آج سروش عالمگیر صاحب، جن کو سب سروش بھائی کہتے ہیں، بھی اپنے آخری مسکن میں پہنچ گئے۔ ان کے انتقال کی خبر رات دیر سے اس وقت ملی جب ایک آن لائن کام کو مکمل کر کے سونے کے لیے بستر پر دراز ہو چکا تھا، اور نیند طاری ہو رہی تھی۔ خبر سنتے ہی خبر کے سورس یعنی محترم عمر رضا بھائی سے رابطہ کیا اور ان سے رہنمائی لیکر چند منٹ میں سروش بھائی کے گھر پہنچ گیا جہاں برادرم محمد طلحہ صاحب بھی موجود تھے ۔ سب ان کے محاسن کو ذکر کر رہے تھے۔ علامہ اقبال کے خطبات سے ان کا لگاؤ، ہر چھوٹے بڑے کو برابر عزت سے نوازنا، وقت کی پابندی، شکر گزاری، صبر و درگزر، رنج و الم کی حالت میں بھی حلیم طبع رہنا ایسے اوصاف تھے جن کا ان کے بہت قریب رہنے والوں نے مشاہدہ کیا۔ حالانکہ اقبالیات سے لگاؤ کے ساتھ ساتھ ان کا اصل میدان تو آئی ٹی تھا جس میں وہ عالمی سطح کے آدمی تھے اور کام بھی عالمی سطح پر کر چکے تھے بلکہ شاید اب بھی کر رہے تھے۔
آج نہ جانے کیسے ہمت کر کے ان کا آخری دیدار کرنا چاہا، حالانکہ شاید زندگی میں ایسا کم کم ہی ہوا ہے کہ میں نے کسی میت کا منہ دیکھا ہو۔ سروش بھائی کے آخری دیدار والی قطار میں کلمہ شریف اور درود پاک پڑھتا ہوا جب ان کے چہرے کے سامنے پہنچا تو خوب غور سے دیکھا، چہرے کی کئی جزئیات پر غور کیا لیکن کسی بھی لحاظ سے ان کے چہرے پر موت کے آثار معلوم نہیں ہوئے بلکہ ایسا لگا کہ پرسکون نیند سو رہے ہیں ۔ بندۂ مومن کی یہی نشانی ہے اور یہی اصل کامیابی ہے کہ وہ خدا کی بارگاہ میں سرخرو ہو کر ہہنچے۔
ایسا ہی ایک سانحہ چند دن پہلے پیش آیا جب اچانک پتا چلا کہ علامہ پیر سید شعیب شاہ گیلانی ڈیرہ اسماعیل خان میں روڈ ایکسیڈنٹ میں انتقال فرما گئے ہیں۔ ان کی گاڑی دیکھی تو ایسے لگا کہ مرحوم کے بدن پر بیشمار زخم لگے ہوں گے لیکن کسی نے جسد خاکی کی فوٹو بھیجی تو تر و تازہ چہرہ، علمی وقار کے ساتھ سلامت تھا۔
قبلہ شاہ صاحب کی علمی و تدریسی خدمات کا بیان طویل ہے، ویسے بھی یہ خاکسار مبالغہ آرائی سے کام نہیں لیتا اور ان کے علم و فضل اور وسعت مطالعہ کو بھی خوب جانتا ہے اس لیے بڑی احتیاط سے یہ کہہ سکا کہ ان جیسا صاحب علم شاید آنے والے سو سال میں بھی پیدا نہ ہو سکے۔ باری تعالی قادر ہے اور ہر دور کو اپنے باعلم بندوں سے منور رکھتا ہے لیکن جس قسم کا ماحول بنا ہوا ہے اور بنتا جا رہا ہے اس کے پیش نظر یہی لگتا ہے کہ شاہ صاحب جس قدر وسیع اور گہرا مطالعہ رکھتے تھے اور ادق علوم و فنون میں بھی مہارت کے ساتھ تدریس میں اپنی نوعیت کے یکتا استاذ تھے ان جیسا استاذ، صاحب علم، وسیع المطالعہ شخص تلاش کرنا ان کی زندگی میں بھی ایک خواب ہی ہو سکتا تھا اور شاید آئندہ بھی خواب ہی رہے، الا ما شاء اللہ ۔
کیونکہ بات یہ ہے کہ علم نہ ہو تو آدمی بیکار ہے لیکن علم آ جائے تو بھی انسان بڑی آزمائشوں میں پڑ جاتا ہے جن میں سے شاید سب سے بڑی بلا تکبر اور خود پسندی ہے۔ شاہ صاحب کے عجز و انکسار کا عالم یہ تھا کہ خاکسار اگر کبھی ان کی تعریف کرتا تو عاجزی کے ایسے الفاظ ارشاد فرماتے کہ منہ کھلے کا کھلا ہی رہ جاتا۔ مثلا ایک بار میں نے عرض کیا کہ آپ کا ہمہ جہت مطالعہ دیکھ کر علامہ تفتازانی اور ان جیسے دیگر صدیوں پرانے علماء کی یاد تازہ ہو جاتی ہے تو اس پر جو انہوں نے ارشاد فرمایا وہ سوچ کر آج بھی ذہن میں یہی آ رہا ہے کہ واقعی عالم کہلانے کے لائق تو ایسے لوگ ہی ہوتے ہیں جو ہم جیسے طفلان مکتب کو بھی کمتر نہ سمجھیں۔ فرمانے لگے نہیں نہیں میرے پاس کیا ہے، میں تو طالب علم ہوں، آپ استاذ ہیں مطالعہ کرتے ہیں، کتابیں پڑھاتے ہیں۔ اور میں یہ سن کر جو شرمندہ ہوا وہ تو ہوا ہی لیکن سچ پوچھیں تو آج بھی یقین نہیں آتا کہ یہ الفاظ شاہ صاحب جیسے شخص نے ایک طفل مکتب کے لیے کیسے ارشاد فرما دیے۔ اصل بات یہی ہے کہ عالم ربانی ایسے ہی علماء کو کہا جا سکتا ہے جن کے سینے میں علم بھی ہو اور دل بھی شیشے کی طرح صاف ہو۔
اللہ بس ، باقی ہوس۔