Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » شعری مجموعہ ‘گلِ دوگانہ’

شعری مجموعہ ‘گلِ دوگانہ’

سلمان ثروت

کی طرف سے Ranaayi دسمبر 19, 2025
کی طرف سے Ranaayi دسمبر 19, 2025 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
81

 

میرے خیال میں کاشف رضا نے گلِ دوگانہ میں اردو شاعری کے عمومی رجحان کے ساتھ وہی کام کیا ہے جو مارکس نے ہیگل کی مثالیت پسندی کے ساتھ کیا تھا۔ ہیگل کے نزدیک تاریخ کا سفر روح سے وجود، خیال سے مادی حقیقت، یا نظریات اور مذاہب سے ثقافت اور معیشت کی جانب ہوتا ہے۔ مارکس نے یہ ترتیب الٹ دی تھی اور معیشت کو تہذیب کی بنیاد قرار دیا تھا۔

اردو شاعری کی ایک روایت میں بات تصوراتی عشق اور تخیلاتی حسن سے ہوتی ہوئی کسی مجسم محبوب کا پتہ دیتی ہے۔ گلِ دوگانہ میں کاشف رضا نے جسم کے تجربات کو شعور کی بنیاد میں رکھ کر حسن، عشق اور وجودی سوالوں کی جانب پیش قدمی کی ہے۔ یہاں لمس جذبات سے پہلے اور خیال تجربے کے بعد ہے۔ بوسہ اور اس قبیل کی لفظیات کا صراحت سے استعمال گلِ دوگانہ کی پہلی پرت ہے جو محض جسمانی تجربے کی عکاس نہیں بلکہ ایک گہرے احساس کی ترجمان ہے جس میں شادمانی بھی ہے اور یاسیت بھی، پیاس بھی ہے اور سیرابی بھی۔ اس بات کو ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ شعور کے تانے بانے انسانی نفسیات کی ادھیڑ بُن ہے اور نفسیات کا دارومدار حسیات پر ہے۔ یوں حسیات سے احساس کا سفر کاشف رضا کو ذات، شعور اور کائنات کے باہمی تعلق کی طرف لے جاتا ہے۔ جہاں شناخت اور وجود ایسے موضوعات کا فکری تموج سامنے آتا ہے۔ یہ گلِ دوگانہ کی دوسری پرت ہے۔ یہاں کاشف رضا کی شخصیت کے وہ پہلو جو بطور ادیب، ناولسٹ اور صاحبِ مطالعہ کے ہمارے سامنے ہیں نمایاں ہونے لگتے ہیں، مثلاً عشق اور ذات کی تلاش کے لیے مختلف تلمیحات کا استعمال، قدرے مُفرس اظہار، استعاراتی اسلوب اور داخلیت سے خارجیت کی طرف رخ کرنا۔ کاشف رضا کی شاعری میں کہیں جذبے کی سچائی فکری پیچیدگی کو زیر کرتی ہے تو کہیں کہیں مشکل پسندی بھی خیال کی روانی پر غالب آجاتی ہے اور شاید یہی گلِ دوگانہ ہے۔

 

فقط یہ عشق نہیں ہے مرے ہنر کا عروج

ہے اُس کا حُسن بھی اک نقطۂ کمال مرا

 

تری شدید ضرورت بھی ہے مجھے، لیکن

ترے بدن سے زیادہ ہے کچھ سوال مرا

 

جو کھو چکا ہے، وہی اب ہو میرا سرمایہ

جو مل گیا ہے مجھے، وہ مری کمی ہی نہ ہو

 

خدائے دہر مرا ہی شعور ہے کاشف

تو کائنات کی سازش کہیں میری ہی نہ ہو

 

تمھاری ہم قدمی پر ہے خوش خرام ہوا

تمھاری سانس کو جی کر صبا شگفتہ ہے

 

تڑپ بھی ہے مری اور باعث سکوں بھی ہے

ترا بدن میرا حاصل بھی ہے، جنوں بھی ہے

 

بدن پہ دوڑتی آنکھوں کی پیاس غور سے پڑھ

کہ آنکھ ذرۂ صحرائے اندروں بھی ہے

 

کھلا نہ ایک بھی در سر کشیدگی پہ مری

ہوا ہوں خاک تو دامن کشا زمیں ہے بہت

 

اسپ وحشت سے لکھی مملکتِ دل تاراج

میں نے جب عشق کی تاریخِ فرشتہ لکھی

 

ویسے لکھی نہ گئی جیسے لکھی تھی دل پر

میں نے کاغذ پر اگر تیری تمنا لکھی

 

وہ جو بے اذن اُڑا لاتا تھا خوش بو تیری

پہلے پہلے تو وہ گستاخِ حنا میں ہی ہوا

 

کیسی شفاف فضا تھی یہاں اوّل اوّل

ایک موسم تو یہاں بال کشا میں ہی ہوا

 

تیرے باعث تھا میں سیار و ثوابت کا حریف

اور ترا اذن ہوا جب تو فنا میں ہی ہوا

 

زخم بھی اس نے دیے ہیں، یہی مرہم میرا

جسم ہی جشن مرا جسم ہی ماتم میرا

 

خدا ہوا نہ کوئی اور ہی گواہ ہوا

لکھا جو حرف تو ہونے کا اشتباہ ہوا

 

