129
نیند تتلی ہے خواب خوشبو ہے
رات کا انتساب خوشبو ہے
جس کا نعم البدل نہیں کوئی
عشق وہ کامیاب خوشبو ہے
میں اسی شاعرہ کو پڑھتی ہوں
جس کی پہلی کتاب خوشبو ہے
آنکھ کو مشک بار کر دے گی
خواب وہ لاجواب خوشبو ہے
پھول تو ثانوی حوالہ ہیں
باغ کی آب و تاب خوشبو ہے
میرے گھر میں تمھارے آنے سے
ہر طرف بے حساب خوشبو ہے
آخری باب خودشناسی ہے
نظم کا پہلا باب خوشبو ہے
جو چھپانے سے بھی نہیں چھپتی
عشق ایسی خراب خوشبو ہے
آپ چاہیں تو نازیہ بولیں
ورنہ میرا خطاب خوشبو ہے