Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » خوشیاں، کلچر اور احتیاط

خوشیاں، کلچر اور احتیاط

ڈاکٹر نوید خالد تارڑ

کی طرف سے Ranaayi فروری 9, 2026
کی طرف سے Ranaayi فروری 9, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
46

ہمارا معاشرتی مسئلہ یہ بھی ہے کہ بہت سی باتوں پہ بالکل سطحی انداز میں تنقید شروع کر دی جاتی ہے۔

بسنت کے دوران کسی کا چھت سے گر کر مر جانا ایک دکھ بھری بات ہے لیکن اس حادثے کے لیے وہ فرد خود ذمہ دار ہے کہ اس نے احتیاط نہیں کی، اس کا الزام حکومت کے سر لگانا سراسر بیوقوفی ہے۔

سڑک پہ حادثات ہوتے ہیں لیکن ان حادثات سے بچنے کے لیے سڑک بند نہیں کی جاتی، سفر کرنے والوں کو احتیاط کرنی ہوتی ہے اور حکومتی سطح پہ کوئی پالیسی بنانی ہوتی ہے کہ عوام کو اس بےاحتیاطی سے روکنے کے لیے سختی کی جائے۔

بسنت ایک بہت خوشگوار تہوار ہے اور ایسے تہواروں کی ہر قوم ، ہر معاشرے کو ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہاں کے لوگ اپنے اندر کی گھٹن سے نکل کر کسی ایکٹویٹی میں حصہ لے سکیں، فکروں کو ایک طرف رکھ کر کچھ غیر ضروری کام کر سکیں، اپنے جذبات کسی چیز سے جوڑ سکیں، اپنے اندر کی بھڑاس نکال سکیں، اپنی بے چینی سے چھٹکارا پا سکیں، گھل مل سکیں، خوش ہو سکیں، خوشیاں محسوس کر سکیں۔

معلوم نہیں ہمارے معاشرے میں خوش ہونے پہ ممانعت کیوں ہے، خوش ہونا برا کیوں سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پہ دیکھیں تو ہماری عوام خوشیوں سے بہت دور رہتی ہے ، کتنے ہی لوگ ہیں جو خوش ہونے کے بعد ندامت سے محسوس کرنے لگتے ہیں کہ میں نے خوش ہو کر کوئی غلطی تو نہیں کر دی۔ ہمارے لوگوں کے پاس پریشانیاں ہیں، اداسیاں ہیں لیکن خوش ہونے کا کوئی بہانہ نہیں، کوئی ایسی سرگرمی نہیں ، جس میں حصہ لے کر وہ خوش ہونے کے ذرائع ڈھونڈ سکیں۔

بسنت پہ اعتراض نہیں بنتا، بسنت نے لوگوں کو خوش ہونے کا موقع دیا ہے، ان کے چہرے کی رونقیں لوٹ آئی ہیں۔ ہر معاشرے میں ایسے کئی تہوار ہوتے ہیں، اور وہ بھرپور طریقے سے منائے جاتے ہیں کیونکہ وہ وہاں کے مکینوں کو جوڑتے ہیں، خوش کرتے ہیں تاکہ ان کی زندگی پرسکون ہو سکے، ہمیں بھی ایسے تہواروں کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارے پاس تہوار تو ہیں ہی نہیں، عیدوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ اور عیدوں پہ بھی اب لوگ خوشی محسوس نہیں کر پا رہے ہوتے، انھیں بھرپور طریقے سے نہیں منا رہے ہوتے۔ شب برات ، شب معراج وغیرہ منانے کا رواج بھی ختم ہو چکا ہے تو ہمارے پاس تہوار کے نام پہ بچا ہی کیا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ حکومت نے بالآخر کسی تہوار کو زندہ کرنے کی کوشش کی۔

البتہ کچھ اعتراضات بھی ہیں کہ بسنت سے پہلے منصوبہ بندی مکمل نہیں کی گئی، باقی ب کاموں کی طرح اسے منانے کا فیصلہ بھی جلدبازی میں کیا گیا فیصلہ تھا۔ اس کے تمام پہلو دیکھ کر پالیسیاں نہیں بنائی گئیں۔ مثال دیتا ہوں کہ بسنت کے دوران ساری رات چھتوں پہ ڈیک رکھ کر بجائے گئے ، جس نے اردگرد بستے لوگوں کی نیند حرام کی، ان کا جینا مشکل کیا۔ اس کا آسان سا حل تھا کہ ڈیک لگانے کا دورانیہ رکھ لیا جاتا کہ رات اتنے بجے تک ، اس وقت تک ڈیک چلا سکتے ہیں، اس کے بعد نہیں۔ یا ڈیک چلانے پہ سرے سے پابندی بھی لگائی جا سکتی تھی۔

