112
جو ستارا تمھیں افلاک نشیں لگتا ہے
وہ مجھے آنکھ کے پانی کا مکیں لگتا ہے
اس مشقت کو ہمی اہل خرد جانتے ہیں
اک گماں توڑنے میں کتنا یقیں لگتا ہے
میں سکڑتا چلا جاتا ہوں جو اے میرے کفیل
کیا کروں مجھ کو ترا رزق نہیں لگتا ہے
تیرے نزدیک جو بیٹھے ہیں انھیں کیا معلوم
تو مجھے دور سے کس درجہ حسیں لگتا ہے
تیر ہلکا ہے مقدر کی ہوا سے اپنا
پھینکتا ہوں میں کہیں اور کہیں لگتا ہے
سر اٹھا کر تری دہلیز سے دیکھا کئی بار
یہ وہ پتھر ہے جو ہر پھر کے یہیں لگتا ہے
میں وہ محروم تمنا ہوں کہ مجھ کو سجاد
بند ہوتا ہوا بازار حسیں لگتا ہے