ابھی کچھ دیر پہلے عزیزم وجاہت مسعود نے یہ خبر سنائی ہے کہ پاکستان میں فلسفے کے بزرگ ترین استاد ڈاکٹر منظور احمد بھی اکانوے برس کی عمر میں اس جہان فانی کو خیر باد کہہ گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ڈاکٹر صاحب اس ملک میں فلسفیانہ فکر اورآزاد خیالی کا ایک روشن نام تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک زمانے میں پی ٹی وی پر بہت معیاری اور فکر انگیز پروگرام کیے تھے۔ وہ فلسفیانہ گفتگو بہت دلنشین انداز میں کرتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے اگرچہ لکھا کم ہے لیکن جو لکھا ہے اس میں سوچ اور فکر کو مہمیز دینے والا خاصا مواد موجود ہے۔ ان کی نثر کا ایک خاص اسلوب تھا۔ اگرچہ ہمارے ملک کے حالات کے پیش نظر، میرا گمان ہے۔ وہ اپنے خیالات کا اظہار کھلا اظہار کرنے سے گریز کرتے تھے۔ ان کے مضامین کے بین السطور میں بہت کچھ مخفی ہوتا تھا۔ فلسفیانہ دلائل سے واقفیت رکھنے والے لوگ ہی ان کی تحریر میں موجود کنایوں کو کسی قدر سمجھ سکتے تھے۔ کچھ موضوعات پر ان کی تحریر گفتہ آید در حدیث دیگراں کی مصداق ہوتی تھی۔ ان کے مضامین کا ایک مجموعہ "اسلام: چند فکری مسائل” کے عنوان سے ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور نے سنہ 2004ء میں چھاپا تھا۔ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ نے سی سی جے ویب کی کتاب "تاریخ فلسفہ” مترجمہ مولوی احسان احمد شائع کی تھی۔ اس ترجمے پر ڈاکٹر صاحب نے نہ صرف نظرثانی کی تھی بلکہ اس میں برگساں اور وٹگنسٹائن پر اپنے دو گراں قدر مضامین کا اضافہ بھی کیا تھا۔
ڈاکٹر صاحب کی وفات کے ساتھ خرد افروزی اور روشن خیالی کا ایک باب بند ہو گیا ہے اور علمی، فکری فضا میں چھائی تاریکی مزید تہہ دار ہو گئی ہے۔