ایک کاری ضرب کے لیے کبھی کبھی مُدتیں بِیت جاتی ہیں۔ بِلاشبہ مجھے خود کو قتل کرنے کی عُجلت تھی، مگر میں اپنی گرفت میں نہیں آ رہا تھا۔ میری ذاتی مصروفیات مُجھے اس امر کی اجازت ہی نہیں دے رہی تھیں کہ خود پر وار کر سکوں۔ ایک کاری ضرب کے لیے کبھی کبھی مدتیں بیت جاتی ہیں اور انسان اپنے ہی ایک کاری وار سے بچا رہتا ہے۔ میں خود سے اُس ضمن میں کُھل کر بات کرنا چاہتا تھا، مگر اب تک یہ بھی طے نہ ہو سکا تھا کہ کب اور کہاں۔
وہ تیز دھار آلہ جو میں نے ایک حیات نامی آفس بواۓ سے منگوایا اور دوسرے حیات نامی گارڈ کے پاس رکھوایا اس شرط پر کہ ضرورت پڑنے پر یہ آلہ مُجھے مہیا کرنے میں تاخیر سے کام نہیں لیا جاۓ گا۔ حیات نمبر ۲ بارہا لُکنت بھرے لہجے میں یہ بات پُوچھ چُکا تھا کہ میں اپنی امانت کب تک واپس لے رہا ہُوں۔ اُسے کیا خبر کہ اکثر اوقات ایک خبر کی قبر ذرا سے فاصلے پر ہی موجود ہوتی ہے۔ قافلے گُزرتے رہتے ہیں، مگر اُن کا دھیان قدم قدم پر بکھری ایسی خبروں اور قبروں کے لیے تو عالمِ وُجود میں نہیں آتا ہے۔ حیات نمبر ۲ کے لیے میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے سواۓ یہ کہنے کے کہ
جب ضرورت محسوس ہوئی، واپسی کا تقاضا کرنے میں دیر نہیں کروں گا۔ وہ حیرت سے متًغیًر ہوتا ہُوا اپنا چہرہ لیے دفعتا غائب ہو جاۓ گا اور میں سر ہلا کر دوسری جانب روانہ ہو جاؤں گا۔ اس سمت زبردستی کی کھودی گئی ایک گہری کھائی ہے۔ سڑکوں کی بے وقت کُھدائی نے شہر کو عجیب طور سے بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ رات گئے کسی بھی کونے کُھدرے سے کوئی بلی برأمد ہو جاتی ہے اور "میاؤں” کی بولی بول کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔ ایسے میں اجنبی راہ گُیر اپنی لڑکھراہٹ پر قابُو پا لیا کرتا ہے، البتہ بعض کتے اور اُن کے پلے اچانک سامنے آ کر شور و فغاں کو اپنی منزل بنا لیتے ہیں۔ اس مُشترکہ شور شرابے کو اپنے مخصوص مقاصد کے حُصول کا ذریعہ بنا ڈالتے ہیں۔ ان کا یہ مُختصر سا ہنگامہ یا تو علاقے کے نام نہاد رکھوالے کو خبردار کر جاتا ہے جو خواہ مخواہ میں ایک تیز دھار روشنی کی حامل ٹارچ لیے برآمد ہوتا ہے اور بار بار ٹارچ کا رُخ سہمے ہُوے مسافر کے چہرے کی طرف کر دیتا ہے۔ یہ اُس کا خیریت دریافت کرنے کا ایک انداز ہوتا ہے۔ دُوسری صُورت میں، یعنی رکھوالے کی عدم موجودگی میں کوئی چور، اُچکا، یا مسلح ڈاکو اپنا جلوہ دکھاتا ہے اور راہ چلتے آدمی سے پس انداز کی گئی رقم، موبائل فون اور جو بھی قیمتی شے بن پڑتی ہے، لُوٹ لے جاتا ہے۔
رحمانی صاحب ابھی تک اُن بُھول بُھلیوں سے ہی باہر نہیں آ سکے تھے کہ سڑکوں کو کھودنے کا واضح جواز اربابِ اختیار کو دینا ہو گا۔ وہ آۓ دن اپنے ایک شہرت کے رسیا وکیل کے دفتر کے چکر اس اُمید پر لگاتے رہتے تھے کہ وہ ان کے خیالات کے مُطابق ایک پٹیشن تیار کرے گا اور عدالتِ عالیہ کے اُس اختیار کو اِنوک (invoke) کرے گا جس کے تحت شہریوں کو اس آۓ روز کی کُھدائی سے نجات ملے گی۔ کاش کوئی وکیل واقعی نِجات کے مفہوم سے آگاہ ہوتا اور پھر اس سمت عملی کارروائی کے لیے قدم بھی اُٹھاتا۔ مجھے اس امر پر بہت تشویش تھی کہ میں وکیل نہ بن سکا، ورنہ کئی ایک لوگ پھانسی کی پھندوں سے بچ جاتے۔جو اس ضمن میں ادراک نہیں رکھتے، وہ غضب کے تیراک ہیں اور جو ادراکی ہیں، وہ اس اعتبار سے بے تعلیم ہیں۔ بلکہ بس محرومِ سند ہیں ورنہ تعلیم کے حصول میں تو بے باک ہیں۔ مجھے خود کُشی کی راہ سُجھانے میں اس محرومی نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ میں دیگرانِ نام و نُمود خواہشمندوں کو نشانِ عبرت بنانےکے بجاۓ خود مُزاحمتی حکمتِ عملی اپنانے پر یقین رکھتا ہُوں۔ گویا اس قتلِ عمد کی مٹِئرئل ریزنز (material reasons) کی پیدائش میں ایک بھولے بسرے گیت کا ہی نہیں، ایک غیر موثَر وکیل کا عمل دخل بھی رہا ہے۔
بقولِ رحمانی وہ وکیل ہنوز معاملے کا جائزہ لے رہا تھا ہے۔ اُسے یہ دیکھنا تھا کہ اس مقدمے کی اخبار میں اشاعت سے اُس کی شہرت میں مزید اضافہ ہو گا، یا شہرت مجروح ہو سکتی ہے۔ پھر اسے متعلقہ اربابِ اختیار کی حقیقی راۓ کا احترام بھی عزیز ہے۔ اسے جاننا ہے کہ وہ ناراض ہوں گے یا خوش؟
صاف بات یہ ہے کہ میں نے ابتدأ تیز دھار آلہ اپنے اُس بریف کیس میں احتیاط سے رکھ چھوڑا تھا جو ایس جوفر نامی ایک سینیر کولیگ کے خاکی رنگ کے چمڑے کے بریف کیس سے خاصی مُشابہت رکھتا تھا۔ البتہ پھر یہ سوچ کر اپنا فیصلہ تبدیل کر دیا کہ ہمہ وقت اس آلے کی موجودگی بلاوجہ کسی بدمزگی کا سبب بن سکتی ہے، میں نے یہ آلہ حیات نمبر۲ کے حوالے کر دیا تھا۔ یہ محض اتفاق تھا، ورنہ مجھے ایس جوفر کے کسی بھی صحافیانہ کام سے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ وہ بھی ایک کمال کا آدمی تھا، سُوٹِڈ بُوٹُڈ آدمی راتوں رات سِینئر صحافی بن کر ہمارے سامنے آ کھڑا ہوا، پھر ایک بزعمِ خویش ایک باکمال پینٹر کے روپ میں بھی سامنے آ گیا۔ اس کا پسندیدہ پینٹر پیبلو پکاسو نکلا۔ یہ خبر اُس نے بہت فراخدلی سی بتائی تھی۔ ہماری حیرت کی بدولت اس خبر نے جیسے اُسے مزید پرجوش بنا دیا تھا۔ مگر ہمیں، خاص طور پر مُجھے ایکسکلوسولی (exclusively) ایک اور دُکھ نے اتنی تحویل میں لے لیا تھا۔ یہی وہ واقعہ ہے جِس کے بعد میں ایکسکلسیو اسٹوریز (exclusive stories) پر کام کرنا بہت کم کر دیا۔ میں نے ہمیشہ فٹ ورک (foot work) پر زیادہ تر انحصار کیا تھا اور ٹیبل اسٹوریز پر انحصار کو گناہ مجھے سمجھا تھب، مگر یہ واقعہ مجھے سمجھا گیا کہ ہر ٹیبل اسٹوری شاید فیک نہیں ہوتی ہے۔
اُدھر میں کُوچہ صحافت کا بھاگا ہُوا نامعلوم آدمی، بیگم گلی کی سیاہی میں کبھی موبائل چُھن جانے کے المیے سے دوچا ہوتا، تو کبھی قریبی اے۔ ٹی۔ ایم مشین میں اپنی تنخواہ کا ایک حِصُہ بوجوہ گنوا کر اطمینان کا سانس لیتا۔ مگر اپنی تلاش سے باز نہ آتا۔ ویسے تو میں یوں مارا مارا پھر رہا تھا، جیسے خود کو دیکھتے ہی گولی مار دُوں گا، مگر اپنے دوست ڈی فرناڈس کی پُر اسرار موت نے مجھے اس جانب غور کرنے پر مجبور کر دیا کہ کہیں وہ بھی خُود کُشی تو نہیں تھی یا راہِ فرار اختیار کرنے کی کوشش میں کوئی بے گُناہ مارا گیا تھا۔ موت مُجھ سے زیادہ دُور نہیں تھی، مگر مجھے مجبور کیا جا رہا تھا کہ میں ان حملہ آوروں کے بارے میں تحقیق کروں جو بے گُناہ قدیم شہریوں کی جان لینے کے درپے تھے۔
یہاں خود کو گرفت میں لانے کی عُجلت تھی اور وہاں کسی مُلک میں مبینہ طور پر سو انسانوں کا قاتل اب بھی جان بچانے کی فکر میں اپنا گٹ اپ تبدیل کرتا پھر رہا تھا۔ وہ روپ بدلنے کا ماہر ایک بار تو پھانسی کے پھندے تک جا پہنچا تھا۔ پھر یہ ہوا کہ وہ جیل سے یوں نکل بھاگا، جیسے دودھ سے مکھی۔ اسے مزید معصوم نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو قتل کرنا تھا اور اُس نے ایسا کیا بھی۔ ایف بی آئی کے اہلکاروں نے اسےگرفتار کرنے میں اتنی عجلت نہیں دکھائی تھی، جتنی تیزی عام طور پر ترقی یافتہ ممالک میں کسی بے گناہ کو گرفتار کرنے میں دکھائی جاتی ہے۔