نواح عشق تلک کھینچتی گئی خوش بو

اک ایسا گل مری سانسوں پر افتتاح ہوا

 

کبھی کبھی ترے دل تک پہنچ گیا میرا درد

کبھی ہوا تو یہی عشق میں گناہ ہوا

 

پل صراط نہ تھا، دشت نینوا بھی نہ تھا

تمھارا ہجر مگر ہم سے کٹ رہا بھی نہ تھا

 

نجانے کیوں تمھیں ایک اک خراش جانتی تھی

ہر ایک زخم تمھارا دیا ہوا بھی نہ تھا

 

بندھے ہوئے تھے کئی عہد، گر کرو محسوس

کرو جو یاد، تو وعدہ کوئی ہوا بھی نہ تھا

 

کسی کی چشمِ دعا گو کا ہے کرم ورنہ

کئی دنوں سے تو میں برسر دعا بھی نہ تھا

 

حیائے عشق بتاتی تھی اُس کی آنکھوں میں

میرا نہیں تھا اگر وہ، تو غیر کا بھی نہ تھا

 

نازک سی اک لکیر تھی پلکوں کے آس پاس

دل اُس پل صراط پہ کٹتا رہا بھی ہے

 

تکتا رہا ہوں آج بہت دیر تک وہ ہونٹ

اک رنگ اُن میں سرخیِ لب کے سوا بھی ہے

 

خالی سا کر گیا ہے ترا ہجر، ورنہ پاس

چوکھٹ بھی ہے، جبیں بھی ہے، اور اک خدا بھی ہے

 

اک پھول توڑتا ترے صد رنگ باغ سے

اک شاخِ لمس تیرے چمن سے تراشتا

 

لفظوں کو سونپتا ترا اُسلوبِ دل بری

اک رنگ تیرے رنگ سُخن سے تراشتا

 

کم پڑ گیا ہے ہجر ترا، ورنہ ایک روز

میں تجھ کو اپنے رنج و محن سے تراشتا

 

وہ سیر گل کے واسطے آ ہی نہیں رہا

سو اب وہ لطفِ آب و ہوا ہی نہیں رہا

 

کچھ روز سے اداس ہے دل، اور بہت اداس

اور کیوں اُداس ہے، یہ بتا ہی نہیں رہا

 

منتظر تھے تیرے ملبوس کے سوکھے ہوئے پھول

وہ جنھیں تیرے پہننے سے سنور جانا تھا

 

اذن در اذن چمکتے تھے ستارے دل کے

آج سب کو تری آنکھوں میں اُتر جانا تھا

 

کہو تو یہ کہو دل کو خوش آ رہی ہے ہوا

مشامِ جاں سے گزرتی صبا کا نام نہ لو

 

کوئی پہنچا نہ مری روح کی تنہائی تک

چھان آیا ہوں ترے عشق کی پہنائی تک

 

کسی کی آنکھ نے ایسی ستارہ سازی کی

کہ میرے حرف سے نیرنگ کہکشاں چھلکا

 

میں نے تصویر بنائی تو مخاطب بھی ہوئی

حرف کو ہاتھ لگایا تو وہ زندہ بھی ہوا

 

ہم نے بھی ایک عام سا جیون بسر کیا

خوشیوں پہ مسکرا دیے اور دُکھ پہ رو لیے

 

بنا رہا ہوں تجھے میں، کہ ہو مری تکمیل

سنورتا جاتا ہوں میں خود، تجھے بناتا ہوا

 

میرے اندر اتنے رنگوں کی مٹی ہے

تم جس رنگ میں بھی چاہو گی مل سکتا ہوں

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • جمالِ زیست
  • عربی زبان کے عالمی دن کے حوالے سے چند باتیں
  • انجنہاری کی گھریا؛ایک مطالعہ (دوسری قسط)
  • الحمراء کا تازہ شمارہ شائع ہو گیا
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
طلب مکرر؛ شمس و رومی اور غالب
اگلی تحریر
جمالِ زیست

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

بکھری ہے میری داستاں؛ ایک مطالعہ

جنوری 5, 2026

ایک تبصرہ

دسمبر 8, 2025

خورشیدِ غالب (غالب ڈے کی مناسبت سے)

دسمبر 26, 2025

نئے سال کی آمد پر ایک نظم

جنوری 3, 2026

سنسکرت کی دو کتابیں اور چند جملے

دسمبر 30, 2025

منقبت حضرت عباس بن عبد المطلب

جنوری 5, 2026

عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

جنوری 12, 2026

رومی کے چند اشعار کا ترجمہ

جنوری 7, 2026

عربی زبان کے عالمی دن کے حوالے سے چند باتیں

دسمبر 15, 2025

مولانا ظفر علی خان اور فارسی

دسمبر 8, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • روشنی (کہانی)
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید
  • اخلاق احمد کی کتاب بھید بھرے
  • احوال ایران؛ چند فکری زاویے

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 238 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 215 views
  • 3

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 211 views
  • 4

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 204 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 180 views

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • روشنی (کہانی)

    جنوری 13, 2026
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

    جنوری 12, 2026
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید

    جنوری 11, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

عربی زبان کے عالمی دن کے...

دسمبر 15, 2025

ایک نئی زبان کیوں سیکھی جائے؟

دسمبر 11, 2025

تخلیقی فرصت

دسمبر 8, 2025
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here