کچھ وقت پہلے میں نے ایلیسن روز کا ذکر کیا تھا جو نیویارکر میں ریسیپشنسٹ کی نوکری کرنے آئیں اور پھر مقبول رائٹر بن گئیں۔ ایک ائیر ٹکٹ بکنگ کلرک کا قصہ بھی سنیں جس کی کوئی کہانی کسی ادبی رسالے نے نہیں چھاپی، پھر بھی آج اسے امریکا نہیں، دنیا کے عظیم ادیبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ہارپر لی کا تعلق ریاست الاباما کے ایک چھوٹے سے قصبے تھا۔ ان کے والد وکالت کرتے تھے اور الاباما اسمبلی کے رکن بھی رہے۔ وہ لی کو بھی وکیل بنانا چاہتے تھے۔ انھوں نے الاباما یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کی لیکن ایک سیمسٹر پہلے ڈگری چھوڑ دی جس پر ان کے والد بہت خفا ہوئے۔
لی نیویارک آگئیں اور چھوٹی موٹی ملازمتیں کرنے لگیں۔ ایک بک اسٹور میں کام کیا۔ پھر ائیر ٹکٹ بکنگ کلرک بن گئیں۔ اس دوران آٹھ کہانیاں لکھیں اور ادھر ادھر بھیجیں لیکن سب ناقابل اشاعت قرار پائیں۔ انھوں نے ایڈیٹرز کے خطوط سنبھال کے رکھے۔
مغربی دنیا میں ادیب کو چھپنے کے لیے ایجنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلکہ میرا تجربہ پوچھیں تو امریکا میں صحافیوں کو اچھی جاب بھی ایجنٹ کے ذریعے ملتی ہے۔ یہ بات بیشتر امیگرنٹ صحافی نہیں جانتے اس لیے اکثر بیروزگار رہتے ہیں۔
لی نے ایجنٹ کو ایک ناول "گو سیٹ اے واچ مین” کا مسودہ دیا۔ ایجنٹ نے وہ ناول ایک پبلشر کو دکھایا۔ پبلشر کی ایڈیٹر نے لی کو بتایا کہ یہ چھپنے لائق نہیں لیکن آپ کوشش کرکے اسے بہتر بنا سکتی ہیں۔ اس کے بعد دو سال تک لی اور وہ ایڈیٹر مسودے پر محنت کرتی رہیں۔ انھوں نے اتنی محنت کی کہ وہ ابتدائی مسودے سے مختلف ناول بن گیا اور چھپ کر ایسا کامیاب ہوا کہ پلٹزر انعام کا حق دار قرار پایا۔ اس پر فلم بنائی گئی جس نے تین آسکر ایوارڈز جیتے۔
ہارپر لی کے ناول "ٹو کل اے موکنگ برڈ” کو اب کلاسک کا درجہ حاصل ہے۔ یہ امریکی نصاب تعلیم کا حصہ ہے۔ اس کی زبان اتنی آسان ہے کہ اسے مڈل اسکول میں پڑھایا جاتا ہے۔
ریڈرز ڈائجسٹ کا ادارہ سال میں چار بار چار پانچ نئے ناولوں کی تلخیص کرکے ایک کتاب کی صورت میں چھاپتا ہے۔ اسے ریڈرز ڈائجسٹ کنڈنسڈ بک سیریز کہا جاتا ہے۔ 1960 میں اس نے چار دوسرے ناولوں کے ساتھ ٹو کل اے موکنگ برڈ کی تلخیص کی تھی۔ میں نے بہت ڈھونڈ کے وہ کتاب حاصل کی کیونکہ اس کی تاریخی حیثیت ہے۔
موکنگ برڈ کے بعد ہارپر لی کے چند مختصر مضامین چھپے لیکن انھوں نے باقی کی پچپن چھپن سال کی زندگی میں مزید فکشن نہیں لکھا۔ 2016 میں ان کے انتقال سے سال بھر پہلے ان کا ناول گو سیٹ اے واچ مین بھی چھپ گیا جو دراصل موکنگ برڈ کی بنیاد تھا۔
ہارپر لی کے انتقال کے بعد ان کے کاغذات دیکھے گئے تو ان میں نصف صدی پہلے کی ناقابل اشاعت کہانیاں اور ایڈیٹرز کے خطوط نکل آئے۔ بڑے ادیب کے بچپن کا کام بھی تبرک ہوتا ہے۔ چنانچہ ان کہانیوں، خطوط اور ہارپر لی کے مختلف جریدوں میں چھپنے والے مضامین کو جمع کرکے ایک کتاب مرتب کی گئی، جس کا عنوان دا لینڈ آف سوئٹ فور ایور رکھا گیا۔ یہ کتاب امریکہ سے گزشتہ برس شائع ہوئی۔