آج صبح رضا لائبریری رام پور بھارت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سید حسن عباس صاحب نے میر غلام علی آزاد بلگرامی کی فارسی مثنوی مرآت الجمال، جسے وہ تدوین و تصحیح کررہےہیں، کے خطی نسخے کے ایک ورق کا عکس بھیجا اور ایک شعر پر سرخ نشان لگا کر اس کی درست قرائت کے بارے میں مجھ سے مدد چاہی۔انھوں نے اپنی کوئی قرات ساتھ نہیں بھیجی تھی۔۔ میرے لیے شعر کے ایک دو الفاظ تو واضح تھے لیکن پورا شعر صحیح ناپ تول میں نہیں آرہا تھا جو اپنے اندر مفہوم بھی رکھتا ہو۔ایسے موقعوں پر ہمیشہ محبی ڈاکٹر معین نظامی سے دستگیری چاہتا ہوں ۔ان کی فراست اور لیاقت سے مسلہ حل ہو جاتا ہے۔ سو آج بھی انھی سے رجوع کیا اور تصویر ان کے سامنے رکھ کر مدد طلب کی۔انھوں نے چند منٹوں میں سواے ایک لفظ کے باقی پورا شعر پڑھ کر بتا دیا لیکن بقول ان کے وہ ایک لفظ کلیدی تھا جس کا درست پڑھنا بقیہ مصرعے کی درست قرائت کی تائید کرتا۔ وہ سارا دن بظاہر اس پر غور کرتے رہے اور شام کو وہ لفظ بھی درست پڑھ لیا اور یوں شعر کی قرائت مکمل ہوگئی:
شفق گردِ خُمش باشد کہ خیزد
بدخشان آفرین اشکی کہ ریزد
اس سے قبل بھی انھوں نے نہ صرف اس طرح کی یک روزہ مشقیں حل کی ہیں،بلکہ میرے ساتھ مجالس جہانگیری اور معدن الدرر کے طویل المدت کام میں مکمل متون میں درآئی قرائت کی گنجلیں اسی فراست اور اشراف سے سلجھائی ہیں۔ ان کا وجود ہم سب کے بہت فیض رسان، مفید اوربابرکت ہے۔
پاکستان میں اول توفارسی مخطوطات کی تصحیح و تدوین کا اعلی تحقیقی سطح پر فی الوقت کام ہو ہی نہیں رہا)دانشگاہوں میں تصحیح متن کے نام پر لکھے جانے والے تھیسز کو تضییع متن یعنی متن کو تباہ کرنے کی مشق سمجھتا ہوں(۔متون کی تدوین و ترتیب میں بنیادی چیز متن کی درست قرائت ہے جس کی بنیاد پر مابعد نتایج اخذ کیے جاتے ہیں،اگر متن ہی درست نہ ہو تو بالمآل نتایج بھی کمزور ہوں گے۔ کسی منظوم متن کی تصحیح کے لیے مرتب کا خود موزوں طبع ہونا واجب ہے ورنہ وہ ٹھوکریں کھائے گا۔ نظامی صاحب کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ وہ موزوں طبع شاعر ہیں اور آج انھوں نے جو عقدہ منٹوں میں حل کرلیا اس میں ان کی دیگرلیاقتوں کے ساتھ موزونی طبع کا بھی دخل ہے۔ خداوند کریم ان کو سلامت باکرامت رکھے اور ان کے رسمی شاگردوں کو ان سے زیادہ سے زیادہ فیض یاب ہونے کی توفیق بخشے۔ پنجاب یونیورسٹی اور لمز میں ان کی کلاس میں شرکت کرنے والوں کو اس قیمتی فرصت کو گنوا نہیں دینا چاہیے۔
عارف نوشاھی4.10.2017