Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » انجنہاری کی گھریا؛ایک مطالعہ (دوسری قسط)

انجنہاری کی گھریا؛ایک مطالعہ (دوسری قسط)

محمد حمید شاہد

کی طرف سے Ranaayi دسمبر 9, 2025
کی طرف سے Ranaayi دسمبر 9, 2025 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
294

ہم یہاں یہ ان سطور سے یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ انتظار حسین کے نزدیک:

۱۔ افسانہ نگاری ایک تخلیقی عمل ہے ، یہ ایسی نثر نگاری ، ماجرا نگاری یا مضمون نویسی نہیں ہے جس میں افادیت کا پہلو مدنظر رکھ کر انہیں لکھا جاتا ہے۔ایسا بھی نہیں ہے کہ انتظار حسین تخلیق کے افادی پہلو کو یکسر مسترد کرتے ہوں گے، جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں کہ وہ محض ایسا چاہتے ہیں کہ اسے طے شدہ افادی عمل نہیں ہونا چاہیے؛ ایسی طے شدہ افادیت تک پہنچنے والا عمل جس کا اعلان پہلے ہی کر دیا جائے کہ یہ حاصل ہونے جا رہا ہے؛ اس باب کی مثال شہد کی مکھی کے نام میں شہد کی موجودی کو لیا گیا ہے۔

۲۔ یہ تخلیق کار کا نجی معاملہ ہے؛ کسی اجتماع، تحریک یا تنظیم کا نہیں۔ افسانے کی عمارت کی تعمیر کوئی بڑا قلعہ بنانے جیسی نہیں ہوتی جس کو پہلے سے موجود نقشے کے مطابق چھوٹے بڑے ان گنت معمار مل کر تعمیر کررہے ہوتے ہیں۔اس باب کی مثال ’پنچایتی آرٹ ‘کی پھبتی کے ساتھ شہد کے چھتے کی گہما گہمی کو بنایا گیا ہے۔ گویا تخلیق کار کو یہاں کورے کاغذ کے سامنے اکیلے ہی پیش ہونا ہوتا ہے ؛ تنہا ہوکر ،وجودی سطح پر ایک زندہ تعلق کا دھاگا تلاش کرتے ہوئے اور اس کا سرا پکڑکر آخرتک چلتے ہوئے ۔

بئے کو افسانہ نگاری کی ’سند ‘کیوں نہیں مانا گیا انتظار حسین کے پاس اس کا جواز یہ ہے کہ:

’’رہا بئے کا معاملہ تو بے شک بچپن میں جنگلوں میں آوارہ پھرتے ہوئے کبھی کبھی کسی درخت کی طرف نگاہ اٹھی ہے اور اسے معلق ننھا منا محل کہئے یا آویزاں باغ سمجھئے،اُس پہ نگاہیں جمی کی جمی رہ گئی ہیں ۔ یہ تعلق اول تو ایسا گہرا نہیں ۔ پھر بئے کو میں ماہر تعمیرات تسلیم کرلوں گا ،افسانہ نگار نہیں مانوں گا۔‘‘

گویا محض مشاہدہ کافی نہیں ہے۔ افسانہ ’گہرے تعلق‘ کی عطا ہوتا ہے۔ ہاں یہیں کہیں اوپر ایک اور جملہ تھا جس پر سے دھیان پھسل دوسرے امور کی طرف ہو گیا، حالاں کہ جس قضیے کو انتظار حسین لے کر چلے ہیں ، اس کا یہی مرکزی نقطہ ہے۔ وہ جملہ بھی یہاں مقتبس کیے دیتا ہوں:

’’زندہ تعلق اپنا کتابوں سے نہیں رہا(سوائے اُن گنتی کی کتابوں کے ،جو اپنے لیے کتابیں نہیں رہیں ،مخلوقات بن گئیں )مخلوقات سے بے شک رہا۔‘‘

میں اس جملے اس افسانے میں ابھر کر سامنے ٓنے والے قضیے کا یوں مرکزی نقطہ سمجھتا ہوں کہ یہیں سے علمی طرز استدال اور فکشن کا زندگی کو سمجھنے کا قرینہ دونوں کی راہیں جدا ہوجاتی ہیں۔ اس الگ منہاج میں فکری دلائل اورعلمی حوالہ جات ثانوی ہو جاتے ہیں اورتخلیق کار اُس زمان اور مکان میں پہنچ کراپنے حسی نظام اور میٹا فزیکل اپروچ کو کام میں لاتے ہوئے انسانی صورت حال کو قلم کی سیاہی بناتا ہے جس میں کہانی کے کردار پھینک دیے گئے ہوتے ہیں ۔ تاہم قوسین میں موجود عبارت اس استثنائی صورت کو بھی نشان زد کر رہی ہے جس میں کوئی کتاب مخلوقات کی سطح پرآکر تخلیقی تجربے میں شامل ہو جاتی ہیں ۔ اور ماضی میں لکھا گیا کوئی متن نئے تخلیقی متن کے ساتھ ایک رشتہ قائم کر لیتا ہے۔

