میں جن گلیوں، رستوں، سڑکوں، عمارتوں اور ان میں بسنے والے تھوڑے ناراض، تھوڑے سے خوش، کہیں معصوم تو کبھی چالاک، زندگی کی کھٹنائیوں کو جھیلتے، برداشت کرتے یا سگریٹ کے دھویں میں اُڑاتے ہوئے زندہ مگر موت کے تعاقب میں دوڑنے بھاگتے کرداروں کو دس سال پہلے کہیں پیچھے چھوڑ آیا تھا، وہ اچانک اقبال خورشید کے سترہ افسانوں میں زبان کے نئے ذائقے کے ساتھ میرے سامنے آگئے ہیں ۔ نا اقبال خورشید میرے لئے اجنبی ہیں اور نہ ہی ان کی تخلیقات۔ البتہ زبان کا یہ ذائقہ میرے لئے تھوڑا نامانوس ساہے ۔ لفظیات کی یہ بندش غیر ارادی طور پر نہیں در آتی بلکہ اقبال خورشید اسے ارادتاً اور بہت سوچ سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔ لفظیات کی یہ مخصوص بندش ان گنت تخلیق کاروں کے درمیان انفرادیت پیدا کرنے اور اپنا اسلوب ڈھالنے کی شعوری کوشش ہے، اور وہ اس میں کامیاب بھی ہیں ۔
اقبال خورشید کے اردگرد کی دنیا بہت خوبصورت نہیں ہے اور نا ہی وہ ایسے سماج کا حصہ ہیں جو ترقی کی منازل طے کرکے ایک ایسے مقام پر فائز ہو چکا ہے جہاں سکون اور ٹہراؤ کی فراوانی ہے۔ یہ دنیا تو اب تک اپنی اُلجھی ہوئی ڈوریوں کو سُلجھانے کی تگ و دو میں مصروف ہے، اور یہ المیہ کئی دہائیوں سے ہماری زندگیوں کا حصہ ہے۔
افسانہ نگار اقبال خورشید کی زندگی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کو وه اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں صحافت کے مختلف شعبوں سے وابستہ رہے ہیں ۔ کبھی وہ خبر ڈھونڈتے ہیں، کبھی خبر بناتے ہیں، اور کبھی وہ کسی قصہ گو کی طرح ہمیں خبریں سناتے ہیں ۔ مگر وہ کوئی ہنستی مسکراتی خبریں نہیں سناتے ۔وہ ہمیں شہر کی ان ناہموار گلیوں میں لے جاتے ہیں جہاں گولیاں چلتی ہیں ۔ لوگ ڈرے، سہمے اور دُبکے ہوئے رہتے ہیں۔ چھتوں پر کبھی کنکریاں اور کبھی گولیوں کے خول گرتے ہیں ۔ سڑکیں ویران ہوتی ہیں ۔ ریل کی آہنی پٹریوں پر لہو اور انسانی گوشت کے چھتڑے گرتے ہیں۔ عورتیں گھروں میں انتظار کی اذیت جھیلتی ہیں ۔ کوئی دفتر نہیں پہنچ پاتا اور کوئی گھر نہیں لوٹ پاتا۔
اقبال خورشید لمحہ بہ لمحہ روپ بدلنے کا ہنر بھی جانتے ہیں ۔ وہ کبھی کرنل اورلیانو بوئند یا، کبھی کارا اور کبھی سدارتھ، کبھی ڈیل کارنیگی اور کبھی مجو بن کر ہمیں بوسیدگی اوڑھے زندگی کی ضخیم مگر غیر مجلد کتاب میں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں، جہاں سطر در سطر شکست و ریخت کے قصے بھرے پڑے ہیں۔ اس زوال آمادہ کتاب کے بہت سے صفحات اب بھی خالی ہیں۔ اقبال خورشید ان صفحات کو پُر کرنا چاہتے ہیں مگر ان کے قلم کی کھردری تلخی ان بوسیدہ صفحات کو مزید اتنا کھرچ دیتی ہے کہ زخم دوبارہ ہرے ہوجاتے ہیں اور مشکل یہ بھی ہے کہ اقبال خورشید منٹو کی طرح اس برہنہ لاش کو چھیتڑوں ہی میں بٹا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ وہ اذیت ہے جسے قاری کو جھیلنا پڑتا ہے۔
اقبال خورشید کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنی کہانی کو دریا کی طرح بہنے نہیں دیتے، بلکہ وہ اسے جھیل کی طرح چاروں طرف سے اپنے قابو میں رکھتے ہیں ۔ وہ اس کی حدود خود طے کرتے ہیں اور پھر اس میں اپنے بنائے ہوئے کرداروں، ان کی خواہشات، نظریات اور ان کے طرز حیات کو چابک دستی سے کنول کے بڑے بڑے پتوں کی طرح بچھائےچلے جاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ میں اقبال خورشید کو ایک کمہار کی طرح دیکھتا ہوں، مجسمہ ساز کی طرح نہیں۔ اقبال کے کردار ایک جیسی حرکیات ، لفظیات اور نفسیات کے ساتھ ڈھالے ہوئے ہیں ۔ ان میں کمہار کی ہنر کا ری ہے اور خوب کمال کی ہے۔ وہ پوری مہارت، طاقت، سہولت ، دسترس اور بلاشبہ اپنے نپے تلے جملوں کے ساتھ اپنے افسانے تخلیق کرتے ہیں۔ جب وہ چاہتے ہیں کہ ان کے کردار جنس اور مباشرت پر بات کریں تو ان کے کردار شعوری طور پر ایسا کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ بیانیے میں رواں گفتگو کے درمیان وہ ایسے الفاظ شعوری طور پر شامل کرتے چلے جاتے ہیں جو بظاہر اجنبی ہوتے ہیں مگر ان کے افسانوں میں وہ بڑی آسانی سے شامل ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ وہ دریا کی طرح بہتے نہیں ہیں بلکہ جھیل کی طرح سمیٹ لیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اکثر کہانیاں دفتر گھر اور ان کے درمیان سفر سے جڑی ہوئی ہیں۔ وہ اپنے کرداروں کی دنیا کو قبل از نو گیارہ اور بعد از نو گیارہ میں تقسیم کرتے ہیں ۔ان کے ہر افسانے کا ہر پیراگراف ایک مخصوص طرز پر تراشے ہوئے جملے پر ختم ہوتا ہے ۔ وہ ایسا شعوری طور پر کرتے ہیں۔
کیا میں نے آپ کو اب تک اس کتاب کا نام نہیں بتایا؟ اس کتاب کا نام ایک کردار کے نام پر ہے، بلکہ ایک دوسرے کردار کی طرف سے طنزیہ اُچھالے ہوئے ایک فقرے پر ہے۔ لغت میں موجود ہے۔ چلیے اگلی سطر میں لکھ رہا ہوں۔
کتاب کا نام: چھنال اور دیگر افسانے
مصنف اقبال خورشید