مُجھے اپنے لڑکپن کا ایک واقعہ یاد ہے۔ نئے سال کا آغاز تھا۔ ہم مری میں چند روزہ رہائش رکھے ہوۓ تھے۔ دسمبر کی آخری رات مری کی مال روڈ پر خوب ہلا گُلا ہو رہا تھا۔ فیملیز تھیں تو چند لڑکے بھی ادھر موجود تھے۔لڑکے جی پی او کے سامنے بے ضرر ناچ ناچ رہے تھے۔یکایک اُدھر ایک ڈھول والا آیا اور ڈھول بجانا شروع کر دیا۔ ڈھول کی آواز سُن کر آس پاس سے مزید لڑکے اُدھر اکٹھے ہو گئے اور ناچنے لگے۔ ڈھول کی بِیٹ تیز ہوتی رہی، اب کے ناچنے والوں میں چند چادر پوش بھی شامل ہو گئے۔جب ناچ اپنے عروج ہر پہنچا تو یکایک ڈھول والا خاموش ہو گیا اور چادرپوش افرادنے، جو لڑکوں کو گھیرے میں لے چُکے تھے، اپنی چادروں میں سے ڈنڈے نکالے اور لڑکوں پر پَل پڑے۔
ڈھول والا اور چادر پوش لوگ دراصل سادہ لباس میں پولیس اہل کار تھے۔ پہلے انہوں نے ڈھول کی تھاپ پر سب لڑکوں کو اکٹھا کیا، پھر ان کو اتنا مارا پیٹا کہ اگلے روز کے نواۓ وقت اخبار میں اس واقعے کی نمایاں سُرخیاں لگی تھیں۔
کھیل اور مثبت جسمانی سرگرمیوں کا انتظام ہمارے ہاں نہیں، صحت مند تفریحی سرگرمیاں اِدھر نہیں، فنون لطیفہ ندارد، عجائب گھر، آرٹ ایکٹیویٹی غائب، سوشل میڈیا فلم ٹی وی فرسٹریشن طاری کرتے ہوۓ، ہمارے جوان کِدھر جائیں؟ جوانی کا جوش تخریب کا رُخ اختیار نہ کرے تو کیا کرے؟؟
{ لڑکے تو پھر کتھارسس کے چند ذرائع پیدا کر لیتے ہیں، لڑکیاں گھُٹن میں سسک رہی ہیں}