آرٹس کونسل آف پاکستان ،کراچی کی اٹھارویں عالمی اردو کانفرنس ،۲۵ دسمبر کی شام ، شرو ع ہوئی اور ۲۸ دسمبر کی شام ،اختتا م کو پہنچی۔
اٹھارہ برس تک ، کسی وقفے کے بغیر، کانفرنس منعقد کرنا ،معمولی بات نہیں ہے۔ اس کے لیے محض مزاج کی استقامت ، انسانی اور معاشی وسائل ہی درکار نہیں، اور بہت کچھ بھی چاہیے۔
سب سے بڑھ کر مقاصد واہداف کا واضح شعور۔ کسی بھی اہم کام کو انجام دینے میں،سب سے بڑی قوت یہی شعور ہے۔ مبہم اور متذبذب شعور ،کسی سمت بڑھتا ہے ،نہ کچھ حاصل کر پاتا ہے؛ صرف زمانے سے شکوہ کناں رہتا ہے۔ اس کے علاوہ وقت کے ساتھ چلنے ، اور جہاں ضرورت پڑے وقت کے آگے کھڑے ہونے کی جرأت بھی چاہیے۔ یہ سب آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ کے پاس ہے۔
ان اٹھارہ سالوں میں یہ کانفرنس کئی تبدیلیوں سے گزری ہے۔ یہ کانفرنس پہلے محض اردو تک محدود تھی ، اب نہیں ہے۔ اب اس کانفرنس میں پاکستان کی دوسری زبانوں ، دوسرے فنون اور کچھ علوم کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
اب یہ اردو کانفرنس سے بڑھ کر ایک ادبی فیسٹول کا مزاج اختیار کرتی محسوس ہوتی ہے۔ یہ خوش آئند تبدیلی ہے۔ مختلف زبانوں اور شعبوں کے ممتا ز لوگوں کو ایک جگہ دیکھنا اور سننا، انوکھا تجربہ ہوتا ہے۔ دنیا ،ادب اور تصورات کو نئے اور مختلف تناظرات میں دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
اس کانفرنس کے اٹھارھویں ایڈیشن پر بہت کچھ لکھا جاتا رہے گا۔ فی الوقت احمد شاہ صاحب اور ان کی مستعد ٹیم کو دلی مبارک باد۔ چالیس روزہ ورلڈ کلچر فیسٹیول کے بعد، عالمی کانفرنس منعقد کرنا، ہر گز آسان نہیں تھا۔