Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » کیا ڈاکٹر ظالم ہوتے ہیں؟

کیا ڈاکٹر ظالم ہوتے ہیں؟

ڈاکٹر نوید خالد تارڑ

کی طرف سے Ranaayi دسمبر 26, 2025
کی طرف سے Ranaayi دسمبر 26, 2025 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
44

کسی کی پوسٹ دیکھی کہ "ڈاکٹرز کو چاہیے مریض کو چیک کرتے وقت اس کا پیشہ پوچھ لیں اور غریب مزدوروں کو فیس معاف کر دیں یا ان کو غیر ضروری ٹیسٹ نہ لکھ کر دیں”

میں پوری طرح اس بات سے متفق ہوں لیکن کیا آپ جانتے ہیں اگر مریضوں سے پیشہ پوچھ کر ان کی فیس معاف کرنا شروع کریں تو سارے ہی مزدور بن جائیں گے۔ سب ہی غریب بن جائیں گے، کوئی بھی فیس دینا نہیں چاہے گا البتہ کم دوائی پہ کوئی راضی بھی نہیں ہو گا اور کہے گا کہ دوائی اسے اچھی اور مہنگی ہی لکھ کر دی جائے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے خود کتنے ایسے مریض دیکھے ہیں، جو انتہائی غریب تھے اور انھیں زیادہ دوائی کی ضرورت نہیں تھی۔ اس لیے انھیں بغیر کوئی ٹیسٹ کروائے، ضرورت کی دوائی بغیر پیسوں کے دے کر بھیجا اور بعد میں پتا چلا کہ انھیں کم دوائی سے تسلی نہیں ہوئی، اس لیے وہ اسی روز کسی اور ڈاکٹر کے پاس جا کر ہزاروں لگا کر مہنگی دوائی لائے ہیں اور سکون میں آئے ہیں۔ یہ کوئی فرضی قصے نہیں، میں خود ان کا گواہ ہوں۔

ڈاکٹر کو ظالم قرار دینا عوام کو زیادہ پسند ہے، یہی مقبول بیانیہ ہے اور یہاں بکتا بھی یہی ہے لیکن زمینی حقائق بہت مختلف ہیں۔ یہاں مفت دوائی دینا شروع کریں تو عوام اپنے پانچ بچوں کو ساتھ لا کر ان کے دس دس امراض گنوا کر دوائیوں کے شاپر بھر کے ساتھ لے جانا چاہتی ہے۔

فری میڈیکل کیمپس میں بطورِ ڈاکٹر بے بسی سے کھڑے ہو کر دوائیاں لوٹنے والے لوگوں کو دیکھنا کتنا تکلیف دہ ہے، یہ میں جانتا ہوں۔

جن کے لیے بہت مشکل سے دوائیاں اکٹھی کی ہوں اور کئی روز کی محنت سے انتظامات کیے ہوں، وہی فری میڈیکل کیمپ میں دوائیوں پہ ہلہ بول کر دوائیاں اٹھا اٹھا کر بھاگ رہے ہوں تو یہ کوئی خوش کن منظر نہیں ہوتا۔

ہمارے مسائل اور ہیں، ہمارا شور اور باتوں پہ ہے۔ ہم میں مجموعی طور پہ شعور سمجھ کی کمی ہے، وہ چاہے ڈاکٹر ہوں یا مریض، اس لیے ہر کوئی اپنے فائدے کے لیے دوسروں کو لوٹنا چاہتا ہے۔ یہی اکثر مریض کر رہے ہیں اور یہی بہت سارے ڈاکٹرز بھی

لیکن بس ڈاکٹرز کو ظالم قرار دے کر واہ واہ سیمٹیے کیوں کہ عوام کو یہی سننا پسند ہے۔

آپ لوگ اپنے اپنے علاقے میں ایسے ڈاکٹرز کے خلاف تحریک کیوں نہیں چلاتے جو غیر ضروری دوائیاں لکھ کر دیتا ہے یا غیر ضروری ٹیسٹ کرتا ہے؟ ان کے پاس علاج کے لیے کیوں جاتے ہیں؟

اگر کوئی ثابت شدہ فراڈیا ہے تو اس کے خلاف کیس کیوں نہیں کرتے؟

یہ مت کہیے گا کہ سب ڈاکٹرز ہی ایسے ہوتے ہیں کیونکہ یہ آپ کا بغض ہو سکتا ہے، حقیقت نہیں۔ میں ذاتی طور پہ ایسے کتنے ہی ڈاکٹرز کو جانتا ہوں جو بہت سارا فلاحی کام کرتے ہیں، روزانہ بہت سارے مریضوں کو مفت چیک کرتے ہیں، انھیں مفت ادویات دیتے ہیں۔

لیکن آپ کو ان برے ڈاکٹرز کے خلاف کوئی تحریک نہیں چلانی کہ کہیں وہ آپ کا علاج کرنے سے منع نہ کر دیں، کہیں کسی روز آپ کو ان کے پاس جانا ہی نہ پڑ جائے۔ آپ کو بس سوشل میڈیا پہ مقبول بیانیے کا سہارا لے کر واہ واہ سمیٹنی ہے۔

ضروری نہیں کہ جو بات آپ کو سمجھ نہ آ رہی ہو، وہ غلط ہی ہو۔ ضروری نہیں کہ جس بات کا آپ کو پتا نہیں، اسے فراڈ ہی سمجھا جائے۔ آسان اور حقیقی مثال دیتا ہوں

میرے والد صاحب کو بدہضمی کی شکایت ہوئی، ساری علامتیں بدہضمی والی تھیں۔ انھیں ہسپتال لے جایا گیا، وہاں جو ڈاکٹر تھا اس نے ای سی جی کرنے کا کہا۔

