میرے خیال میں کاشف رضا نے گلِ دوگانہ میں اردو شاعری کے عمومی رجحان کے ساتھ وہی کام کیا ہے جو مارکس نے ہیگل کی مثالیت پسندی کے ساتھ کیا تھا۔ ہیگل کے نزدیک تاریخ کا سفر روح سے وجود، خیال سے مادی حقیقت، یا نظریات اور مذاہب سے ثقافت اور معیشت کی جانب ہوتا ہے۔ مارکس نے یہ ترتیب الٹ دی تھی اور معیشت کو تہذیب کی بنیاد قرار دیا تھا۔
اردو شاعری کی ایک روایت میں بات تصوراتی عشق اور تخیلاتی حسن سے ہوتی ہوئی کسی مجسم محبوب کا پتہ دیتی ہے۔ گلِ دوگانہ میں کاشف رضا نے جسم کے تجربات کو شعور کی بنیاد میں رکھ کر حسن، عشق اور وجودی سوالوں کی جانب پیش قدمی کی ہے۔ یہاں لمس جذبات سے پہلے اور خیال تجربے کے بعد ہے۔ بوسہ اور اس قبیل کی لفظیات کا صراحت سے استعمال گلِ دوگانہ کی پہلی پرت ہے جو محض جسمانی تجربے کی عکاس نہیں بلکہ ایک گہرے احساس کی ترجمان ہے جس میں شادمانی بھی ہے اور یاسیت بھی، پیاس بھی ہے اور سیرابی بھی۔ اس بات کو ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ شعور کے تانے بانے انسانی نفسیات کی ادھیڑ بُن ہے اور نفسیات کا دارومدار حسیات پر ہے۔ یوں حسیات سے احساس کا سفر کاشف رضا کو ذات، شعور اور کائنات کے باہمی تعلق کی طرف لے جاتا ہے۔ جہاں شناخت اور وجود ایسے موضوعات کا فکری تموج سامنے آتا ہے۔ یہ گلِ دوگانہ کی دوسری پرت ہے۔ یہاں کاشف رضا کی شخصیت کے وہ پہلو جو بطور ادیب، ناولسٹ اور صاحبِ مطالعہ کے ہمارے سامنے ہیں نمایاں ہونے لگتے ہیں، مثلاً عشق اور ذات کی تلاش کے لیے مختلف تلمیحات کا استعمال، قدرے مُفرس اظہار، استعاراتی اسلوب اور داخلیت سے خارجیت کی طرف رخ کرنا۔ کاشف رضا کی شاعری میں کہیں جذبے کی سچائی فکری پیچیدگی کو زیر کرتی ہے تو کہیں کہیں مشکل پسندی بھی خیال کی روانی پر غالب آجاتی ہے اور شاید یہی گلِ دوگانہ ہے۔
فقط یہ عشق نہیں ہے مرے ہنر کا عروج
ہے اُس کا حُسن بھی اک نقطۂ کمال مرا
تری شدید ضرورت بھی ہے مجھے، لیکن
ترے بدن سے زیادہ ہے کچھ سوال مرا
جو کھو چکا ہے، وہی اب ہو میرا سرمایہ
جو مل گیا ہے مجھے، وہ مری کمی ہی نہ ہو
خدائے دہر مرا ہی شعور ہے کاشف
تو کائنات کی سازش کہیں میری ہی نہ ہو
تمھاری ہم قدمی پر ہے خوش خرام ہوا
تمھاری سانس کو جی کر صبا شگفتہ ہے
تڑپ بھی ہے مری اور باعث سکوں بھی ہے
ترا بدن میرا حاصل بھی ہے، جنوں بھی ہے
بدن پہ دوڑتی آنکھوں کی پیاس غور سے پڑھ
کہ آنکھ ذرۂ صحرائے اندروں بھی ہے
کھلا نہ ایک بھی در سر کشیدگی پہ مری
ہوا ہوں خاک تو دامن کشا زمیں ہے بہت
اسپ وحشت سے لکھی مملکتِ دل تاراج
میں نے جب عشق کی تاریخِ فرشتہ لکھی
