Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » ماں کی یاد میں

ماں کی یاد میں

سید مہدی بخاری

کی طرف سے Ranaayi فروری 19, 2026
کی طرف سے Ranaayi فروری 19, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
34

اماں کو بچھڑے آج چودہ برس بیت گئے مگر کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے وہ ابھی گھر کے کسی کونے میں بیٹھی پیاز چھیل رہی ہوں۔ پیاز کی پرتیں اترتی جاتیں اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے جاتے۔ بچپن میں مجھے کوفت ہوتی تھی کہ اماں اگر پیاز چھیلنی ہے تو کچن میں جا کر چھیلیں، ہماری آنکھوں کو تو بخش دیں۔ جب میں یہ کہتا تو وہ مسکرا کر کہتیں “مجھ سے اکیلے بیٹھے نہیں چھیلا جاتا۔”۔ شاید وہ کہنا چاہتی تھیں کہ مجھ سے اکیلے نہیں رویا جاتا۔پرانے زمانے کی عورتیں شاید ایسے ہی روتی تھیں۔ زمانے کو دکھانے کے لیے آنکھوں میں پیاز کا جواز اور دل میں دکھ کا سمندر۔ وہ اپنے آنسوؤں کو بھی بھرم رکھ کے بہاتی تھیں۔

سنہ 1992 کی ایک سرد رات تھی جب نانی کے انتقال کی خبر آئی۔ ابا نے آدھی رات ہمیں جگایا۔ اماں سے کہا کہ “ماں جی کی طبیعت خراب ہے، ہسپتال داخل ہیں، تیاری کرو۔” سفر کی وہ رات اماں نے روتے ہوئے گزاری۔ جب میکے پہنچیں اور حقیقت سامنے آئی تو صدمہ اتنا شدید تھا کہ تین دن کوما میں رہیں۔ ایک طرف گھر میں جنازے کی تیاری، دوسری طرف اماں بے ہوش پڑی تھیں۔ میں ان کی چارپائی کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا رہتا۔ ڈاکٹر آتا، ڈرپ بدلتا اور چلا جاتا۔ تین دن بعد آنکھ کھلی تو یوں لگا جیسے زندگی نے بمشکل انہیں واپس کیا ہو۔

مگر اس صدمے نے ان کے اندر خاموش قاتل نے گھر کر لیا۔ شوگر نے گھر کر لیا۔ ایک دن سکول سے لوٹا تو اماں کو یوں تھر تھر کانپتے دیکھا جیسے مچھلی پانی سے باہر ہو۔ روتے دھوتے ہسپتال پہنچے تو معلوم ہوا شوگر خطرناک حد تک گر چکی ہے۔سنہ 1984 سے 2010 تک وہ ایک سرکاری سکول میں سائنس ٹیچر رہیں۔ صبح سکول، دوپہر گھر، شام گھر کی صفائی، کھانا، مجھے پڑھانا، رات کو برتن سمیٹنا اور پھر تھکی ہوئی نیند۔ اپنی بیماری کو انہوں نے ہمیشہ آخری نمبر پر رکھا۔ شاید ماں ہونا ہی ایسا منصب ہے جس میں عورت خود کو فہرست کے آخر میں رکھ دیتی ہے۔

اماں نے ساری زندگی سکول ٹیچر کی سرکاری نوکری کر کے گھر بھی چلایا اور ابا کو لاحق جگر کے سرطان کا بھی بھگتان کیا۔ ابا کا انتقال طویل جان لیوا بیماری کے بعد اکتوبر سنہ 2004 میں ہو گیا۔ سنہ 2011 میں ایک دن اچانک معلوم ہوا کہ ان کے دونوں گردے جواب دے چکے ہیں۔ وجہ شوگر کا اپ ڈاؤن رہنا تھا۔ نوبت ڈائلاسس پر پہنچی مگر اماں نے اس دردناک پراسس سے انکار کر دیا۔ جیسے تیسے کر کے ان کو منایا ۔ ڈائلاسس کے ساتھ ایک سال گزرا اور پھر 19 فروری 2012 کی صبح ہسپتال میں بارہ دنوں کے لمبے کامے میں ان کا انتقال ہو گیا۔ میں نے خود انہیں قبر میں اتارا۔ اپنے ہاتھوں سے مٹی برابر کی۔اس لمحے میں اچانک جوانی سے ادھیڑ عمر میں داخل ہو گیا۔

