میں نامزد کیا۔ لاہور قلندر کی جانب سے بھی اسے اسلام آباد آنے کی دعوت دی گئی۔ آئنہ اور اس کی فیملی کے لیے یہ کسی خواب سے کم نہیں تھا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئنہ نے اپنے مرحوم والد کی خواہش کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ اچھی تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے۔ وہ کرکٹ میچز دیکھنے کا شوق رکھتی ہے، مگر علاقے میں سگنل کم ہونے کی وجہ سے وہ براہ راست میچ نہیں دیکھ پاتی۔ اس کا کزن منظور بازار جا کر کرکٹ میچز کی ویڈیوز خرید کر لاتا تھا تاکہ آئنہ انہیں دیکھ کر سیکھ سکے۔ ایک بچی کا یہ جذبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیلنٹ سہولیات کا محتاج نہیں ہوتا، مگر اسے آگے بڑھنے کے لیے ماحول کی ضرورت ضرور ہوتی ہے۔ مگر یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ اچانک خبر آئی کہ آئنہ کی ویڈیو بنانے والے سماجی کارکن کو نامعلوم افراد نے اغوا کیا، تشدد کا نشانہ بنایا اور ہراساں کیا۔ بعد میں اس شرط پر چھوڑا گیا کہ وہ ویڈیو میں معافی مانگے اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ کرے۔ اس واقعے کے بعد ایک قدامت پسند سوچ رکھنے والے افراد بھی سرگرم ہوگئے۔ انہوں نے سوال اٹھانا شروع کر دیے کہ کیا آئنہ میدان میں کھیلے گی؟ کیا وہ تعلیم حاصل کرے گی؟ کیا وہ لڑکوں کے ساتھ کرکٹ کھیلے گی؟ کیا یہ سب اسلام اور پشتون روایات کے خلاف نہیں؟
ایسے سوالات نے ایک معصوم بچی کے خوابوں کو خوف میں بدل دیا۔ خاندان کو اپنی جان کا خطرہ محسوس ہوا اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل ہونا پڑا۔ یوں ایک ابھرتا ہوا ٹیلنٹ دباؤ اور دھمکیوں کی نذر ہوگیا۔
یہ صرف آئنہ کی کہانی نہیں۔ یہ قبائلی علاقوں کی ہر اس لڑکی کی کہانی ہے جو کچھ بننا چاہتی ہے، کچھ کرنا چاہتی ہے، مگر اسے روک دیا جاتا ہے۔ پدر شاہی نظام میں لڑکی کے خواب اکثر خاندان کی عزت کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔
دوسری طرف اگر ہم خیبر پختونخوا سے باہر کے علاقوں کو دیکھیں تو وہاں تعلیمی اداروں میں طالبات کو کھیلنے، سیکھنے اور آگے بڑھنے کے مواقع ملتے ہیں۔ وہ اپنی دوستوں کے ساتھ میدان میں جا سکتی ہیں، مقابلوں میں حصہ لے سکتی ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکتی ہیں۔ کھیل اور تعلیم ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور یہی چیز ان کے اعتماد کو بڑھاتی ہے۔
لیکن خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں آئنہ نہ کھل کر کھیل سکتی ہے اور نہ ہی کوئی اس کی ویڈیو بنا سکتا ہے۔ اگر کوئی اس کا ٹیلنٹ سامنے لانے کی کوشش کرے تو اسے دھمکیوں، ہراسانی اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات جبری معافی تک منگوائی جاتی ہے۔ اس طرح نہ صرف ایک بچی بلکہ پورے معاشرے کا مستقبل متاثر ہوتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پورے پاکستان میں ہر آئنہ کو یکساں مواقع، تحفظ اور آزادی دی جائے۔ اسے یہ حق ملے کہ وہ تعلیم حاصل کرے، کھیل میں حصہ لے اور اپنے خواب پورے کرے۔ خواتین کو محفوظ اور بااختیار بنائے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ اگر ہم واقعی مضبوط پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں ہر بیٹی کے خواب کی حفاظت کرنا ہوگی۔ کیونکہ جب ایک لڑکی آگے بڑھتی ہے تو صرف وہ نہیں بلکہ پورا معاشرہ آگے بڑھتا ہے۔