ویسے لکھی نہ گئی جیسے لکھی تھی دل پر
میں نے کاغذ پر اگر تیری تمنا لکھی
وہ جو بے اذن اُڑا لاتا تھا خوش بو تیری
پہلے پہلے تو وہ گستاخِ حنا میں ہی ہوا
کیسی شفاف فضا تھی یہاں اوّل اوّل
ایک موسم تو یہاں بال کشا میں ہی ہوا
تیرے باعث تھا میں سیار و ثوابت کا حریف
اور ترا اذن ہوا جب تو فنا میں ہی ہوا
زخم بھی اس نے دیے ہیں، یہی مرہم میرا
جسم ہی جشن مرا جسم ہی ماتم میرا
خدا ہوا نہ کوئی اور ہی گواہ ہوا
لکھا جو حرف تو ہونے کا اشتباہ ہوا
نواح عشق تلک کھینچتی گئی خوش بو
اک ایسا گل مری سانسوں پر افتتاح ہوا
کبھی کبھی ترے دل تک پہنچ گیا میرا درد
کبھی ہوا تو یہی عشق میں گناہ ہوا
پل صراط نہ تھا، دشت نینوا بھی نہ تھا
تمھارا ہجر مگر ہم سے کٹ رہا بھی نہ تھا
نجانے کیوں تمھیں ایک اک خراش جانتی تھی
ہر ایک زخم تمھارا دیا ہوا بھی نہ تھا
بندھے ہوئے تھے کئی عہد، گر کرو محسوس
کرو جو یاد، تو وعدہ کوئی ہوا بھی نہ تھا
کسی کی چشمِ دعا گو کا ہے کرم ورنہ
کئی دنوں سے تو میں برسر دعا بھی نہ تھا
حیائے عشق بتاتی تھی اُس کی آنکھوں میں
میرا نہیں تھا اگر وہ، تو غیر کا بھی نہ تھا
نازک سی اک لکیر تھی پلکوں کے آس پاس
دل اُس پل صراط پہ کٹتا رہا بھی ہے
تکتا رہا ہوں آج بہت دیر تک وہ ہونٹ
اک رنگ اُن میں سرخیِ لب کے سوا بھی ہے
خالی سا کر گیا ہے ترا ہجر، ورنہ پاس
چوکھٹ بھی ہے، جبیں بھی ہے، اور اک خدا بھی ہے
اک پھول توڑتا ترے صد رنگ باغ سے
اک شاخِ لمس تیرے چمن سے تراشتا
لفظوں کو سونپتا ترا اُسلوبِ دل بری
اک رنگ تیرے رنگ سُخن سے تراشتا
کم پڑ گیا ہے ہجر ترا، ورنہ ایک روز
میں تجھ کو اپنے رنج و محن سے تراشتا
وہ سیر گل کے واسطے آ ہی نہیں رہا
سو اب وہ لطفِ آب و ہوا ہی نہیں رہا
کچھ روز سے اداس ہے دل، اور بہت اداس
اور کیوں اُداس ہے، یہ بتا ہی نہیں رہا
منتظر تھے تیرے ملبوس کے سوکھے ہوئے پھول
وہ جنھیں تیرے پہننے سے سنور جانا تھا
اذن در اذن چمکتے تھے ستارے دل کے
آج سب کو تری آنکھوں میں اُتر جانا تھا
کہو تو یہ کہو دل کو خوش آ رہی ہے ہوا
مشامِ جاں سے گزرتی صبا کا نام نہ لو
کوئی پہنچا نہ مری روح کی تنہائی تک
چھان آیا ہوں ترے عشق کی پہنائی تک
کسی کی آنکھ نے ایسی ستارہ سازی کی
کہ میرے حرف سے نیرنگ کہکشاں چھلکا
میں نے تصویر بنائی تو مخاطب بھی ہوئی
حرف کو ہاتھ لگایا تو وہ زندہ بھی ہوا
ہم نے بھی ایک عام سا جیون بسر کیا
خوشیوں پہ مسکرا دیے اور دُکھ پہ رو لیے
بنا رہا ہوں تجھے میں، کہ ہو مری تکمیل
سنورتا جاتا ہوں میں خود، تجھے بناتا ہوا
میرے اندر اتنے رنگوں کی مٹی ہے
تم جس رنگ میں بھی چاہو گی مل سکتا ہوں
