اماں کو بچھڑے آج چودہ برس بیت گئے مگر کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے وہ ابھی گھر کے کسی کونے میں بیٹھی پیاز چھیل رہی ہوں۔ پیاز کی پرتیں اترتی جاتیں اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے جاتے۔ بچپن میں مجھے کوفت ہوتی تھی کہ اماں اگر پیاز چھیلنی ہے تو کچن میں جا کر چھیلیں، ہماری آنکھوں کو تو بخش دیں۔ جب میں یہ کہتا تو وہ مسکرا کر کہتیں “مجھ سے اکیلے بیٹھے نہیں چھیلا جاتا۔”۔ شاید وہ کہنا چاہتی تھیں کہ مجھ سے اکیلے نہیں رویا جاتا۔پرانے زمانے کی عورتیں شاید ایسے ہی روتی تھیں۔ زمانے کو دکھانے کے لیے آنکھوں میں پیاز کا جواز اور دل میں دکھ کا سمندر۔ وہ اپنے آنسوؤں کو بھی بھرم رکھ کے بہاتی تھیں۔
سنہ 1992 کی ایک سرد رات تھی جب نانی کے انتقال کی خبر آئی۔ ابا نے آدھی رات ہمیں جگایا۔ اماں سے کہا کہ “ماں جی کی طبیعت خراب ہے، ہسپتال داخل ہیں، تیاری کرو۔” سفر کی وہ رات اماں نے روتے ہوئے گزاری۔ جب میکے پہنچیں اور حقیقت سامنے آئی تو صدمہ اتنا شدید تھا کہ تین دن کوما میں رہیں۔ ایک طرف گھر میں جنازے کی تیاری، دوسری طرف اماں بے ہوش پڑی تھیں۔ میں ان کی چارپائی کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا رہتا۔ ڈاکٹر آتا، ڈرپ بدلتا اور چلا جاتا۔ تین دن بعد آنکھ کھلی تو یوں لگا جیسے زندگی نے بمشکل انہیں واپس کیا ہو۔
مگر اس صدمے نے ان کے اندر خاموش قاتل نے گھر کر لیا۔ شوگر نے گھر کر لیا۔ ایک دن سکول سے لوٹا تو اماں کو یوں تھر تھر کانپتے دیکھا جیسے مچھلی پانی سے باہر ہو۔ روتے دھوتے ہسپتال پہنچے تو معلوم ہوا شوگر خطرناک حد تک گر چکی ہے۔سنہ 1984 سے 2010 تک وہ ایک سرکاری سکول میں سائنس ٹیچر رہیں۔ صبح سکول، دوپہر گھر، شام گھر کی صفائی، کھانا، مجھے پڑھانا، رات کو برتن سمیٹنا اور پھر تھکی ہوئی نیند۔ اپنی بیماری کو انہوں نے ہمیشہ آخری نمبر پر رکھا۔ شاید ماں ہونا ہی ایسا منصب ہے جس میں عورت خود کو فہرست کے آخر میں رکھ دیتی ہے۔
اماں نے ساری زندگی سکول ٹیچر کی سرکاری نوکری کر کے گھر بھی چلایا اور ابا کو لاحق جگر کے سرطان کا بھی بھگتان کیا۔ ابا کا انتقال طویل جان لیوا بیماری کے بعد اکتوبر سنہ 2004 میں ہو گیا۔ سنہ 2011 میں ایک دن اچانک معلوم ہوا کہ ان کے دونوں گردے جواب دے چکے ہیں۔ وجہ شوگر کا اپ ڈاؤن رہنا تھا۔ نوبت ڈائلاسس پر پہنچی مگر اماں نے اس دردناک پراسس سے انکار کر دیا۔ جیسے تیسے کر کے ان کو منایا ۔ ڈائلاسس کے ساتھ ایک سال گزرا اور پھر 19 فروری 2012 کی صبح ہسپتال میں بارہ دنوں کے لمبے کامے میں ان کا انتقال ہو گیا۔ میں نے خود انہیں قبر میں اتارا۔ اپنے ہاتھوں سے مٹی برابر کی۔اس لمحے میں اچانک جوانی سے ادھیڑ عمر میں داخل ہو گیا۔
اماں کی تفریح بس دو چیزیں تھیں۔ میں اور پی ٹی وی کے ڈرامے۔ وہ اصغر ندیم سید کے لکھے ہوئے ڈرامے شوق سے دیکھتی تھیں۔ جیسے کہ ہوائیں، نجات، غلام گردش وغیرہ ۔ برسوں بعد جب میں یونیورسٹی میں پڑھانے لگا تو اصغر ندیم سید صاحب میرے کولیگ بنے۔ ہم دوپہر کا کھانا اکثر میرے ہی کمرے میں ساتھ کھاتے تھے۔ ایک دن میں نے کہا “شاہ جی، میری اماں آپ کے ڈراموں کی فین تھیں۔”وہ مسکرائے اور بولے، “ویکھ لے سوہنیا، میں اس اماں دے پتر دے کم دا فین آں۔”۔ یہ جملہ میرے لیے اعزاز تھا لیکن اسی لمحے میرا دل عجب ہو گیا۔ کاش میں اماں کو بتا سکتا۔ شاید وہ مسکرا دیتیں۔
ہر مڈل کلاس گھرانے میں ایک الماری ہوتی ہے جو ماں کے جہیز میں آتی ہے۔اماں کے جہیز میں بھی ایک الماری آئی تھی اس کے ایک خانے میں وہ دنیا بھر کے کاغذات محفوظ رکھتی تھیں۔ میری مڈل کلاس کی ڈیٹ شیٹ بھی وہیں سے ایک دن برآمد ہوئی۔ میں نے کہا “امی، یہ کیوں سنبھال رکھی ہے؟”۔ انہوں نے جواب دیا، “کیا پتا کونسا کاغذ کب کام آ جائے، تجھے کیا مسئلہ ہے؟”۔چند سال پہلے جب گھر بدلا تو وہ بوسیدہ الماری دل پر پتھر رکھ کر دان کر دی۔ مگر اب نئی الماری میں میں وہ سب کاغذ سنبھال کر رکھتا ہوں ۔حتیٰ کہ 1984 میں مجھے لگنے والے حفاظتی ٹیکوں کی پرچیاں بھی۔ جب کبھی انہیں تلف کرنے کا ارادہ کرتا ہوں تو اماں کی آواز کانوں میں گونجنے لگتی ہے “تجھے کیا پتا، کونسا کاغذ کب کام آ جائے”۔
اماں اب پیاز نہیں چھیلتیں مگر زندگی کی پرتیں روز روز پیاز کی مانند کھلتی جاتی ہیں اور آنکھیں بھیگتی جاتی ہیں۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ اکیلے رونا قدرے آسان ہوتا ہے۔