جن چھتوں پہ بسنت منائی جانی ہے ، ان پہ حفاظتی باڑ لگانے کو لازم کیا جا سکتا تھا۔ اس طرح چھت سے گرنے کے واقعات میڻ مزید کمی ہو جاتی۔ ڈور کی کوالٹی کے متعلق کوئی سخت پالیسی بنا لی جاتی۔ یہ تو اکا دکا مثالیں ہیں لیکن ایسی بہت سی پالیسیاں بنا کر اس تہوار کو مزید بہتر کیا جا سکتا تھا۔ لیکن مجموعی طور پہ اس تہوار کا ہونا بہت ضروری تھا۔ عوام کا خوشیوں کی طرف لوٹنا، کسی قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہو کر اپنی بے چینی کم کرنا بہت ضروری تھا۔

اعتراض درست سمت میں رکھیے، جہاں جہاں کمی رہ گئی، مناسب منصوبہ بندی نہیں کی گئی ، ان پہ اعتراض کیجیے۔ مذہبی طور پہ بھی اعتراض کرنا ہے تو اونچے گانے لگانے یا کسی غیر شرعی حرکت پہ اعتراض کیجیے۔ پتنگ اڑانا بذاتِ خود کوئی برا عمل نہیں۔ ہم نے کتنے ہی تہوار دفن کر دیے ، ان پہ ہندوؤں کا لیبل لگا کر ، حالانکہ کوئی بھی تہوار جس کے کرنے میں کوئی خلافِ اسلام بات نہ ہو ، اس پہ ہندو لیبل لگا کر اسے برا قرار دینا معاشرے کے ساتھ زیادتی ہے۔ ویسے بھی ہم سب ہندو ہی تو ہوتے تھے، ہمارے اجداد نے ہندو ہوتے ہوئے ہی کسی موقع پہ اسلام کی طرف راغب ہو کر اسلام قبول کیا تھا (الحمدللہ )

وہ تہوار جو معاشرتی ثقافت کا حصہ ہوتے ہیں، انھیں زندہ رہنا چاہیے کہ معاشرے کو ان کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ مذہبی تہوار ہر کوئی اپنی پسند ، اپنی مرضی ، اپنے معاشرے کے مطابق ذاتی یا قومی سطح پہ منائے جیسے عید ، کرسمس وغیرہ۔ لیکن معاشرتی ثقافت سے جڑے تہواروں کو قومی سطح پہ منانا چاہیے تاکہ پریشانیوں میں گھری عوام ، حبس زدہ ماحول میں ، گھٹی ہوئی فضا میں کچھ پل کو کھل کر سانس لے سکے، خوش ہو سکے۔

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی
  • ٹالسٹائی کی قوم اور کتاب بینی
  • کیا عقلی دلیل ممنوع ہے ؟
  • ماں کی یاد میں
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
رومی سے ماخوذ ایک اردو نظم
اگلی تحریر
فیس بک کی دنیا

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

پنجابی کھوج گڑھ؛ یادگار کارنامہ

دسمبر 29, 2025

قبائلی بیٹیوں کے خواب اور خاموش دیواریں

فروری 25, 2026

کیا عقلی دلیل ممنوع ہے ؟

دسمبر 23, 2025

رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے

مارچ 1, 2026

یہ کون ہے احمد شاہ؟

دسمبر 31, 2025

دہلی نامہ؛ امرتسر کے دو کردار

فروری 23, 2026

خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ

مارچ 1, 2026

کیا ڈاکٹر ظالم ہوتے ہیں؟

دسمبر 26, 2025

ادبی میلوں کا ایک توجہ طلب پہلو

دسمبر 29, 2025

میرا کراچی

دسمبر 24, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • آموں کی پیٹی سے آج تک
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ
  • حارث خلیق کی ایک غزل
  • کالونیل ازم کی ایک نئی شکل

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 280 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 265 views
  • 3

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 255 views
  • 4

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 253 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 227 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • آموں کی پیٹی سے آج تک

    مارچ 1, 2026
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے

    مارچ 1, 2026
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ

    مارچ 1, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

سخن ہائے گفتنی

فروری 1, 2026

ہم اور ہماری سوچیں

دسمبر 31, 2025

احوال ایران؛ چند فکری زاویے

جنوری 9, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here