کسی وقت ستار طاہر کا ناول “سورج بکف شب گزیدہ” پڑھا تھا۔ ستار طاہر ایک بے لوث اور نظریاتی ادیب تھے۔ اس دور میں جب متعدد ادیب ضیاع سرکار سے مرعوب تھے ستار طاہر نے سب سے خطرناک کام کرنے کی ٹھانی۔ اپریل 1979 ء میں بھٹو کو پھانسی دی گئی اور اگست 1979ء میں ستار طاہر اپنا یہ ناول سامنے لے آئے۔ سلیم شاہد نے بھٹو کی پھانسی پر شاعری کا انتخاب ان سے بھی پہلے جولائی 1979 ء میں شائع کر دیا تھا۔ یہ دلیر لوگ تھے جنھیں ضیاع مارشل لاء کے دورِ عروج میں سچ کہنے کا اعزاز حاصل ہوا۔
انور سجاد کا ناول خوشیوں کا باغ سن اناسی میں لکھا گیا لیکن انھوں نے یہ ناول بھارت سے شائع کرایا حال آں کہ وہ اسے پاکستان سے بھی شائع کراتے تو ضیاع حکام اسے سمجھ نہ پاتے۔ انور سن رائے کا ناول “چیخ” انیس سو چھیاسی میں شائع ہوا۔ درمیان میں افسانہ نگار احمد جاوید اور احمد داؤد سمیت درجنوں فکشن نگاروں اور شاعروں نے ضیاع آمریت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے للکارا۔
ستار طاہر کا ناول جذباتی ہے اور اس میں وہ خوبیاں تلاش کرنا مشکل ہیں جو ایک منجھے ہوئے فکشن نگار کے ہاں نظر آتی ہیں لیکن اولیت کا شرف بہ ہر حال اسے حاصل ہے۔
ستار طاہر کو سرخ سلام