ساون کی خنک رات آدھی ہو چلی ہے مگر یہ کتاب ‘جمالِ ہم نشیناں’ سونے نہیں دے رہی جس کا سر ورق قلب و روح کی سر زمین بخارا میں لکھا گیا۔ سہ پہر کو فارسی و زبان و ادبیات اور مخطوطہ شناسی کی برصغیر کی واحد منفرد شخصیت ڈاکٹر عارف نوشاہی صاحب سے کشف المحجوب کے فارسی نسخوں پر کچھ بات ہوئی۔ اس کے معا بعد آنجناب کی طرف سے یہ کتاب موصول ہوئی۔ ایسی ہستی کی طرف سے کوئی نئی کتاب بھیجا جانا بجائے خود ایک حیرت ہے۔ فہرست دیکھی اور صفحات کی تعداد دیکھی تو سوچا کہ ایک ویکینڈ کے لیے یہ کتاب ساون کی پھوار کے طور پر کافی ہے۔ لیکن اپنی نظر سیدھی جا اٹکی ڈاکٹر عارف نوشاہی صاحب کے ہی خاکے پر جس میں ڈاکٹر صاحب کے احوال و عادات کا ایسا نقشہ ہے کہ آدمی ششدر رہ جاتا ہے۔ جس شخص کو دنیائے فارسی زبان و ادب اور مخطوطہ شناسانِ عالم، استادِ فن تسلیم کرتے ہوں ان کے احوال میں وقت کی ایسی پابندی ہے کہ اگلے دن کے علمی کاموں کی فہرست رات سرہانے رکھ کر سوتے ہیں۔ غیر علمی موضوعات پر گفتگو سے ہمہ وقت اور با ہمہ کس گریز شاید ویسے اتنی حیرت ناک بات محسوس نہ ہو لیکن بطور انسان ان باتوں کی ایسی سخت پابندی ریاضت سے کم نہیں۔ پابندی بھی کیسی کہ جہاں جائیں گے ، مسودے یا مسودے اور کمپیوٹر دونوں ساتھ لیجائیں گے۔ ایک بار تو کار میں ہی خطوط کا ایک مجموعہ ترتیب دے ڈالا ۔ خاکے میں ایک جگہ مصنفہ نے یہ بیان کر کے ریڈر کے کان کھڑے کر دیے کہ ڈاکٹر صاحب کے ہاں علمی و تحقیقی کاموں کے لیے ایک شیڈول مقرر ہے جس سے انحراف ممکن نہیں اور اس دوران رابطہ کرنا یا ملاقات کا وقت مانگنا کارِ دشوار ہے اور بعض اوقات نامناسب بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس سے آگے پڑھنے والا فورا آگے بڑھتا ہے کہ آخر وہ کیا شیڈول ہے جس نے ڈاکٹر عارف نوشاہی کو عالمِ تحقیق میں اتنا بڑا مقام بخشا ہے ، لیکن یہ جملہ پڑھ کر امیدوں پر پانی پھر جاتا ہے کہ آنجاب کا صبح جاگنے سے رات سونے تک کا سارا وقت ہی علمی و تحقیقی کاموں کے شیڈول میں آتا ہے۔ کھانے پینے وغیرہ کا وقت مجبورا نکالا جاتا ہے۔ یہ پڑھ کر یہ خاکسار ریڈر سوچ رہا ہے کہ اقوام عالم کا مرجعِ علم و تحقیق بننا اتنی سہولت سے ممکن نہیں، میر صاحب کہہ گئے ہیں:
مت سہل ہمیں جانو، پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
خیر یہ معمول پڑھ کر وہ حیرت بھی جاتی رہی کہ ڈاکٹر نوشاہی صاحب یہ انتظام کیسے سنبھال لیتے ہیں کہ ان سے جتنے مرضی ادق موضوع پر رہنمائی لینا چاہیں، وہ فی البدیہہ چند منٹ میں اتنا کچھ بتا دیتے ہیں جس سے آج کل کی نام نہاد پی ایچ ڈی کے ایک تھیسسز سے کئی گنا بہتر کام کیا جا سکتا ہے۔
استعجاب سے پھرپور، فارسی الفاظ و تراکیب سے مزین اس مرقعے سے نظر ہٹتی ہے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ہیش لفظ کس عظیم شخصیت کا لکھا ہوا ہے جو اس دنیائے بازیچۂ اطفال میں مرد کامل و حق شناس ہیں اور ڈاکٹر نوشاہی کے ہی احباب میں شامل اور کم و بیش ایسی ہی حیات و خدمات سے مماثل ہیں۔ ڈاکٹر معین نظامی نے پیش لفظ کے آخر میں لکھا ہے:
‘ان اچھی تحریروں نے ہمیں علم و تدریس و تحقیق کو اوڑھنا بچھونا بنائے رکھنے والی ڈاکٹر عصمت درانی کی صلاحیتوں کا ایک اور رُخ بھی دکھایا ہے جو بہت قابل قدر ہے۔ وہ ایک ایسی نثر نگار بن کر سامنے آئی ہیں جن کی جودت طبع ، فنی مہارت ، فکری گہرائی اور جذباتی سچائی اپنے پڑھنے والوں سے داد و تحسین وصول کرتی رہے گی’
لیکن وہ بات جان کر تو حیرت کی انتہا نہ رہی کہ آج سے 33 برس قبل ڈاکٹر نوشاہی کو ایک ہزار ڈالر ماہانہ تنخواہ پر اسلام آباد میں ایک غیر ملکی صحافتی ادارے کا کرتا دھرتا بنا دیا۔ دولت چھما چھم برسنے لگی مگر ڈاکٹر صاحب کو اس چھما چھم نے متاثر کرنے کے بجائے متفکر کر دیا کہ علمی و تحقیقی کاموں اور منصوبوں کا کیا ہو گیا۔ وہ تو ساون کی جھڑی میں بھی سوسے پکوڑوں سے زیادہ اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ اب مطالعے کا لطف زیادہ آئے گا۔ لہذا چار ماہ بعد ہی وہ نوکری چھوڑ کر اپنی مملکتِ تحقیق میں واپس آ گئے۔ لیکن یہ کیسی انمول مملکت ہے کہ جس کا بادشاہ، بالکونی میں رکھے ایک ناکارہ صندوق کو میز بنا کر، پرانی کرسی پر بیٹھا ایسی کتابیں لکھ رہا ہے جس کو عالمی سطح پر فارسی کے محققین نے سینے سے لگا لیا۔
باقی باقی