Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » جمال ہم نشیناں اور ڈاکٹر عارف نوشاہی

جمال ہم نشیناں اور ڈاکٹر عارف نوشاہی

احمد تراث

کی طرف سے Ranaayi اگست 8, 2026
کی طرف سے Ranaayi اگست 8, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
39

ساون کی خنک رات آدھی ہو چلی ہے مگر یہ کتاب ‘جمالِ ہم نشیناں’ سونے نہیں دے رہی جس کا سر ورق قلب و روح کی سر زمین بخارا میں لکھا گیا۔ سہ پہر کو فارسی و زبان و ادبیات اور مخطوطہ شناسی کی برصغیر کی واحد منفرد شخصیت ڈاکٹر عارف نوشاہی صاحب سے کشف المحجوب کے فارسی نسخوں پر کچھ بات ہوئی۔ اس کے معا بعد آنجناب کی طرف سے یہ کتاب موصول ہوئی۔ ایسی ہستی کی طرف سے کوئی نئی کتاب بھیجا جانا بجائے خود ایک حیرت ہے۔ فہرست دیکھی اور صفحات کی تعداد دیکھی تو سوچا کہ ایک ویکینڈ کے لیے یہ کتاب ساون کی پھوار کے طور پر کافی ہے۔ لیکن اپنی نظر سیدھی جا اٹکی ڈاکٹر عارف نوشاہی صاحب کے ہی خاکے پر جس میں ڈاکٹر صاحب کے احوال و عادات کا ایسا نقشہ ہے کہ آدمی ششدر رہ جاتا ہے۔ جس شخص کو دنیائے فارسی زبان و ادب اور مخطوطہ شناسانِ عالم، استادِ فن تسلیم کرتے ہوں ان کے احوال میں وقت کی ایسی پابندی ہے کہ اگلے دن کے علمی کاموں کی فہرست رات سرہانے رکھ کر سوتے ہیں۔ غیر علمی موضوعات پر گفتگو سے ہمہ وقت اور با ہمہ کس گریز شاید ویسے اتنی حیرت ناک بات محسوس نہ ہو لیکن بطور انسان ان باتوں کی ایسی سخت پابندی ریاضت سے کم نہیں۔ پابندی بھی کیسی کہ جہاں جائیں گے ، مسودے یا مسودے اور کمپیوٹر دونوں ساتھ لیجائیں گے۔ ایک بار تو کار میں ہی خطوط کا ایک مجموعہ ترتیب دے ڈالا ۔ خاکے میں ایک جگہ مصنفہ نے یہ بیان کر کے ریڈر کے کان کھڑے کر دیے کہ ڈاکٹر صاحب کے ہاں علمی و تحقیقی کاموں کے لیے ایک شیڈول مقرر ہے جس سے انحراف ممکن نہیں اور اس دوران رابطہ کرنا یا ملاقات کا وقت مانگنا کارِ دشوار ہے اور بعض اوقات نامناسب بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس سے آگے پڑھنے والا فورا آگے بڑھتا ہے کہ آخر وہ کیا شیڈول ہے جس نے ڈاکٹر عارف نوشاہی کو عالمِ تحقیق میں اتنا بڑا مقام بخشا ہے ، لیکن یہ جملہ پڑھ کر امیدوں پر پانی پھر جاتا ہے کہ آنجاب کا صبح جاگنے سے رات سونے تک کا سارا وقت ہی علمی و تحقیقی کاموں کے شیڈول میں آتا ہے۔ کھانے پینے وغیرہ کا وقت مجبورا نکالا جاتا ہے۔ یہ پڑھ کر یہ خاکسار ریڈر سوچ رہا ہے کہ اقوام عالم کا مرجعِ علم و تحقیق بننا اتنی سہولت سے ممکن نہیں، میر صاحب کہہ گئے ہیں:

مت سہل ہمیں جانو، پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

خیر یہ معمول پڑھ کر وہ حیرت بھی جاتی رہی کہ ڈاکٹر نوشاہی صاحب یہ انتظام کیسے سنبھال لیتے ہیں کہ ان سے جتنے مرضی ادق موضوع پر رہنمائی لینا چاہیں، وہ فی البدیہہ چند منٹ میں اتنا کچھ بتا دیتے ہیں جس سے آج کل کی نام نہاد پی ایچ ڈی کے ایک تھیسسز سے کئی گنا بہتر کام کیا جا سکتا ہے۔