اسے سب کو ایک پیج پر لانے کے لیے کہا گیا تھا وہ سب کے لیے الگ الگ پیج بنانے کے کام میں جُٹ گیا تھا۔ وثوق نامی ایک نوجوان جو بعد میں فراڈ ثابت ہوا تھا اور درجنوں لوگوں کی رقم "ہیوج انوسٹمنٹ” کے انسینٹیو (incentive) کے نام پر لے کر یکلخت غائب ہو گیا تھا. اس کے بارے میں استحصال کا شکار ہونے والے بیشتر لوگ خاموشی اختیار کرنے لگے تھے۔
وہاں پر ہر دوسرا شخص اس کے معصومانہ عتاب کا شکار ہو چکا تھا۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ بے قصور تھا۔ وہ تو خاموشی سے ایک آفر دیا کرتا تھا، کوئی قبول کرتا، نہ کرتا اُس کی مرضی تھی۔ اُن دنوں میں بھی ایس جوفر کی طرح ایک کولیگ کا ہاتھ تھامے اپنے دفتر میں داخُل ہوا کرتا تھا۔
میں اپنے کمرے کی کھڑکی سے جھانکتا تو خود کو ایک عجب چھلاوے کی طرح بھاگتا ہُوا دیکھتا، کبھی یہاں، تو کبھی وہاں۔۔۔۔بظاہر میرے اعمال معتدل تھے۔ میں بہت مُدلل اور منضبط گفتگو کرنے کی کوشش کرتا رہا تھا۔ نرگس بانو اور سالم سلیمہ جیسی خواتین تو مُجھے اپنے حلقۂِ احباب میں شائستہ، پُر اعتماد اور پُر مغز گفتگو کرنے والے کے طور پر مُتعارف بھی کرا چُکی تھیں۔ ان کے حلقہ اثًر میں نہایت روشن خیال اور دانشورانہ مزاج کے لوگ شامل تھے اور میں اُن میں بظاہر گُھل مِل بھی گیا تھا، مگر اندر کا حال وہی تھا، جو خود مجھے بھی متشکک بناۓ ہُوۓ تھا۔ میری ہمت نہیں بڑتی تھی کہ کُھل کر پُوچھ سکوں کہ خود ان کا اپنا پس منظر کیا ہے اور سزاۓ موت، خصوصأ خواتین کو دی گئی موت کی سزاؤں کے خلاف ان کا پراپیگینڈہ اور پرجوش مزاحمت کی پُشت پر کون ہے؟ ملک میں موجود بعض سیاسی قوتیں بھی ان کی حمایت کرتی رہتی تھیں، مگر بہ آوازِ بلند نہیں، بلکہ انفرادی مُلاقاتوں اور محدور جلسوں کی حد تک۔ البتہ انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں کھل کر دُنیا بھر کی جیلوں اور کال کوٹھڑیوں میں مقید پھانسی کی سزایافتہ عورتوں کی رہائی کے لیے آواز اٹھانے میں پیش پیش رہتی تھیں۔ اُن کے نُمائندے بھی اس ضمن میں بلکل بخل سے کام نہیں لیتے تھے۔ پاکستان میں مُبیَنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف بھی بہر طور یہ نمائیندے بہت محنت سے حقائق جمع کرتے اور اُن کی بنیاد پر ہر سال اعدادو شُمار مُرِتب کرتے۔ پاکستان بھر کے اخبارات اور ٹی۔ وی چینلز کی خبریں بھی اس ضمن میں ایک گواہی کا درجہ رکھتی تھیں۔ یہاں صحافت اور میڈیا کی ایمانداری اور سچائی کا بھی امتحان ہوتا ہے۔ کوئی بھی غلط خبر اس شہادت کا حصہ بن سکتی ہے۔ یہ ریکارڈڈ فیکٹس یا حقائق پھر دنیا بھر میں مشتہر ہوتے رہتے ہیں۔ مجھے جس صحافت کا تجربہ تھا، اس میں سنسنی خیزی کا عنصر بہت کم شامل تھا۔ ویسے بیشتر اخبارات قاری کی دلچسپی کو مدِ نظر رکھتے ہوۓ سنسنی خیزی کے عنصر کو کُلی طور پر رَد نہیں کرتے تھے۔
میں اپنی حرکتیں اپنے گھر کے اندر تک دیکھ رہا تھا۔
کبھی لیونگ رُوم میں ہُوں، تو کبھی سیکنڈ فلور پر واقع واش رُوم میں۔ وہاں سے نکلا اور پھر واپس آیا گراؤنڈ فلور پر۔۔۔