سوچنا انسانی فطرت ہے مگر سماج کے مخصوص دائرے سے باہر نکل کر سوچنا فطرت کی خاص عنایت ہے ۔ اروندھتی رائے کو یہ خاص عنایت حاصل ہے ۔ اس کا اندازہ ان کی حال ہی میں شائع ہونے والی یاداشتوں پر مشتمل کتاب “مدر میری کمز ٹومی “کو پڑھنے سے ہو جاتا ہے ۔ انہوں نے بہت سہولت اور آسانی سے اپنی زندگی کے ان گوشوں پر بات کی ہے جس سے عام قاری اب تک واقف نہیں تھا ۔
اس کتاب میں آتے جاتے بہت سے کرداروں کے درمیان دو کردار انتہائی استقامت سے کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک تو خود اروندھتی رائے ہیں اور دوسری ان کی ماں میری رائے جنہیں رائے جونئیر نے بڑے خواب دیکھنے والی، اپنے حق کے لئے لڑنے والی اور تعلیم کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کردینے والی ایک ایسی عورت سے تعبیر کیا ہے جو ہندوستان کے جنوبی خطے کے ایک پسماندہ قصبے میں اکیلی اپنے دو بچوں کے ساتھ زندگی کے جبر سے نبرد آزما ہے۔
آئیے نقشے پر ہم اس کی دنیا کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں کی زمین پر اس نے نمو پائی۔ ان لوگوں کی زندگی کو کھوجنے کی کوشش کرتے ہیں جن کے درمیان رہ کر اس نے اچھائی برائی، نیکی بدی، سچ یاجھوٹ اور دوست دشمن کے فرق کو سمجھا اور اس کے نتائج کا بوجھ لئے اپنی زندگی کے سفر پر روانہ ہوئی ۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے ابتدائی پندرہ سال ہماری آنے والی زندگی کی سمت کا تعین کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔
یہ جنوبی ہندوستان کا ایک پسماندہ علاقہ ہے ۔ جہاں وسائل کی کمی ہے۔ یہاں نسلی امتیاز بھی برتا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بعض طبقات کا معیار زندگی پسماندگی کی بھی نچلی سطح پر ہے ۔ ان تمام ازلی حقیقتوں کے باوجود یہاں بسنے والوں کا اپنا ماضی ہے، پہچان ہے ، زبان ہے، کلچر ہے تہوار ہیں ، فنون سے دلچسپی کے واضح نشانات ہیں۔ تعلیم سے وابستگی ہے ۔ کچھ نا ہونے کے باوجود اپنی نسلوں کی تعلیم و تربیت کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔ ا نہیں ہوسٹل اسکولوں میں پڑھاتے ہیں، جہاں نصابی کتب کے علاوہ لٹریچر بھی پڑھایا جاتا ہے۔ کھیلوں میں حصہ لیا جاتا ہے ، تیرا کی سکھائی جاتی ہے۔ ڈرامے اسٹیج کئے جاتے ہیں ، کتب میلے منعقد کئے جاتے ہیں ، گیت گائے جاتےہیں۔
یوں ایک بچہ مادی کسمپرسی کے باوجود امیر ہوتا چلا جاتا ہے۔تعلیم کا یہ سفر طے کر کے عملی زندگی جب وہ قدم رکھتا ہے تو وہ صرف طے کردہ اوقات کار والی نوکری کا متلاشی نہیں ہوتا بلکہ گھڑیال کی مخصوص ٹک ٹک اور لگے بندھے دائرے سے ہٹ کر زندگی جیتاہے ۔ اس کی دنیا میں پیسہ نہیں بلکہ جذبات و خیالات و افکار اہم ہوتے ہیں ۔ اس کے خواب بڑے ہوتے ہیں جن کی تعبیر پانے کے لئے وہ کبھی ریلوے پلیٹ فارم پر ہوتا ہے اور کبھی کسی ایسے کمرے میں جہاں پیشاب کی بو والی تنگ گلیوں سے گزر کر جانا پڑتا ہے۔ کبھی جیپ کی ونڈ اسکرین کو چار اینٹوں پر رکھ کر چولہا بنانا پڑتا ہے تو کبھی تین دن اور دو راتوں کے طویل سفر کے دوران اپنی حفاظت کے لئے ایک چاقو بھی ساتھ رکھنا پڑتاہے ۔ یہ چاقو ہمارے سماج کی بدصورتی کی علامت ہے۔ جس نے اپنی زندگی کے سفر میں یہ صعوبتیں برداشت کی ہیں ، قدم قدم پر بکھری ہوئی ناہموار راہوں والی زندگی کو اپنی شرائط پر پوری استقامت کے ساتھ گزارا ہے۔ اسے اروندھتی رائے کہتے ہیں ۔
