مثنوی کی صنف میں مرزا عبدالقادر بیدل جیسے عبقری قادری قلندر کی ایک مختصر نعت اور اس کی ترجمانی ملاحظہ فرمائیے:
زبانم قابلِ حمدِ خدا شد
کہ با نامِ محمد آشنا شد
میری زبان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام سے آشنا ہوئی اور اب اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنے کے قابل ہوئی.
دل از تفسیرِ این اسم است آگہ
زِ رمزِ معنیِ الحمد للہ
دل اسمِ محمد کے معانی و معارف سے آگاہ ہے اور یہ ادراک الحمد للہ کے معانی کے بھید سے عطا ہوا ہے.
دو عالَم چون صدف درہم شکستم
کہ آمد گوہرِ نامَش بہ دستم
مَیں نے دونوں جہانوں کو سیپی کی طرح توڑا تو مجھے یہ مبارک نام ملا.
زِ آغوشِ اَحَد یک میم جوشید
کہ بی رنگی لباسِ رنگ پوشید
اَحد کی گود سے ایک میم موج زن ہوئی، بے رنگی نے لباسِ رنگ پہنا.
نکرد آن جلوہ جُز سازِ نگاہی
نَبود آن میم جُز بر خود گواہی
اس جلوے نے اپنا ہی نظارہ کیا، وہ میم اپنی ذات پر گواہی کے سوا کچھ نہیں تھی.
زِ احمد بر اَحد چیزی نیفزود
اگر میمی فزود، آن ہم یکی بود
احمد نے اَحد پر کچھ بھی نہیں بڑھایا، اگر میم کا اضافہ ہوا تو وہ بھی ایک ہی بات تھی.
محمد ظاہر و باطن خداوند
ندارد موج جُز با بحر پیوند
محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظاہر ہیں اور خدا پنہاں ہے، موج کا تعلق سمندر کے سوا کسی سے نہیں ہوتا.
نَگنجد در اَحد جُز در اَحد ہیچ
یکی در یک گم است این جا عدد ہیچ
اَحد میں اَحد کے سوا کوئی نہیں سما سکتا، ایک ہی ایک میں گم ہے، یہاں عدد بے معنی ہیں.
انتخاب و ترجمانی: معین نظامی
١۷- جنوری ٢٠٢٦ء