14
وہ دل ملے جو کشاکش سے بے نیاز کرے
نشاط و حُزن میں کوئی نہ امتیاز کرے
وہ چپ رہے جسے لاحق ہے کائنات کا دکھ
بس اپنی ذات کو اپنا رہینِ راز کرے
کوئی تو ساتھ ہو میرے، ندیم ہو کہ رقیب
جو ذکرِ یار کو چھیڑے بھی اور دراز کرے
جو رمز پا سکے لاحاصلی سے حاصل کا
بپا وہ محفلِ رنگ و سبو و ساز کرے
جو پاس ہو وہ کرے دان، لے کسی سے نہ کچھ
وہ کیوں نہ اپنی تہی دامنی پہ ناز کرے
مرے لیے سخنِ اوّلیں علی کا نام
جو دل کو موم کرے، روح کو گداز کرے