Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » تحویل کی تحلیل (دوسری قسط)

تحویل کی تحلیل (دوسری قسط)

ناول نگار: زیب اذکار حسین

کی طرف سے Ranaayi اکتوبر 1, 2026
کی طرف سے Ranaayi اکتوبر 1, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
21

جب مجھے اتنی آزادی حاصل تھی کہ میں خود سے باز پُرس کر سکوں، تو یہ لازم ٹھہرتا تھا کہ میں اِس ضمن میں کوئی دائرہِ کار طے کروں۔ مجھے یہ اشارے بھی ملے تھے کہ یہ آدمی جسے کبھی زیڈ۔اے۔ ایچ تو کبھی زاح کہا جاتا تھا، تارک الدنیا بھی ہو سکتا ہے۔ میں جلد از جلد اس غیر جانبدار چالباز سے ملاقات کا خواہاں تھا۔ مجھے اندھیرے میں تاریکی کی وہ آنکھیں دِکھائی دے رہی تھیں جو جسمانی جوار بھاٹا سہار نہیں سکتا تھا۔ یہاں پر وہ تھا کہ ایس۔ اے۔ ڈی سے مُلاقات کر رہا تھا۔ کوئی اے۔ ڈی۔ ایس ہوتا تو گُڈ بکس اور بلیک بُکس یا بیڈ بُکس کا سُوال ہی پیدا ہوتا، یہاں تو پیدائش سے پہلے ہی موت واقع ہو گئی تھی۔ اُسے کسی کو کسی بکس (box) کے ساتھ بریکٹ کرنے کا شعور ہی نہیں تھا۔ وہ تو خود اِن بَکس سے باہر رہنے کی تَگ و دو میں تھا۔ وہ تو جیسے آؤٹ سائڈ دی بکس (out side the box) خیال آرائی کے ذون (zone) کا باشندہ تھا۔ البتہ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں تھی کہ وہ سی۔ آر۔ ایس سے خود ملاقات کا خواہاں کبھی نہ رہا تھا۔

اس زاح نامی تابع فرمان کی ہر حرکت میری نگاہ میں تھی۔ بہت بعد میں، اُس کا واسطہ، اُس سے بھی پڑا، مگر وہ محض تعلق زُبوں حالیِ نُگاہ کے دائرے تک ہی محدُود رہا۔ یہ بات اپنی جگہ درست تھی کہ ای۔ اے۔ او سے اِس کی مُلاقات شاذ ہی ہو رہی تھی، اس حقیقت کے باوجود کہ اُسے سیکنڈ ٹُو ایس۔اے۔ ڈی ہونے کا درجہ حاصِل تھا۔

وہ ایک مختصر سے کمرے کا با اختیار باسی تو تھا ہی کام بھی بہت کر رہا تھا۔ یہ بات واضح طور پر محسُوس کی جا رہی تھی کہ وہ ایک روز ایک وسیع و عریض کمرے کا اختیار بھی حاصِل کر لے گا۔ یہ بھی بہت بعد کی بات ہے کہ ایک بار دوستانہ انداز میں اُس نے زاح کو مشورہ دیا تھا کہ اُسے رہنمایانہ کردار ادا کرتے ہوۓ اپنے ادارے کے کرتا دھرتا معززین کا دفاع بھی کرنا چاہیے کہ ہیڈ أف دی گروپ سی۔آر۔ ایس کے خلاف ایک دوسرا نام نہاد سی۔أر۔ ایس مُسلسل منفی

خبریں چھاپنے، چھپواتے پر تُلا ہے۔ اب وہ ایک نہیں تھا، دو تھے اور دونوں عاقل و بالغ ہونے کا دعویٰ کر کے اُس پر مُتشکِر تھے۔ اس پر غور ہوتا رہا کہ کِس طرح کا عملی اقدام اُثھایا جانا چاہیے کی یہ کم نگاہ

اپنی منًفیت سے باز آ جائیں اور سی۔ایس۔ أر اطمینان کا سانس لے سکے۔

ای۔اے۔ او نے یہ مشورہ بھی دے ڈالا کہ سی۔بی۔ اے ی۔اے یُونین کے پلیٹ فارم سے اسے بیانات شائع کیے جائیں جو اِن کی قلعی کھولیں کہ کیسے نیشنل نیوز اور دیگر ناموں کے ذریعے شام کے اخبارات جاری کر کے کچھ کھلنڈرے موقع پرستی کا ثُبوت دیتے ہیں اور پھر معاصر اخبارات اور اُن کے ہیڈز کو بدنام کرتے ہیں۔ بہر طور عملی طور پر یہ بات آئی گئی ہو گئی کہ وہ صدرِ یونین کی حیثیت میں ایسے اقدامات اُٹھانے کا قائل ہی نہیں تھا اور ان بنیادوں پر تو وہ ترقی پر مائل ہی نہیں تھا۔

ابتدائی تفصیلی ملاقات، جسے انٹرویو کا نام دیا جا سکتا ہے، میں بہت سی چیزیں طے ہو جاتی ہیں۔ اب تو بس کام کرنا تھا۔ اس مُلاقات کے لیے ایک روز اچانک اُسے اُس شام کے اخبار (eveninger) کے مُدیر نے بھیجا تھا، جو اس کے لیے شفقت کا مُرقع بن گیا تھا۔ اُس انگریزی کے شام کے اخبار میں اس نے بمشکل چھ ماہ ہی کام کیا ہو گا کہ وہاں سے رُخصت ہونا پڑا۔ اُس اِشارتِ فضل کا اصرار تھا کہ اسے کم از کم کسی انگلش ڈیلی میں کام کرنا چاہیے اور اس کے لیے اس مہربان نے اسے اس ملحقہ عمارت کی چوتھی منزل پر بھیج دیا جہاں ایک ٹیم اس سے گُفتگو کی منتظر تھی۔

اس ٹیم کے سربراہ ایس۔اے۔ ڈی تھے، جن کے ہمراہ اے۔کے۔ ایس بیٹھے مُسکرا رہے تھے۔ بعد میں انہوں نے کہا ‘انٹرویو کال’ کے پس پردہ وہ تھے۔ وجہ یہ بتائی کہ وہ اکثر اس شام کے اخبار کا وزٹ کیا کرتے تھے اور زاح، اُنہیں اپنے کام میں بہت کِین (keen) نظر آیا تھا۔ جب کہ ایک ظاہر دار کولیگ کا کہنا تھا کہ اے۔کے۔ ایس کا اسمیں کوئی عمل دخل نہیں تھا، زاح کو ایس۔ ای۔ جے نے ریکَمینڈ (recommend) کیا تھا۔ ظاہردار نے اشارتأ جنابِ جے کا یہ خفیہ پیغام بھی دیا کہ اے۔کے۔ ایس کو کِسی شُمار میں رکھنا صائب عمل نہیں ہو گا۔ زاح ان باتوں کا کیا اثر قبول کرتا، وہ تو اثر پذیری کے عمل ہی سے ماورا ہو کر رہ گیا تھا۔

ایس۔اے۔ ڈی نے شاید ہی کوئی سُوال پُوچھا ہو۔ بس باہمی گفت و شنید کا سلسلہ جاری رہا۔ ایس۔اے۔ ڈی نے جیسے سی۔ وی (Curriculum Vitae) پر نظریں جماۓ جماۓ اپائنٹمنٹ (apponitment) کی منظوری (approval) دیتے ہُوۓ معنی خیز مُسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا "فروری میں أپ کو اپنے جوہر دکھانے کا۔موقع ملے گا جب اوریجنل پروڈکٹ سامنے آۓ گی۔”

میں نے سُنا ہے کہ دو سال تو ویسے ہی کنٹریکٹ پیپر کو رینیو (renew) نہ کر کے گھسیٹ لیے گیے تھے۔ یہ اکیلا نہیں تھا، وہ سب بھی تھے، جو اِس کے ساتھ اس دُنیا میں داخل ہُوۓ تھے۔ اس میں ایس۔اے۔ ڈی کا عمل دخل نہیں تھا، بلکہ ان دونوں کی کارستانی کے جوہر ہو سکتے ہیں جو اپنی خوشی کے ترنَم ہی سے باہر نہ آتے تھے اور اپنے ناموں کی ترتیب میں ایس۔ ایس کی شمولیت سے پر نازاں رہتے تھے۔ ایک تیسرا بھی ایس کے نام بر تفاخر کی تمثیل بنا قدرے توقُف سے شاملِ حال ہو جاتا، مگر اُس کا کام زیادہ تر پروڈکٹ کے نام پر بزنس لانے جمانے کا تھا۔

