Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » بےمثل عربی دان محمد کاظم اور ایک کتاب

بےمثل عربی دان محمد کاظم اور ایک کتاب

عاصم کلیار

کی طرف سے Ranaayi دسمبر 18, 2025
کی طرف سے Ranaayi دسمبر 18, 2025 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
68

بشکریہ: محمد اسلم ملک

 

ہم سب ابن خلدون کے نام سے تو واقف ہیں مگر اس پر لکھی گئی ایک اہم کتاب کے لکھاری محمد کاظم سے صرف وہی لوگ واقف ہوں گے جو جاننے اور سیکھنے کی جستجو میں زندگی گزار دیتے ہیں سچ پوچھیے تو یہ جو انگریزی کا محاروہ ہے کہ

ALL MY HATS OFF

یہ مملکت خدا داد میں صرف کاظم صاحب جیسے معدودے چند لوگوں پر ہی صادق آتا ہے کاظم صاحب جیسے لوگ کسی بھی شہر کی تہذیبی،فکری اور علمی زندگی کے روح رواں ہوتے ہیں اُن سے سیکھنے کے لۓ کئ زندگیاں درکار ہوتی ہیں اُن جیسے مصنفین کے لکھے ہوۓ ہر لفظ کی پاسداری تو مجھ جیسے لوگوں پر اس لۓ بھی واجب ہے کہ لکھنے والے خود حروف کی حرمت سے واقف تھے اور رہا کاظم صاحب کا کردار تو دوستوں نہ انہوں نے کبھی قبلہ بدلا اور نہ ہی قبلہ نما بدلا قاسمی صاحب سے تعلق دیرینہ تھا فنون کے علاوہ اُن کی تحریر تب ہی کہیں شائع ہوتی جب وہ کسی اور پرچے کو بھیجتے عربی زبان و ادب پر غیر معمولی دسترس اور کچھ ذہنی افتادطبع ایسی تھی کہ مودودی صاحب اور جماعت اسلامی کے ساتھ کئی ماہ و سال عمر کے بسر کر دیئے، مودودی صاحب کی کتابوں کا عربی میں ترجمہ کیا جسے عرب دنیا کے مفکرین نے نہ صرف سراہا بلکہ کاظم کے ترجمے اور زبان و بیان پر ان کی قدرت نے بہتوں کو حیران کر دیا مگر جب مغربی فلاسفہ کے افکار کا کاظم صاحب نے مطالعہ کیا تو جماعت اسلامی سے برسوں کی وابستگی کے باوجود آہستہ آہستہ دور ہونے لگے یقینًا اس حوالے سے کچھ ذاتی وجوہات بھی آڑے آئی ہوں گی مگر سچ تو یہ ہے مودودی صاحب نے جماعت اور اپنی ذاتی شہرت کے حوالے سے کاظم صاحب کو استعمال کیا.

کاظم صاحب نے اگر الف لیلہ پر مضمون باندھا تو تہذیب،داستاں گوئی،روایت اور تراجم سمیت اس کی تمام جہتوں کو کچھ اس طرح سے بیان کیا کہ اُن کے بعد کسی اور کے لۓ لکھنا اگر ناممکن نہیں تو آسان بھی نہیں رہا قدیم عربی شعر و ادب پر قلم اٹھایا تو لوگوں کو معلوم ہوا کہ کاظم صاحب نے تو کئ زمانوں کا ادب پڑھ رکھا ہے سفر نامہ لکھا تو کسی بھی پاسکل یا کسی اور افسانوی کردار کا سہارا نہیں لیا بلکہ جو کچھ جرمنی میں اُن پر بیتا وہی بلا کم و کاست بیان کر دیا.