جس انجنہاری کو انتظار حسین نے ’سند‘ کے طور پر لیا ہے اسے ہمارے ہاں کمہارن کہہ کر پہچانا جاتا ہے، بھڑ سے مشابہہ مکھی ، جو گھر بنانے کو گیلی مٹی کہیں سے لاتی ہے اور بالعموم دو دیواروں کی بغل میں چپکا چپکا کر گھر بنا تی ہے۔ یہ نام اور یہ مکھی اردو فکشن کی دنیا میں انتظار حسین لے تو آئے مگر بہت سوں نے اسے دیکھا تک نہ ہوگا؛ میں نے بھی اپنے بچپن میں اسے دیکھ رکھا اور اب گماں باندھ سکتا ہوں کہ ہو نہ ہو یہ وہی مکھی ہے جسے انگریزی میں میسن بی

(Mason Bee)

کہتے ہیں ۔ الگ تھلگ رہنے والی ، وہ کسی چھتے میں نہیں رہتی اور نہ ہی کسی کالونی میں نظر آئے گی کہ اسے اپنے مٹی کے چھوٹے سے گھر میں الگ تھلگ رہنا ہوتا ہے ۔ یہ مکھی سہی مگر شہد کی مکھی یا بھڑ کی طرح ڈنک نہیں مارتی ۔ اس کی ڈیڑھ دو سو اقسام دریافت ہو چکی ہیں ؛ انہی میں سے ایک قسم کی انجنہاری انتظار حسین کے مشاہدے میں ا ٓئی ہوگی اور اس کے زندگی کے قرینوں کو دیکھ کر اُسے افسانہ نگاری کا پیغمبربنا لیا ہوگا۔

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • تحویل کی تحلیل (3)
  • شعوری کوشش کرتا اقبال خورشید
  • محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ
  • نصیر احمد ناصر کی دو نظمیں
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
کیمیا گروں کا کیمیا گر
اگلی تحریر
لاہور بک فیئر کی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیا

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

رومی کے چند اشعار

فروری 1, 2026

جو ستارا تمہیں افلاک نشیں لگتا ہے

دسمبر 31, 2025

نئے سال کی آمد پر ایک نظم

جنوری 3, 2026

کیمیا گروں کا کیمیا گر

دسمبر 9, 2025

دمشق 680ء

جنوری 5, 2026

نصیر احمد ناصر کی دو نظمیں

جنوری 9, 2026

شعوری کوشش کرتا اقبال خورشید

اگست 15, 2026

تحویل کی تحلیل (قسط اول)

ستمبر 25, 2026

جمالِ زیست

دسمبر 20, 2025

اروندھتی کی نئی کتاب؛ چند باتیں

دسمبر 20, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • تحویل کی تحلیل (3)
  • دو ستارے ڈوب گئے
  • تحویل کی تحلیل (دوسری قسط)
  • تحویل کی تحلیل (قسط اول)
  • شعوری کوشش کرتا اقبال خورشید

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    لاہور بک فیئر کی تاریخوں کا اعلان کر...

    دسمبر 9, 2025 451 views
  • 2

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 443 views
  • 3

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 437 views
  • 4

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 428 views
  • 5

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 417 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (48)
  • انٹرویوز (4)
  • بچے (2)
  • بلاگ (46)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (31)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • تحویل کی تحلیل (3)

    اکتوبر 19, 2026
  • دو ستارے ڈوب گئے

    اکتوبر 12, 2026
  • تحویل کی تحلیل (دوسری قسط)

    اکتوبر 1, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (48)
  • انٹرویوز (4)
  • بچے (2)
  • بلاگ (46)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (31)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

ایک نئی زبان کیوں سیکھی جائے؟

دسمبر 11, 2025

جو ستارا تمہیں افلاک نشیں لگتا...

دسمبر 31, 2025

معروف مصنف عرفان جاوید کی سال...

دسمبر 9, 2025
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here