یہاں پر عُجلت نے زیڈ۔اے۔ ایچ کے ذہن کو یُوں مفلوج کر دیا تھا۔ کہ وہ لگ ورک (legwork) کو فُٹ ورک (footwork) کے مساوی قرار دینے پر بضِد نظًر آ رہا تھا۔ بس ایک گاڑی سے اُترا، دوسری پر سوار ہُوا، اور یہ جا، وہ جا۔ فیلڈ ورک کو ترک کرنا انصاف کا خُون کرنے کے مُترادف تھا۔ اکثر خبریں تقاضا کرتی تھیں کہ ٹیبل پر ہی اپنی موت أپ مر جائیں۔ مگر جب ٹیبل اسٹوری ہی کسی اخبار کا موٹو (motto) اور میرٹ (merit) بن جائے تو کمال أفریدی کو تو أنا ہی ہوتا ہے، حصولہِ ایاز بھی کیوں نہ آۓ۔ چند ایک کو باورچی خانے کا پورشن دے دیا جاتا ہے اور کُچھ کے لیے چار صفحات کا اضافہ کرنا پڑا، تو وہ بھی کر دیا جاتا ہے۔ کوئی تردُد کی بات نہیں ہے۔ ایسے حالات میں اکثر ایسی ایسی ٹیبل اسٹوریز پروڈیوس ہوتی ہیں کہ جن کے بارے میں عام قاری سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔ البتہ اگر کوئی قاری نام کا آدمی وہیں پر مُلازم ہو تو وہ دُوسری بات ہو جاتی ہے۔ اگر سرے سے روک ٹوک نہ ہو تو ٹیبل اسٹوری کی سرحدیں کہیں نہ کہیں پیلی صحافت (yellow journalism) سے جا ملتی ہیں۔

گویا محاسبہ کہیں پر بھی نہ کیا جاۓ تو پھر محاسبہ ہی اپنا رنگ بدل لیتا ہے۔ ایک بار کمال آفریدی کہنے لگا، "یار آجکل ہر دُوسرے روز وزیرِِاعلیٰ کو جام بے جام ایک اپنے اخبار کی لیڈ اسٹوری کے ذریعے آگاہ کرتا ہُوں کہ وہ ہوشیار ہو جاۓ، بلکہ وارننگ دیتا ہُوں کہ وہ ذرا کچے کے علاقے میں قدم رکھ کے دیکھے، ایک ڈاکو اسے چیلنج دے رہا ہے۔” اُس نے وہ اخبار دکھایا جِس کی سُرخی چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ ایک بدنامِ زمانہ ڈاکو نے سندھ کے موجودہ وزیرِ اعلیٰ کو چیلنج دیا ہے کہ وہ اس کے کچے کے علاقے میں قدم رکھ کر تو دکھاۓ۔

سچائی کی بابت پُوچھنے پر آفریدی نے بتایا کہ کون کس امر کی تصدیق کرے گا۔ کیا ڈاکو سے وزیرِ اعلیٰ صاحب پُوچھنے جائیں گے اور کیا مذکورہ ڈاکو اس خبر کی تردید کرنے آۓ گا۔ اس ٹیبل اسٹوری کو تراشنے کی وجہ یہ سامنے آئی کہ متعلقہ اخباری نُمائندے کو وزیرِ اعلیٰ صاحب نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں شریک ہونے کی دعوت دی، نہ موقع فراہم نہیں کیا، جس کا بدلہ آفریدی ہر دوسرے روز ایسی خبر کی اشاعت کے ذریعے لے رہا تھا۔

اس اخبار کے مدیر کو بھی اس بات سے کوئی غرض نہیں تھی کہ کیا سُرخی شائع ہو رہی ہے اور کیا خبَر کا نفسِ مضمون اشاعت پذیر ہو رہا ہے۔ شاید اصل غرض سبھی اسٹیک ہولڈرز کو اس امر سے تھی کہ کس تیزی سے اور کتنی زیادہ تعداد میں اخبار بِک رہا ہے۔

ان دنوں اغوا براۓ تاوان کے واقعات زوروں پر تھے۔ کچے کے کُچھ علاقوں سے گُزرنا جُوۓ شُیر لانے کے مُترادف تھا۔ انجان لوگ اکثر اغوا ہو جایا کرتے تھے اور پھر اُن کی رہائی تاوان کی بھاری رقوم کی ادائیگی کے بعد ہی مُمکن ہو سکتی تھی۔

شام کے اکثر اخبارات ایسی سنسنی خیز خبروں سے بھی قارئین کے مخصوص حلقے میں اپنی جگہ بنا لیا کرتے تھے۔ صبح کے اخبارات بہر طور مجموعی طور پر ایسی خبروں کی اشاعت سے محفوظ رہتے تھے۔

