مسلم ہند کے معمار اوّل
شیخ الاسلام ، سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی قدس سرہ العزیز
جہانے را دگر گوں کرد یک مردِ خود آگاہے
(ایک مرد خود آگاہ ایک جہان بدل ڈالتا ہے)
۔۔۔۔۔۔
’’۔۔۔۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ نے محمد غوری کے حملوں کے درمیان اور اسلامی سلطنت کی عمومیت و استحکام سے پیش تر، ہندوستان کے قلب اور قدیم ہندوستان کے عظیم سیاسی و روحانی مرکز اجمیر کو اپنے قیام کے لیے انتخاب فرمایا، یہ فیصلہ ان کی اولوالعزمی ، عالی ہمتی اور جرأت ایمانی کا ایسا تابناک کارنامہ ہے جس کی مثالیں صرف پیشوایانِ مذاہب اور فاتحین عالم کی تاریخوں میں مل سکتی ہیں۔ ان کے استقلال و اخلاص ، ان کے توکل و اعتماد ، ان کے زہد و قربانی اور ان کے دردو سوز کی وجہ سے ہندوستان کے لیے دار الاسلام بننے کا فیصلہ کردیا گیا۔‘‘
’’اس ملک میں جس کو دولتِ اسلام ملی اور قیامت تک جوبھی اس دولت سے مشرف ہوگا نہ صرف وہ بلکہ اس کی اولاد در اولاد، نسل در نسل سب ان کے نامہ اعمال میں ہوں گے اور اس میں قیامت تک جو بھی اضافہ ہوتا رہے گا اور دائرہ اسلام وسیع ہوتا رہے گا قیامت تک اس کا ثواب شیخ الاسلام معین الدین حسن سجزی کو پہنچتا رہے گا۔ ان شا اللہ العزیز‘‘ (سیر الاولیأ)
’’ہندوستان میں جو کچھ خدا کا نام لیا اور اسلام کا کام کیا گیا وہ سب چشتیوں اور ان کے مخلص و عالی ہمّت بانی سلسلہ حضرت معین الدین چشتیؒ کے حسنات اور کارناموں میں شمار کیے جانے کے قابل ہے اور اس میں شبہہ نہیں کہ اس ملک پر اس سلسلہ کا حق قدیم ہے۔‘‘
(مقتبس از ’’تاریخ دعوت و عزیمت‘‘ حصہ سوم ۔ مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی