کیا خدا وجود رکھتا ہے؟ اس سوال پر مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر صاحب کے درمیان بحث دلچسپ رہی۔ یہ تاثر درست ہے کہ جاوید اختر صاحب بے بس دکھائی دیے۔ اس اعتبار سے مفتی صاحب کا پلہ بھاری رہا۔ میرا ذاتی تاثر بھی یہی ہے۔ اس کے باوجود میرا ایک سوال ہے۔
اس ‘ مناظرے ‘ کے شرکا حزب اختلاف اور حزب اقتدار کی طرح دو حصوں میں منقسم تھے۔ ایک حصہ مفتی صاحب کا ہم خیال تھا اور دوسرا جاوید صاحب کا۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا جاوید صاحب مفتی صاحب کے ہم خیال حاضرین کو اور مفتی صاحب جاوید صاحب کے ہم خیال حاضرین کو بھی متاثر کر پائے؟ میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہو سکا۔ سامعین کے دونوں فریق اپنے اپنے پہلوان کو داد دیتے دکھائی دیے لہٰذا میرا احساس یہ ہے کہ مفتی صاحب اور جاوید صاحب کا مکالمہ جو فی الاصل مناظرہ تھا، اپنے حامیوں کی تشفی تو کر سکا لیکن دوسری رائے رکھنے والوں کو متاثر نہیں کر سکا۔ اگر میرا یہ احساس درست ہے تو اس سرگرمی کا مطلب کیا ہوا؟ شاید یہی سبب ہے کہ سنجیدہ اہل علم نے مناظرے سے ہمیشہ گریز کیا کیونکہ اس کے نتیجے میں ہمیشہ ضد پیدا ہوتی ہے۔
اگر یہ رائے درست ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ دین کی دعوت کیسے عام ہو گی؟ ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب تو اہل علم ہی دیں گے لیکن میں اپنے محدود مطالعے کی بنا پر عرض کروں گا کہ یہ کام ذاتی رابطے کے ذریعے ہو گا جسے اصطلاح میں تبلیغ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کی دوسری اور اہم ترین شرط کردار ہے کہ مبلغ کی حیثیت ماڈل کی ہو جو حسن کردار اور حسن سلوک کے ذریعے دعوت پیش کرے۔
اس سرگرمی کے تعلق سے تین باتیں اور۔ جاوید صاحب نے غزہ میں ہونے والے ظلم کا سوال پوری شدت سے اٹھایا جسے مفتی صاحب نے جذباتی استدلال کا نام دیا۔ مفتی صاحب کا موقف درست تھا لیکن یہ سوال جو حساسیت اور اہمیت رکھتا تھا، اس کے پیش نظر مفتی صاحب کو اس کا شافی جواب دینا چاہیے تھا جو وہ نہیں دے سکے۔
دوسری بات، مفتی صاحب ہوں یا جاوید اختر صاحب، ہر دو نے باہمی احترام ملحوظ رکھتے ہوئے نہایت شائستگی سے گفتگو کی۔ یہ اس سرگرمی کا حسن تھا جس پر دونوں مبارک باد اور داد کے مستحق ہیں۔
تیسری بات کا تعلق مناظرے کے میزبان سے ہے۔ بھارت کے ٹیلی ویژن اینکروں کے برعکس اس میزبان نے شائستگی اور غیر جانب داری کا حق ادا کر دیا جس پر انھیں داد نہ دینا زیادتی ہو گی۔