(آپ میں سے کتنے لوگ ہوں گے جو کہیں گے ظالم ڈاکٹر مفت کا ٹیسٹ کروا کے خرچہ کروا رہا ہے؟)

ای سی جی میں معمولی سی تبدیلی آ رہی تھی۔ انھیں کارڈیالوجی والے ہسپتال میں بھیجا گیا۔ وہاں ہارٹ اٹیک کے لیے متعلقہ ٹیسٹ کیے گئے، ان کی رپورٹ ٹھیک تھی لیکن ڈاکٹرز نے انھیں ہسپتال رکھا اور دو دو گھنٹے کے وقفے سے وہی ٹیسٹ دوبارہ کیے۔

(عام لوگوں کے خیال میں یہ ظالم ڈاکٹرز کی طرف سے بلاوجہ کروائے گئے ٹیسٹ تھے لیکن میں خود ساتھ تھا تو جانتا تھا کہ یہ ٹیسٹ ہونا ضروری ہیں یا نہیں)

ان ٹیسٹس کی اگلی رپورٹس میں پتا چلا کہ انھیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا جو پہلے والی رپورٹوں میں واضح نہیں ہو رہا تھا۔

اب اگر ان کی یہ رپورٹس بھی ٹھیک آتیں اور وہاں پہ میں خود نہ ہوتا، کوئی عام انسان ہوتا تو وہ ان ڈاکٹروں کو کیا سمجھتا؟

لالچی؟ ظالم؟ قصائی؟ فراڈیے؟ خودغرض ؟

جو ٹیسٹ ٹھیک آنے پہ بھی بلاوجہ مزید ٹیسٹ کروا رہے تھے۔

بدہضمی سے شروع ہونے والا معاملہ ہارٹ اٹیک پہ ختم ہوا لیکن کیا عام عوام یہ طے کر سکتی ہے کہ کب بدہضمی میں یہ ٹیسٹ کروانے ضروری تھے اور کب نہیں؟

یہ ضروری ٹیسٹ والی بات ہے جو عام عوام کو کم علمی کی وجہ سے پتا نہیں ہوتی اور دوسری طرف ایسے ڈاکٹرز کو بھی میں خود جانتا ہوں جو مریضوں کو لوٹتے ہیں، ان کا نقصان کرتے ہیں۔ مکمل اہلیت نہ ہونے پہ بھی ان کا آپریشن کر دیتے ہیں، مریضوں کو غلط دوائی سے نقصان پہنچاتے ہیں۔

لیکن سب ویسے نہیں۔ سب اچھے نہیں تو سب برے بھی نہیں۔ دونوں کو ان کے مقام پہ رکھنا سیکھیے۔ دوسروں کو بلاوجہ برا سمجھ کر ظالم قرار دینا چھوڑیے۔ جس کے پاس جو مہارت ہے، جو علم ہے اس کے مطابق درست غلط کا فیصلہ اسے ہی کرنے دیجیے۔ اور جہاں ثابت ہو جائے کوئی غلط کر رہا ہے تو اسے روکنا سیکھیے۔ اس سے جوابدہی کرنے کی طاقت اکٹھی کیجیے۔

طے کیجیے کہ کون سا ڈاکٹر ظالم ہے، لالچی ہے اور یقین کریں ایسے بہت سارے ہیں، ان برے ڈاکٹرز کا بائیکاٹ کیجیے لیکن اپنی کم علمی یا کم سمجھی کی وجہ سے باقی سب کو قصائی قرار دے کر واہ واہ سمیٹ لینے سے کچھ نہیں ملے گا۔ یہاں ایسے ایسے اچھے ڈاکٹرز بھی ہیں کہ میرا یقین ہے وہ اپنے اعمال کی وجہ سے خدا کے پسندیدہ ترین لوگوں میں سے ہوں گے۔

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • ہماری تفریحی سرگرمیاں
  • سوشل میڈیا کے دور میں مطالعہ کیوں کیا جاۓ؟
  • اکیسویں صدی میں اتارے ہوئے لوگ
  • اسلام، شاعری اور خطابت
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
نذر اجمیر (خصوصی اشاعت بسلسلہ یوم خواجہ معین الدین چشتی)
اگلی تحریر
جہانِ گزراں (یہ دنیا رنگ رنگیلی بابا)

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

اخلاقیات کی دھنک

جنوری 8, 2026

اکیسویں صدی کے پہلے 25 برس

دسمبر 22, 2025

چند ادبی و سماجی مسائل

دسمبر 28, 2025

اے آئی کی کلہاڑی

دسمبر 31, 2025

امجد اسلام امجد سے ایک ملاقات

جنوری 4, 2026

کیا عقلی دلیل ممنوع ہے ؟

دسمبر 23, 2025

آپ اے آئی سے ڈرتے ہیں یا نہیں

جنوری 5, 2026

میرا کراچی

دسمبر 24, 2025

ادبی میلوں کا ایک توجہ طلب پہلو

دسمبر 29, 2025

ایران میں بھوک کا احتجاج

جنوری 6, 2026

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • روشنی (کہانی)
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید
  • اخلاق احمد کی کتاب بھید بھرے
  • احوال ایران؛ چند فکری زاویے

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 238 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 215 views
  • 3

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 211 views
  • 4

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 204 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 180 views

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • روشنی (کہانی)

    جنوری 13, 2026
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

    جنوری 12, 2026
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید

    جنوری 11, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

امجد اسلام امجد سے ایک ملاقات

جنوری 4, 2026

ہم اور ہماری سوچیں

دسمبر 31, 2025

سوشل میڈیا کے دور میں مطالعہ...

دسمبر 13, 2025
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here