غرورِ فتحِ مبیں ہے دمشق میں سرِشام
وہ دف کی تھاپ کہ لرزاں ہے چرخِ نیلی فام
لگی ہوئی ہیں سبیلیں، سجے ہیں کوچہ و بام
مصاحبینِ خلیفہ و عالمانِ کرام
سرور و کیف میں ڈوبےہوئےخواص و عوام
چہک رہی ہیں کنیزیں، تھرک رہے ہیں غلام
ہیں سنگ ہاتھ میں اورمنتظر سرِ بازار
اسیر کر کے جو لاۓ گئے ہیں وہ کفّار
نظر جو آئیں تو ان پر وہ سنگ باری ہو
شکست خوردہ جبینوں سے خون جاری ہو
گناہ گار خلیفہ کے روبرو ہوں آج
سپاہِ شام کے سالار سرخرو ہوں آج
****
فضا میں گرد اڑی، ڈھول کی دھمک آئی
تماش بین نگاہوں میں اک چمک آئی
وہ شہسوار تھے نیزوں پہ سر اٹھاۓ ہوۓ
سیاہ پوش اسیروں کو ساتھ لاۓ ہوۓ
تمام شہر کی آنکھوں میں خون اتر آیا
کسی شقی کے نشانے پہ ایک سر آیا
اسیر بی بی، اسیروں کی قافلہ سالار
غریبِ شہر مگر ٹوٹنے نہ دیں پندار
بپھر کے بولیں، سیاہ بخت، بدنہاد ہو تم
سگانِ بغض ہو، ناشاد نامراد ہو تم
یہ جانتے ہو کہ کس سیپ کا گہر ہے یہ؟
حسین ابنِ علی کا بریدہ سر ہے یہ
یہ ایک کاسہِ سر ہے جو تم پہ بھاری ہے
امیرِ شہر پہ تا حشر خوف طاری ہے