Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » صوفیوں کا استاد رنِد

صوفیوں کا استاد رنِد

معین نظامی

کی طرف سے Ranaayi دسمبر 8, 2025
کی طرف سے Ranaayi دسمبر 8, 2025 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
265

 

 

یہ مسائلِ تصوف، یہ ترا بیان غالب

تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

 

مرزا اسد اللہ خاں غالب رائج معنوں میں صوفی نہیں تھے اور نہ ہی باقاعدہ طور پر کسی صوفی سلسلے میں بیعت تھے۔ اس ضمن میں بعض محققین نے نجانے بڑے تیقن سے انھیں چشتی نظامی کیسے قرار دے دیا ہے۔ حال آں کہ اس دعوے کی تصدیق کے لیے معاصر ادبی مآخذ، چشتی منابع اور ذخیرہء غالبیات میں ضروری تائیدی شواہد نہیں ملتے۔ البتہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ طبعاً چشتی مشربِ طریقت ہی کے زیادہ قریب تھے اور اگر کبھی وہ کسی سلسلہء طریقت سے منسلک ہوتے تو وہ یقیناً چشتی نظامی سلسلہ ہی ہوتا۔ انھیں دہلی کے معروف بزرگ خواجہ فخر الدین فخرِ جہاں چشتی نظامی کے خانوادے سے دلی عقیدت تھی اور حضرت کے پوتے خواجہ غلام نصیرالدین کالے میاں سے تو عمر بھر ان کے بہت قریبی مخلصانہ مراسم رہے۔ کالے میاں حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی چشتی نظامی کے مرید و خلیفہ تھے.

 

غالب بنیادی طور پر ایک سر کش روح تھے اور تا دیر کسی تقلیدی روش پر چلتے رہنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔ مذکورہ چشتی خانوادے سے غالب کا یہ تعلقِ خاطر بھی اس لیے نہیں تھا کہ تیموری دربار یا غالب کا سسرالی گھرانا کئی پشتوں سے اس خاندان سے عقیدت رکھتا تھا یا اس وابستگی سے کسی دنیوی منفعت کا حصول ان کے پیشِ نظر تھا بلکہ اس محبت و ارادت کی جڑیں غالب کے اپنے عالی دماغ اور صافی دل میں بہت گہری تھیں۔

 

دل چسپ ہے کہ غالب کو باقاعدہ صوفی نہ ماننے والوں کو بھی یہ بہ ہر حال ماننا پڑتا ہے کہ وہ صوفیوں کے استاد تھے۔ وہ کچھ یوں کہ اس عہد کے متصوفانہ پس منظر کے حامل متعدد افراد فنِ شاعری میں ان کے شاگرد تھے۔ غالب کے صوفی شاگردوں میں بلا تفریق و تخصیص تقریباً سبھی سلاسلِ طریقت کے لوگ نظر آتے ہیں۔ اس اعتبار سے یہ رند مشرب استادِ صوفیہ مجمع السلاسل بھی ٹھہرتے ہیں۔ ان شاگردوں میں سے بعض کے ساتھ غالب کے بہت بے تکلف دوستانہ تعلقات کی معتبر شہادتیں بھی ملتی ہیں۔ صوفی تلامذہء غالب میں سے کچھ بزرگ تو خود مسلمہ سجادہ نشین بھی تھے اور مریدوں کا وسیع حلقہ بھی رکھتے تھے۔

 

غالب کے شاگردوں کے بارے میں لکھی گئی چند اچھی کتابوں میں ان کے بعض صوفی شاگردوں کے یہ نام ملتے ہیں:

 

دیوان سید امام الدین علی اثر اجمیری چشتی نظامی، مولانا اسماعیل میرٹھی قادری، باقر علی باقر بہاری چشتی نظامی، شیخ عبد السمیع انصاری رام پوری چشتی صابری، قاضی عبد الرحمن تحسین پانی پتی نقشبندی، احمد حسین تمنا مرزا پوری نقشبندی، خورشید احمد خورشید نقشبندی، محمد اشفاق حسین زکی مارہروی قادری برکاتی، میر فخر الدین حسین سخن دہلوی چشتی نظامی، سرفراز علی سید شاہ جہان پوری نقشبندی، سید شاہ عالم شائق مارہروی، نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ و حسرتی نقشبندی، نواب سید شیر زمان صاحب دہلوی قادری، جلیل الدین حسین صوفی منیری، سید قطب الدین دلاور علی جعفری ہاپوڑی، بہادر شاہ ظفر چشتی نظامی، مولانا محمد ولایت علی عزیز صفی پوری، سید احمد حسن مودودی فدا سہسوانی چشتی نظامی، قاضی محمد عنایت حسین فراق بدایونی چشتی نظامی تونسوی، مولانا عبد الصمد کلیم چشتی نظامی، محمد حسین محمود بجنوری قادری، منشی سخاوت حسین انصاری مدہوش بدایونی قادری برکاتی، میر ابراہیم علی مودودی وفا سہسوانی چشتی نظامی، مولوی امو جان ولی دہلوی قادری، حکیم محمد مراد علی ہوشیار چشتی

 

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • سنسکرت کی دو کتابیں اور چند جملے
  • خوشبو کی غزل | نازیہ غوث
  • نئے سال کی آمد پر ایک نظم
  • قدیم شاعری پڑھتے ہوئے
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ
اگلی تحریر
ایک تبصرہ

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

انجنہاری کی گھریا؛ ایک مطالعہ

دسمبر 8, 2025

تخلیقی فرصت

دسمبر 8, 2025

گزرتے برس کی ایک اہم کتاب

دسمبر 22, 2025

انجنہاری کی گھریا؛ ایک مطالعہ (تیسری قسط)

دسمبر 11, 2025

سنسکرت کی دو کتابیں اور چند جملے

دسمبر 30, 2025

عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

جنوری 12, 2026

بےمثل عربی دان محمد کاظم اور ایک کتاب

دسمبر 18, 2025

اخلاق احمد کی کتاب بھید بھرے

جنوری 10, 2026

امریکہ میں گمشدہ اردو فکشن

دسمبر 19, 2025

ونود کمار شکل کا انتقال؛ مع تعارف اور چند نظموں...

دسمبر 23, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • آموں کی پیٹی سے آج تک
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ
  • حارث خلیق کی ایک غزل
  • کالونیل ازم کی ایک نئی شکل

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 280 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 265 views
  • 3

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 254 views
  • 4

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 253 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 226 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • آموں کی پیٹی سے آج تک

    مارچ 1, 2026
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے

    مارچ 1, 2026
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ

    مارچ 1, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا...

دسمبر 8, 2025

آدمی (افسانہ)

دسمبر 28, 2025

ہارپر لی؛ چند تصویرِ بتاں، چند...

فروری 25, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here