اماں کی تفریح بس دو چیزیں تھیں۔ میں اور پی ٹی وی کے ڈرامے۔ وہ اصغر ندیم سید کے لکھے ہوئے ڈرامے شوق سے دیکھتی تھیں۔ جیسے کہ ہوائیں، نجات، غلام گردش وغیرہ ۔ برسوں بعد جب میں یونیورسٹی میں پڑھانے لگا تو اصغر ندیم سید صاحب میرے کولیگ بنے۔ ہم دوپہر کا کھانا اکثر میرے ہی کمرے میں ساتھ کھاتے تھے۔ ایک دن میں نے کہا “شاہ جی، میری اماں آپ کے ڈراموں کی فین تھیں۔”وہ مسکرائے اور بولے، “ویکھ لے سوہنیا، میں اس اماں دے پتر دے کم دا فین آں۔”۔ یہ جملہ میرے لیے اعزاز تھا لیکن اسی لمحے میرا دل عجب ہو گیا۔ کاش میں اماں کو بتا سکتا۔ شاید وہ مسکرا دیتیں۔

ہر مڈل کلاس گھرانے میں ایک الماری ہوتی ہے جو ماں کے جہیز میں آتی ہے۔اماں کے جہیز میں بھی ایک الماری آئی تھی اس کے ایک خانے میں وہ دنیا بھر کے کاغذات محفوظ رکھتی تھیں۔ میری مڈل کلاس کی ڈیٹ شیٹ بھی وہیں سے ایک دن برآمد ہوئی۔ میں نے کہا “امی، یہ کیوں سنبھال رکھی ہے؟”۔ انہوں نے جواب دیا، “کیا پتا کونسا کاغذ کب کام آ جائے، تجھے کیا مسئلہ ہے؟”۔چند سال پہلے جب گھر بدلا تو وہ بوسیدہ الماری دل پر پتھر رکھ کر دان کر دی۔ مگر اب نئی الماری میں میں وہ سب کاغذ سنبھال کر رکھتا ہوں ۔حتیٰ کہ 1984 میں مجھے لگنے والے حفاظتی ٹیکوں کی پرچیاں بھی۔ جب کبھی انہیں تلف کرنے کا ارادہ کرتا ہوں تو اماں کی آواز کانوں میں گونجنے لگتی ہے “تجھے کیا پتا، کونسا کاغذ کب کام آ جائے”۔

اماں اب پیاز نہیں چھیلتیں مگر زندگی کی پرتیں روز روز پیاز کی مانند کھلتی جاتی ہیں اور آنکھیں بھیگتی جاتی ہیں۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ اکیلے رونا قدرے آسان ہوتا ہے۔

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • پاکستان سے ڈاکٹروں کی ہجرت کا مطلب کیا ہے؟
  • کیا عقلی دلیل ممنوع ہے ؟
  • ایران میں بھوک کا احتجاج
  • اسلام، شاعری اور خطابت
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
مرزا بیدل کی ایک نعت
اگلی تحریر
آزاد کشمیر پولیس کے ایک ڈرائیور کا خلوص

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

امجد اسلام امجد سے ایک ملاقات

جنوری 4, 2026

پاکستان سے ڈاکٹروں کی ہجرت کا مطلب کیا ہے؟

فروری 22, 2026

کالونیل ازم کی ایک نئی شکل

فروری 26, 2026

اکیسویں صدی میں اتارے ہوئے لوگ

جنوری 1, 2026

سخن ہائے گفتنی

فروری 1, 2026

امریکہ میں ممدانی اور قرآن

جنوری 4, 2026

فارمیسی میں منہ چڑاتی دو دوائیں

فروری 7, 2026

ٹالسٹائی کی قوم اور کتاب بینی

جنوری 15, 2026

چند ادبی و سماجی مسائل

دسمبر 28, 2025

ہم اور ہماری سوچیں

دسمبر 31, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • آموں کی پیٹی سے آج تک
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ
  • حارث خلیق کی ایک غزل
  • کالونیل ازم کی ایک نئی شکل

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 280 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 265 views
  • 3

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 255 views
  • 4

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 253 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 227 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • آموں کی پیٹی سے آج تک

    مارچ 1, 2026
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے

    مارچ 1, 2026
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ

    مارچ 1, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

لاہور میں بسنت کے رنگ

فروری 11, 2026

قبائلی بیٹیوں کے خواب اور خاموش...

فروری 25, 2026

ادبی میلوں کا ایک توجہ طلب...

دسمبر 29, 2025
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here