در ژرفای دل خویش کندم تا ببینم چه کسی درون است
هرچه بیشتر فرو رفتم، خویشتن را بیشتر گم کردم.
زیب اذکار حسین)
میں اُترا دُور تک اپنے ہی دل میں
تجسُس تھا کہ دیکھوں کیا ہے من میں
مگر جتنا گیا، اتنا ہُوا گُم
میں رفتہ رفتہ کھویا من کے بن میں
پادشاهی هست که از هر نقابی که بر چهره مینهی آگاه است،
او همه چهرههای پنهان تو را میشناسد.
وہ یہاں جس کی بادشاہت ہے
مخفی اُس سے نہیں تری صُورت
دیکھ سکتا ہے وہ نقاب اندر
پردہ کیسا ہو، کیسی ہو مُورًت
آرزو دارم از زندانِ نفس بگریزم
و در تو خویشتن را گم کنم
قید خانے سے ذات کے نکلوں
خواہش ہے میں انَا سے باہر آؤں
جذب یُوں تیری ذات میں ہو جاؤں
میں دُوئی کے بھنور سے باہر آؤں
دیشب استادم درس فقر به من آموخت:
هیچ نداشتن… و هیچ نخواستن۔
گزشتہ شب مجھے استاد نے یہ سمجھایا
کہ فقر کے لئے لازم ہے کچھ نہیں پایا
نہ کچھ بھی پانے کی خواہش ہے اوًلین یہاں
نہ کچھ بھی ہونے مطلب ہے کُچھ نہیں پایا