جرمنی اور ویانا میں بہت سے کردار ملے جو دلچسپ تھے۔ ایک افغان جو پچاس سال سے ملک سے باہر ہے، ہوسٹل میں ملنے والا ایک انڈین لڑکا جو مودی بھگت ہے، ایک مراکشی جسے لگتا ہے کہ پاکستان نے اس کی سب محرومیوں کا بدلہ لے لیا ہے، مغربی بنگال کے ایک نہایت نستعلیق بزرگ جنھیں ٹیگور اور فارسی شاعری سے عشق ہے، ویانا کا ایک علاقہ جہاں لوگ فارسی، عربی اور ترکی بولتے تھے، ایک اکھڑ مزاج جرمن دکان دار، ایک سراپا ملائمت جرمن بزرگ خاتون، ایک ایرانی دونیر فروش جو چپلی کباب بھی بناتا اور بیچتا ہے، بہار کا ایک دانش ور جو والٹر بنجمن کی مالا جپتا ہے اور جس کے پاس کچھ دلچسپ سیاسی تھیوریز ہیں، ایک جرمن جو بنگالی کا ماہر ہے، ایک خاتون جو پندرہ سولہ زبانیں جانتی ہیں، ایک بھارتی انجینیئر جس کے والد ایس ڈی برمن کے ساتھ گٹار بجاتے تھے، ایک صاحب جو واٹس ایپ تک نہیں رکھتے، ان میں سے اکثر نے شادی کسی اور قوم کے فرد سے کر رکھی ہے اور ان کے بچوں کے لیے کسی بھی قوم کا نیشنلزم بے معنی ہو چکا ہے۔
مغرب کے اکیڈمک افراد سے پہلی بار کھل کر ملنے کا اتفاق ہوا اور ان میں ایک درویشی، ایک شان استغنا پائی۔ وہ پیسے کی دوڑ سے دور اپنے اپنے شوق کے نشے میں رہنے والے لوگ تھے۔ کسی کو کسی علم کا نشہ تھا تو کسی کو کسی اور علم کا۔ ایسے نشیئوں کے درمیان بہت یادگار دن گزرے۔