یہ اُس شخص سے بھی کُھسر پُھسر کر رہا تھا جس نے کسی دُھن میں اپنا نام سعید سے سدا رکھ لیا تھا۔ کوئی بات سُنی نہ جا سکی تھی، اس لیے یقین سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ابتدأ کس موضوع پر گُفتگو ہو رہی تھی۔ البتہ بعد میں شاید کسی انور نامی آدمی اور اُس کی بیوی کی "چالاکیوں” پر سدا تبصرہ کر رہا تھا۔ یہ اُن کا پڑوسی تھا تو اُن کے ہاں بہت أنا جانا بھی تھا۔ اب اُن کے رہنے، سہنے اور کھانے، پینے کے طور اطوار پر ٹھہر ٹھہر کر سرگوشی کے سے انداز میں تبصرہ کر رہا تھا۔ اچانک وہاں پر عین ضامن آ گیا۔ سدا کے بارے میں کسی کا خیال تھا کہ وہ دُنیا میں بچوں، بڑوں، سب سے بلا کسی وجہ کے اگریسولی (aggressively) بات کرنے کے لئے عالمِ وجود میں آیا ہے۔ عین ضامن نامی کردار کے اِس بے ضرر سے سُوال پر کہ ‘آج کل أپ کیا کر رہے ہیں” سدا یُوں بھڑک اُٹھا، جیسے اُس نے کوئی غلط بات کہہ دی ہو۔ نہایت بےباکی سے کہنے لگا "فحش اعضاء کی تصویریں بنا رہا ہُوں۔ تفصیل بتاؤں؟”
یقینأ عین بے چارے کو اِس جواب کی توقع نہیں تھی۔ وہ قدرے پُھولے ہُوۓ غُبارے کی نقالی میں خاموش بیٹھا رہ گیا۔ اُس کی نظریں اِدھر، اُدھر بھٹکے لگیں تھیں اور یُوں لگ رہا تھا جیسے کھسیانی ہنسی بھی اُس کا ساتھ دینے سے اِنکار کر رہی ہے۔ اس کے باوجُود اُس نے مِیخائل گورباچوف کی سیاست پر چوٹ کرتے ہوۓ نحیف آواز میں کہا "اب صاف نظر آنے لگا ہے کہ عوامی جمہوریہ چین کی پالیسی ایٹ دی اینڈ آف دی ڈے (at the end of the day) سوشلزم کے حق میں درست قرار پاۓ گی۔”
اُس کی گفتگو کا انداز سُوالیہ تھا، مگر زاح کُچھ بھی کہنے سے گُریز کر گیا۔ اُس نے دوبارہ کہا "میری بات غلًط ہو تو مُجھے دُرست کیجے، دیکھنا یہ ہے کہ کس نظام میں عوام الناس کا بھلا ہو سکتا ہے۔” اِس بار یُوں لگا، جیسے یہاں پر فائدے سے فضول اور نقصان سے نامعقول کا مقولہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہو۔ زاح نامی أدمی سے میں نے کُچھ وقت اپنے لیے مانگنے کی درخواست کی، مگر اُس نے مُجھے کُلی طور پر نظر انداز کیا۔ وہ کُچھ سوچ رہا تھا۔ میں نے ٹہوکا دیا اپنے اس دوست کی بات کا جواب نہیں دو گے؟ وہ جیسے خود سے بڑبڑایا۔ "میرا یہاں مزید ٹھہرنے کا جواز بنتا نہیں ہے۔” اُس نے ایک نظر اپنے اُس دوست کو دیکھا، جو اُس کے بُنیادی دوستوں میں کبھی شامِل نہیں رہا تھا۔ وہ ایک اُدھر اس کا، اور ایک آدھا اِدھر، اِس کا دوست رہا تھا۔ اب وہ بھی خاموش ہو چُکا تھا۔
پھر زاح سے تو واضح طور پر کُچھ پُوچھا ہی نہیں گیا تھا۔ وُہ اس تازہ وارِد خبر میں کہیں سے بھی اسٹیک ہولڈر نہیں تھا۔ تب عین ضامِن نے دفعتأ دانت نکال کر اس سے تحقیقی صحافت اور تفتیشی صحافت کے فرق کے بارے میں دریافت کرنے کی کوشش کی، جس پر اُس کا ردِ عمل تحمل کی رفاقت آمیز تصویر سے مٌشابہ تھا۔ اُس کا دھیما لہجہ بھی ایک غیر متعلق فریق کے طور پر اُبھر رہا تھا۔ اُس نے کہا یہ فیفا (FIFA) نامی تنظیم اوریجنلی فیڈریشن انٹرنیشنل ڈی فٹبال ایسوسی ایشن کا ایبریوی ایشن(abbreviation) ہے۔ اِس مخفف کا بھلا عوامیت سے کیا سروکار ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی عالمی تنظیم ہے جو بین الاقوامی سطح پر فٹ بال میچوں اور کِھلاڑیوں وغیرہ کے ضِمن میں اصول و ضوابط طے کرتی، کراتی ہے۔ جیسے ورلڈ کپ کے انعقاد میں مُتعلِقہ لوگوں کے مفادات کی نگہبانی، کھیل کا طریقہِ کار اور دیگر اصولوں اور ضابطوں پر عملدرآمد کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو پابند کرنا وغیرہ، اِس کے فرائضِ منصبی میں شامِل ہیں۔
اب یہاں پر ہال خالی کیے جانے کا مرحلہ آ گیا تھا۔
وہاں پر موجود ویٹرز (waiters) دبے دبے لہجے میں اِکا دُکا لوگوں کے کان میں یہ بات ڈالنے لگے تھے کہ ہال کی بندش کا وقت آن پہنچا ہے۔
جیسے انسانی حال کا ایک وقت مُقَرًر ہوتا ہے، اسی طرح اُس ہال میں بھی نشست و برخاست کا ایک وقت مُقرَر تھا، خواہ وہاں تاش کی بازی کا جمنا ہنوز باقی ہو یا مشروبات سے دل بہلانے جانے کا عمل ابھی مُکمَل نہ ہُوا ہو، اُٹھنا تو پڑتا ہی تھا، اور اسے بھی یہ رعایت حاصل ہو چُکی تھی۔ وہ وہاں سے مُنہ بناتے ہُوۓ یوں رخصت ہُوا، جیسے دوبارہ وہاں بُھولے سے بھی قدم نہیں رکھے گا، مگر آئندہ کے حالات شاہِد ہیں کہ وُہ وہاں آتا رہا اور اپنے قدم جمانے کے منصوبے بناتا رہا۔ اُس نے اکثر شاہد نامی شخصیات سے ہی دوستی کی پینگیں بڑھائیں اور انہیں قائل کیا کہ اگر کسی مرحلے پر اُسے اُن کے ووٹ کی ضرورت پڑی تو وہ انکار نہیں کریں گے اور بیشتر نے وعدہ بھی کر لیا۔
وہ کچھ غیر ملکی وفود کے ساتھ وہاں پر دوبارہ پایا گیا۔ ایک بار تو وہ کسی سے شدید تکرار کرتے ہوۓ بھی دیکھا گیا۔ شاید وہاں ہال میں ٹی۔ وی پر کسی خبر کے حوالے سے بحث شروع ہو گئی تھی۔ ایک سینئر صحافی قمر۔ اے۔ محمود کا کہنا تھا کہ عام طور پر دو طرح کے خطرات ورکنگ جرنلسٹس(عامِل صحافیوں) کے سروں پر منڈلا رہے ہیں۔ ایک تو حکومتِ وقت کا دباؤ جو تنقید برداشت نہیں کر پاتی ہے اور ہر ایسی خبر پر برانگیختہ ہو جاتی ہے، جس پر اسے عوام کی طرف سے لعن طعن کیے جانے کا اندیشہ ہوتا ہے اور دوسرے نان اسٹیٹ ایکٹرز جو اپنے مختلف اہداف رکھتے ہیں اور خُفیہ طور پر اِن اہداف کی تکمیل کے لیے سرگرمِ عمل رہتے ہیں۔ یہ قُوتیں اپنے مفادات کی برآوری کے لیے خفیہ ایجنسیوں کے ریٹائرڈ اور کبھی کبھی حاضر اراکینِ کی مدد حاصل کرنےکے لیے بھی سرگرداں رہتے ہیں۔ ایسے عناصر
کرپشن اور کربٹ پریکٹسس (corrupt practices) کی نشاندہی کرتی ہوئی خبروں پر ناراض ہو جاتے ہیں اور بسا اوقات متعلقہ رپورٹرز کو براہِ راست یا بِالوواسطہ طور پر تنگ کرتے رہتے ہیں۔ دُوسرے وہ خبر جو کسی مخصوص مافیا یا کرپٹ گروہ کے مفادات کو ٹھیس پہنچاتی ہو، وہ بھی متعلقہ صحافیوں کے لیے باعثٍ آزار بن جاتی ہے۔
جب کہ یہ ازراہِ تفنُن کہنے لگا، "تو کیا ہُوا، ایسے عناصر کو بھی استعمال کرنا چاہیے اپنے مفاد میں”، اُس کی یہ بات بظاہر کسی فریق کو مُتاثر نہ کر سکی، کیوں کہ کوئی ردِ عمل سامنے نہ آیا تھا۔
البتہ زاہد اجمیری نامی ایک سینئیر صچافی یُوں گویا ہٌوۓ "اس کا کوئی ثبوت بھی کسی کے پاس ہے، صرف ہیر سے (hairsay) کسی خبر کی بُنیاد نہیں بن سکتی ہے”
اِس پر ایک بزرگ صحافی سرفراز امیر جو کچھ دیر قبل تک أیک آرام کُرسی پر دراز، اُونگھ رہے تھے، مداخلت کرنے کو اٹھ گئے۔ انہوں نے قمر۔اے۔ محمود کو مُخاطب کرتے ہُوۓ پُوچھا "آپ اس وقت کن بیٹس (beats) میں آپریٹ(operate) کر رہے ہیں”؟
قمر اے۔ محمود نے برجستہ جواب دیا ” ڈپلومیٹس (diplomats), این، جی اوز (non-governmental organisations) اور وی۔وی۔ آئی۔پِیز (Very Very Important Persons)۔”
اس پر بزرگ صحافی نے کہا "اپنی بِیثس اور ایریاز (areas) کی نِسبت سے کوئی تجربہ بیان کرو تو زیادہ بہتر ہے۔”
اِس پر وہاں خاموشی چھا گئی اور کئی ایک لوگ بشمول زاح وہاں سے رُخصت ہو گیے۔