کاظم صاحب جیسے لوگ تنہا کب رہتے ہیں وہ ساری عمر کتابوں کے ساتھ بسر کرتے ہیں کاظم صاحب نہ سلسلہ تصویریہ سے تعلق رکھتے تھے اور نہ ہی ادبی تقاریب میں سٹیج پر جلوہ افروز ہونے کی لت میں مبتلا تھے کاظم صاحب شہر لاہور میں ہی رہتے تھے میرے کئ دوستوں اور کرم فرماؤں کے ساتھ اُن کا برسوں پر محیط قریبی تعلق تھا مگر مجھے کاظم صاحب سے ملنا تو کیا اُن کی زیارت کی بھی کبھی سعادت نصیب نہیں ہوئی سوچتا تھا اس شہر میں یہ جو عالم بے بدل رہتا ہے اس مل کر مجھ جیسا جاہل گفتگو کیا کرے گا.

کاظم صاحب پر تو لکھنے کے لۓ دفتروں کے دفتر درکار ہیں "ابن خلدون حیات و آثار” کاظم صاحب کے انتقال کے بعد ریڈنگز کے اشاعتی ادارے القاء پبلکیشنز کے تحت شائع ہوئی.

یہ عبدالرحمان نامی پراگندہ طبع نوجوان جو ابن خلدون کے نام سے مشہور ہوا ملکوں ملکوں پھرتا اور قربتِ شاہ کے لۓ کیا کیا جتن کرتا نہ گھر کی فکر اور نہ بچوں کی طرف توجہ دربار و سرکار میں رسائی کو حاصل حیات سمجھتا دوربیں بھی غضب کا تھا وقت سے پہلے بھانپ لیتا کہ بادشاہ کا سورج نصف النہار سے زوال کی جانب گامزن ہونے کو ہے اور آنے والے دنوں میں ہما فلاں کے سر بیٹھے گا بس پھر تمام تعلقات اور وسائل مستقبل کے حکمراں سے راہ و رسم پیدا کرنے میں صرف کر دیتا اور کبھی کبھی تو سامنے سے مسکرا کر ملتے ہوۓ پیٹھ پیچھے چھرا بھی گھونپنے سے دریغ نہ کرتا جب وہ صاحب قراں امیر تیمور سے ملنے گیا تو قلعے کی فصیل سے رسیوں سے لٹکتا ہوا باہر نکلا مگر تحائف کا ذخیرہ ساتھ لے گیا امیر تیمور فاتح عالم بننا چاہتا تھا اس نے ابن خلدون سے درخواست کی کہ اے عبدالرحمان تم شمال مغربی افریقہ کے علاقے میں برسوں رہے وہاں کے سماجی و سیاسی حالات پر مجھے تفصیل سے لکھ کر دو تیمور کا مقصد دراصل یہ تھا کہ وہ ابن خلدون کی تحریر کو پڑھنے کے بعد آسانی سے اُن علاقوں پر فوج کشی کر سکے گا ابن خلدون حکم بجا لایا مگر ساتھ ہی شمال مغربی افریقہ کے بادشاہ کو لکھ بھیجا کہ وہ تیمور سے ملا اور تاتاری کس قماش کے لوگ ہیں فاتح عالم بننے کے چکر میں تمھارے علاقے پر بھی حملہ آور ہو سکتے ہیں بس یوں سمجھیں کہ یہ عبدالرحمان اپنے جہلم کے چھوکرے جیسا تھا جس کی جگہ اب مس اعوان کو لایا گیا ہے.

یہ جو ابن خلدون کے مقدمے کو اب شہرت دوام حاصل ہے یہ دراصل کوئی باقاعدہ تصنیف نہیں بلکہ ابن خلدون نے جو تاریخ لکھی اس کے ابتدا میں مقدمے کے طور پر یہ طویل تحریر شامل تھی اب تاریخ کا پورا نام بھی سن لیں "عبرتوں کا ذخیرہ اور عرب و عجم اور بر برا اور ان کی معاصر بڑی مقتدر ہستیوں سے متعلق اگلے اور پچھلے حالات کا مجموعہ” تاریخ کے آخر میں خلدون نے اپنے سوانحی حالات کا تذکرہ کچھ یوں کیا ہے کہ گفتنی کو بیان کیا اور ناگفتی کے بارے ایک لفظ تک نہیں لکھا اور سچی بات تو ہے کہ آج بھی بیشتر سخنوروں کا یہی انداز ہے.