انگریزی اخبارات میں تو ایسی اسٹوریز کی بلکل گُنجائش نہیں تھی کہ اُن کا مزاج نسبتأ الگ تھا۔ یہ درست ہے کہ جہاں چند ابھرتے ہوۓ کاروباری طبقے کے لوگوں کو بوجوہ اپیز (appease) کرنا مقصود ہوتا، وہاں ایسی خبروں کو زبردستی زندہ کرنا بھی ایک کمال کی بات بن جاتی۔ لیکن کسی اخبار کی اپنی پالیسی کبھی اس طور کی نہیں رہی تھی۔ یہ کام انفرادی طور پر بعض ایسے لوگ کرتے جو جوہڑ فروش تھے اور دعوئٰ کرتے تھے کہ اس سے وہ اس کھاد کا کام لیتے ہیں جو فی الوقت وہاں نایاب تھی۔ اُن کے خیال میں، مخصوص پارٹیز (certain parties) کو اسپیس (space) دینا ناگزیر تھا۔

ادھر ایک پارٹ ٹائمر جرنلسٹ سر جھاڑ، مُنہ پھاڑ کبھی ڈیسک کا حصہ بن جاتا اور کپھی رپورٹنگ کا حصہ دار۔ یہ اخباری کارکن اپنے نام جواز جے کی مناسبت سے ڈیسک پر بیٹھ کر کبھی رپورٹرز کی گوشمالی کرتا نظر آتا اور کبھے سب ایڈیٹرز کی۔ شامت مارے رپورٹر کو کہتا یہ ایونٹ (event) اس طور تو منعقد ہو ہی نہیں سکتا تھا، جیسے رپورٹ کیا جا رہا ہے۔ پھر سب ایڈیٹر کی باری أتی تو کہتا تم نے میری فائلڈ کی گئی خبر کو ڈھنگ سے دیکھا ہی نہیں۔ اسے پالش کرتے تو بہت بہتر ہو جاتی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ یہ سب اعمال کسی رسمی اختیار کے بغیر سر انجام دیتا پھرتا۔ ممکن ہے کہ وہاں کے لوگوں کی ڈیسنسی (decency) اور ماحول کی شگفتگی نے اور نفاست نے اسے بے جا حد تک نڈر بنا دیا تھا۔

ویسے اُسے آفشیلی (officially) تو کپھی کسی اتھارٹی نے یہ اختیار نہیں دیا تھا، مگر اپنی سینیارٹی کا ناجائز فائدہ اُٹھانا اسے، جیسے بہت مرغوب تھا۔ ایک بات یہ بھی تھی جہاں کُچھ لوگ کسی خواہ مخواہ کے تنازعے (nuisance) سے بچنے کی غرض سے بھی اس کی اس کے نامناسب رویے کو نظر انداز کر دیا کرتے تھے، وہیں کُچھ اسے سئنیر ہونے کے جواز کے طور اپنی گوشمالی کا جواز دے پیٹھتے تھے اور وہ تھا کہ وہاں سے اُٹھنے کا نام تک نہ لیتا تھا، یہاں تک کہ ایک روز اسے پرجری (perjury)، یعنی ایک ہی وقت میں خفیہ طور دو کمپنیوں کو اپنی خدمات پیش کرنے کے الزام میں وہاں سے فارغ کر دیا گیا۔ وہ اکثر کہتا فیلڈ میں جو جاۓ گا، وہ اس کی مرضی و مُشاورت سے کام کرے گا۔ یہ ایک زبردستی کا سودا تھا۔ وہ رپورٹرز کی فائلڈ (stories filed) اسٹوریز سے پھی کوئی اسٹوری اپنے لیے چُن لیا کرتا اسے اپنی بائی لائن اسٹوری کے طور پر شائع کروا لیتا۔ یہ تب ہوتا جب کوئی نیا رپورٹر بے خبری میں اپنی دو بائی لائن اسٹوریز فائل کر کے دفتر سے رُخصت ہو جاتا۔ دوسرے روز ایک تحقیقی خبر، اُس کے نام سے اور دوسری متعلقہ رپورٹر کے نام سے چھپی نظر آتی۔ البتہ کسی کی مجال نہیں تھی کہ وہ اس سے باز پُرس کر سکے۔ اس حرکت سے شاکی رہنے والا نیا رپورٹر، اس سے اُلجھنے کے بجاۓ عالمِ حیرت ہی میں گُم رہتا تھا۔ پھر ایک دن اسے اچانک وہاں سے جانا ہی پڑا۔ اس کی اصل وجہ کسی کی سمجھ میں نہ آ سکی تھی۔ ایک صاحب البتہ دعویٰ کرتے تھے کہ انہیں سب خبر ہے، لیکن وہ یہ راز کسی سے شییر نہیں کرتے تھے۔ پُوچھنے پر کہتے "وقت آنے پر سب کُچھ بتاؤں گا، مدیر اور اس کے سگے سوتیلوں کا بھی بتاؤں گا۔” خیر وہ وقت تو کبھی نہ آ سکا، کیوں کہ وہ اسی اخبار کا ایک اہم نمائندہ بن کر واشنگٹن سُدھار گیے، اور وہاں سے باسی خبریں شرطیہ نیی کاپی کے ساتھ اپنے اخبار کوروانہ کرنے لگے۔ ان کے خیال میں کبھی کوئی خبَر آؤٹ ڈیٹڈ نہیں ہُوا کرتی تھی اور وہ تو بقول اُن کے ہمیشہ سے اپ ڈیٹڈ رہنے کے قائل رہے تھے۔