استعجاب سے پھرپور، فارسی الفاظ و تراکیب سے مزین اس مرقعے سے نظر ہٹتی ہے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ہیش لفظ کس عظیم شخصیت کا لکھا ہوا ہے جو اس دنیائے بازیچۂ اطفال میں مرد کامل و حق شناس ہیں اور ڈاکٹر نوشاہی کے ہی احباب میں شامل اور کم و بیش ایسی ہی حیات و خدمات سے مماثل ہیں۔ ڈاکٹر معین نظامی نے پیش لفظ کے آخر میں لکھا ہے:

‘ان اچھی تحریروں نے ہمیں علم و تدریس و تحقیق کو اوڑھنا بچھونا بنائے رکھنے والی ڈاکٹر عصمت درانی کی صلاحیتوں کا ایک اور رُخ بھی دکھایا ہے جو بہت قابل قدر ہے۔ وہ ایک ایسی نثر نگار بن کر سامنے آئی ہیں جن کی جودت طبع ، فنی مہارت ، فکری گہرائی اور جذباتی سچائی اپنے پڑھنے والوں سے داد و تحسین وصول کرتی رہے گی’

لیکن وہ بات جان کر تو حیرت کی انتہا نہ رہی کہ آج سے 33 برس قبل ڈاکٹر نوشاہی کو ایک ہزار ڈالر ماہانہ تنخواہ پر اسلام آباد میں ایک غیر ملکی صحافتی ادارے کا کرتا دھرتا بنا دیا۔ دولت چھما چھم برسنے لگی مگر ڈاکٹر صاحب کو اس چھما چھم نے متاثر کرنے کے بجائے متفکر کر دیا کہ علمی و تحقیقی کاموں اور منصوبوں کا کیا ہو گیا۔ وہ تو ساون کی جھڑی میں بھی سوسے پکوڑوں سے زیادہ اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ اب مطالعے کا لطف زیادہ آئے گا۔ لہذا چار ماہ بعد ہی وہ نوکری چھوڑ کر اپنی مملکتِ تحقیق میں واپس آ گئے۔ لیکن یہ کیسی انمول مملکت ہے کہ جس کا بادشاہ، بالکونی میں رکھے ایک ناکارہ صندوق کو میز بنا کر، پرانی کرسی پر بیٹھا ایسی کتابیں لکھ رہا ہے جس کو عالمی سطح پر فارسی کے محققین نے سینے سے لگا لیا۔

باقی باقی

 

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • کیا ڈاکٹر ظالم ہوتے ہیں؟
  • ہائی فائی’ زندگی کون گزار رہا ہے؟’
  • اکیسویں صدی کے پہلے 25 برس
  • سوشل میڈیا کے دور میں مطالعہ کیوں کیا جاۓ؟
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
محمد حمید شاہد کی سالگرہ
اگلی تحریر
شعوری کوشش کرتا اقبال خورشید

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

چند ادبی و سماجی مسائل

دسمبر 28, 2025

ہائی فائی’ زندگی کون گزار رہا ہے؟’

فروری 20, 2026

میں اور سید کاشف رضا

فروری 26, 2026

دو ستارے ڈوب گئے

اکتوبر 12, 2026

آپ اے آئی سے ڈرتے ہیں یا نہیں

جنوری 5, 2026

خوشیاں، کلچر اور احتیاط

فروری 9, 2026

اخلاقیات کی دھنک

جنوری 8, 2026

کالونیل ازم کی ایک نئی شکل

فروری 26, 2026

اکیسویں صدی میں اتارے ہوئے لوگ

جنوری 1, 2026

اے آئی کی کلہاڑی

دسمبر 31, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • تحویل کی تحلیل (3)
  • دو ستارے ڈوب گئے
  • تحویل کی تحلیل (دوسری قسط)
  • تحویل کی تحلیل (قسط اول)
  • شعوری کوشش کرتا اقبال خورشید

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    لاہور بک فیئر کی تاریخوں کا اعلان کر...

    دسمبر 9, 2025 447 views
  • 2

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 440 views
  • 3

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 434 views
  • 4

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 425 views
  • 5

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 416 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (48)
  • انٹرویوز (4)
  • بچے (2)
  • بلاگ (46)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (31)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • تحویل کی تحلیل (3)

    اکتوبر 19, 2026
  • دو ستارے ڈوب گئے

    اکتوبر 12, 2026
  • تحویل کی تحلیل (دوسری قسط)

    اکتوبر 1, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (48)
  • انٹرویوز (4)
  • بچے (2)
  • بلاگ (46)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (31)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

اخلاقیات کی دھنک

جنوری 8, 2026

امریکہ میں ممدانی اور قرآن

جنوری 4, 2026

آموں کی پیٹی سے آج تک

مارچ 1, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here