یہ عبدالرحمان سے ابن خلدون یوں ہوا کہ جب اس کے اجداد ہجرت کر کے ملک اندلس آۓ تو خالد نامی بزرگ خلدون پکارا جانے لگا بس پھر اس کے بعد لفظ خلدون قبیلے کے نام کا حصہ قرار پایا ابن خلدون نے زندگی میں ایک خوفناک طاعون دیکھا اور ایک بار اس کا خانوادہ سمندری جہاز سے مصر جارہا تھا جہاز کے ساتھ اس کا پورا خاندان بھی غرق ہو گیا ان دو واقعات نے خلدون کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیۓ خلدون ملک مصر کے شہر قاہرہ میں فوت ہوا اس کا مزار آج بھی وہاں موجود ہے.

مقدمہ اگرچہ کوئی الگ سے کتاب نہیں وہ تاریخ کا دیباچہ ہے مگر وہ دیباچہ کئ کتابوں پر بھاری ہے جو اس بات سے بحث کرتا ہے کہ مورخ صرف گزشتہ زمانوں کا احوال رقم نہ کرۓ بلکہ گزرے ہوۓ حالات سے نتائج حاصل کرکے موجودہ زمانے کے عوامل اور مستقبل کے بارے بھی لوگوں کو آگاہ کرۓ خلدون کا مقدمہ معاشرت اور سماجی علوم کے حوالے سے پہلی کتاب تسلیم کیا جاتا ہے جس نے تمام مورخین اور انتھروپولوجیسٹ کو متاثر کیا میکاولی کی تصنیف پرنس بھی خلدون کے نظریات کی عکاس ہے شائد میکاولی پرنس لکھنے سے پہلے خلدون کے کام یا نام سے واقف ہو.

نوٹ۔ کاظم صاحب کے بارے عزیز دوست محمود الحسن کے مضمون سے استفادہ کیا گیا ہے.

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • جمالِ زیست
  • عربی زبان کے عالمی دن کے حوالے سے چند باتیں
  • اسامہ صدیق کا نیا انگریزی ناول شائع ہو گیا
  • معروف مصنف عرفان جاوید کی سال 2025 کی پسندیدہ کتابیں
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
عربی زبان کا عالمی دن ڈاکٹر خورشید رضوی کے ساتھ
اگلی تحریر
رومی جنوبی ایشاء میں ؛ چند نکات

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

معروف مصنف عرفان جاوید کی سال 2025 کی پسندیدہ کتابیں

دسمبر 9, 2025

مولانا ظفر علی خان اور فارسی

دسمبر 8, 2025

عربی زبان کے عالمی دن کے حوالے سے چند باتیں

دسمبر 15, 2025

گزرتے برس کی ایک اہم کتاب

دسمبر 22, 2025

نئے سال کی آمد پر ایک نظم

جنوری 3, 2026

الحمراء کا تازہ شمارہ شائع ہو گیا

دسمبر 13, 2025

سنسکرت کی دو کتابیں اور چند جملے

دسمبر 30, 2025

ایک تبصرہ

دسمبر 8, 2025

کیمیا گروں کا کیمیا گر

دسمبر 9, 2025

انجنہاری کی گھریا؛ ایک مطالعہ (تیسری قسط)

دسمبر 11, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • روشنی (کہانی)
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید
  • اخلاق احمد کی کتاب بھید بھرے
  • احوال ایران؛ چند فکری زاویے

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 238 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 215 views
  • 3

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 211 views
  • 4

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 204 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 180 views

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • روشنی (کہانی)

    جنوری 13, 2026
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

    جنوری 12, 2026
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید

    جنوری 11, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

قدیم شاعری پڑھتے ہوئے

جنوری 7, 2026

صوفیوں کا استاد رنِد

دسمبر 8, 2025

نئے سال کی آمد پر ایک...

جنوری 3, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here