وہ جب سے اپنا ذاتی صفحہ مُرتب کرنے لگا تھا، اس کا دماغ دوسرے آسمان پر رہنے لگا تھا۔ چھوٹے چھوٹے خطوط مرتب کرتا، جان پہچان کے سادہ لوح لوگوں سے بار بار درخواست کرتا کہ وہ ا۔سے کوئی مراسلہ لکھ بھیجیں جسمیں شہر میں بلدیاتی نظام کی کوئی خامی بیان کی گئی ہو، یا کسی گٹر کے اُبلنے کی شکایت کی گئی ہو۔ چند ایک مراسلات کا کم و بیش ہر روز شائع ہونا ضروری تھا، ورنہ اُس کا تبادلہ کسی اور ڈیسک پر ہو سکتا تھا۔ پیج تشکیل دینا اور بات تھی اور سرے سے "ت” کو تیاگ دینا دوسری بات تھی۔ پر وہ بضد ہو گیا تھا۔ موقع ملتے ہی مراسلوں کو "پر”،لگانے بیٹھ جاتا۔ اُس نے خود کو مُوثًر ثابت کرنے کے لیے اپنے نام کا پہلا حرف جو ای سے شروع ہوتا تھا، وہی موخُر کر دیا۔

(جاری ہے)

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • شعوری کوشش کرتا اقبال خورشید
  • شعری مجموعہ ‘گلِ دوگانہ’
  • انجنہاری کی گھریا؛ایک مطالعہ (دوسری قسط)
  • بےمثل عربی دان محمد کاظم اور ایک کتاب
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
تحویل کی تحلیل (قسط اول)
اگلی تحریر
دو ستارے ڈوب گئے

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

جنوری 12, 2026

شعری مجموعہ ‘گلِ دوگانہ’

دسمبر 19, 2025

آدمی (افسانہ)

دسمبر 28, 2025

اسامہ صدیق کا نیا انگریزی ناول شائع ہو گیا

دسمبر 10, 2025

رومی کے چند اشعار کا ترجمہ

جنوری 7, 2026

خورشیدِ غالب (غالب ڈے کی مناسبت سے)

دسمبر 26, 2025

نصیر احمد ناصر کی دو نظمیں

جنوری 9, 2026

دمشق 680ء

جنوری 5, 2026

قدیم شاعری پڑھتے ہوئے

جنوری 7, 2026

انجنہاری کی گھریا؛ایک مطالعہ (دوسری قسط)

دسمبر 9, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • تحویل کی تحلیل (3)
  • دو ستارے ڈوب گئے
  • تحویل کی تحلیل (دوسری قسط)
  • تحویل کی تحلیل (قسط اول)
  • شعوری کوشش کرتا اقبال خورشید

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    لاہور بک فیئر کی تاریخوں کا اعلان کر...

    دسمبر 9, 2025 447 views
  • 2

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 440 views
  • 3

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 434 views
  • 4

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 425 views
  • 5

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 416 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (48)
  • انٹرویوز (4)
  • بچے (2)
  • بلاگ (46)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (31)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • تحویل کی تحلیل (3)

    اکتوبر 19, 2026
  • دو ستارے ڈوب گئے

    اکتوبر 12, 2026
  • تحویل کی تحلیل (دوسری قسط)

    اکتوبر 1, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (48)
  • انٹرویوز (4)
  • بچے (2)
  • بلاگ (46)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (31)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

منقبت حضرت عباس بن عبد المطلب

جنوری 5, 2026

کیمیا گروں کا کیمیا گر

دسمبر 9, 2025

بکھری ہے میری داستاں؛ ایک مطالعہ

جنوری 5, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here