اروندھتی رائے کی ناہموار اور پیچیدہ زندگی کی پرتوں کو کھولتی ہوئی کتاب “مدر میری کمز ٹو می “ ایک دلفریب و دلکش تصویر کی طرح ہے جسے ملگجی رنگوں سے پینٹ کیا گیا ہے ۔ یہ پینٹنگ ایک طویل مورال کی طرح ہے ۔ اس میں ایک پگڈنڈی ہے،جسے ایک مصنفہ نے بنایا ہے ۔ ایک ایسی مصنفہ جو کبھی اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ کر نہیں چلی ۔ اور اگر مصنفہ کی زبان میں کہا جائے تو ماں نے کبھی اس کا ہاتھ تھاما ہی نہیں ۔ مگر حیرت انگیز طور پر میری رائے کی یہ عدم توجہ مصنفہ کو کمزور نہیں بناتی بلکہ نامساعد حالات میں غیر معمولی بہادر اور مضبوط عورت بناتی ہے ۔ یہی وہ حیران کن طرز عمل ہے جو آج سے چھ دہائی پہلے جنوبی ہندوستان کے ایک پسماندہ قصبے میں رہنے والی دو بچوں کی سنگل مدر نے اختیار کیا۔ اس نے نہ صرف اپنے بچوں کو پالا بلکہ ہزاروں بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا ، جس نے شامی عیسائی عورتوں کے زبردستی چھینے گئے وراثتی حق کو تین راتوں اور دو دن کی طویل مسافت پر قائم کردہ سپریم کورٹ سے جاکر حاصل کیا۔
کتاب پڑھتے ہوئے جا بجا اروندھتی رائے کی ہمت اور حوصلے کی داد تو دنیا ہی پڑتی ہے، مگرمیری رائے کی چند فطری خامیوں کے باوجود ان کے استقلال کو بھی سراہنا پڑتا ہے۔
یہ سوال اُس کتاب کی اشاعت سے پہلے بار ہا دہرایا گیا ہے کہ اروندھتی رائے میں ایسا کیا انوکھا پن تھا جو انہیں اتنی شہرت ملی ۔ کبھی ان کے اندازتحریر پر بات کی گئی،کبھی ان کے متنازعہ خیالات کی طرف اشارہ کیا گیا اور کبھی ان کے طرز زندگی کو نشانہ بنا یا گیا۔ کتاب “ مدر میری کمز ٹو می “ ان تمام سوالوں کے جواب دیتی ہے ۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ایسے سماج میں رہتے ہیں جہاں فن و ادب ، رقص وموسیقی حتی کہ آرٹ کی تمام اقسام کو یا تو ناپید کردیا گیا ہے یا پھر ان تمام شعبوں کو اتنا کمزور کر دیا گیا ہے کہ اب یہاں کوئی قد آور شخصیت پیدا ہی نہیں ہوتی ۔ عقیدے کو زندگی کے ہر شعبے میں داخل کردیاگیا ہے ،لہذا فرد کو سمجھنے اور اسے قبول کرنے کے پیمانے ہی بدل گئے ہیں۔ گُھٹن کی فضا میں جہاں فکری آزادی ناپید ہو اور معاشرتی سیاسی، مذہبی، سماجی مسائل پر کھل کر اظہار کرنا مشکل ہو تو فرد کی تخلیقی صلاحیتیں دب کر رہ جاتی ہیں۔ ہندوستان میں بھی اب اختلاف رائے پر قبولیت کا اسپیس دھیرے دھیرے کم ہو رہا ہے ۔ مصنفہ نے اس بات کا اظہار اس کتاب میں کیا ہے مگر اس کے باوجود وہ اس سماج میں جم کر کھڑی ہوئی ہیں ۔
اروندھتی رائے کی عالم گیر شہرت کو اس کی جڑوں سے منہا کر کے نہیں دیکھا جا سکتا ۔ انہوں نے انگریزی زبان درسی کتابوں میں نہیں پڑھی۔ یہ ان کے گھر میں مادری زبان کی طرح ہی بولی جاتی تھی ۔ انہوں نے اُن نظموں کو چلتے پھرتے دہرایا ہے جو کلاسیقی ادب کا حصہ ہیں ۔ انہوں نے ان کرداروں کو ادا کیا ہے جن کو ہمارے ہاں صرف پڑھا جاتا ہے ۔ انہوں نے جنگلی جانوروں کی چھنگھاڑتی آوازوں یا تیز بارش کے شور میں اپنی بوڑھی نانی کو وائلن بجاتے ہوئے سنا ہے اور یہ بلاشبہ بہت خوبصورت احساس ہے جو کسی لکھنے والے سے کوئی عمدہ نثر یا پھر خیال انگیز نظم لکھوا سکتا ہے۔
اروندھتی رائے کی ایک خوبی یہ بھی ہے جو انہیں متنازعہ بھی بناتی ہے اور وہ ہے ان کا جرات اظہاراور بے باکی۔ اس کی جڑیں بھی ان کے بچپن میں پیوست ہیں ۔ میری رائے کی تربیت میں پنہاں ہے ۔ وہ ساٹھ کی دہائی میں انتظامیہ کی طرف سے ڈرامہ پیش کرنے میں رکاوٹ ہو، ستر کی دہائی میں اسکول اور ہوسٹل کی تعمیر ہو یا اسی کی دہائی میں وراثتی قانونی جنگ، وہ ہر مرحلے پر ثابت قدم دکھائی دیتی ہیں ۔ بعد ازاں یہی طرز عمل رائے جو نئیر کی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے ۔ وہ مرکزی حکومت پر تنقید ہو، پسماندہ قبائل کے ساتھ اظہار یکجہتی ہو یا توہین عدالت پر ایک دن کی سزا، وہ اسے ثابت قدمی کے ساتھ ادا کرتی ہیں ۔
یہ کتاب جہاں ختم ہوتی ہے، وہاں اروندھتی رائے نے اپنی ماں کے لئے لکھا:
“خواب دیکھنے والی جنگجو ٹیچر “
رائے کا میری رائے کے لئے یہ خوبصورت اور دلآویز خراج تحسین ہے
