ہمارا معاشرتی مسئلہ یہ بھی ہے کہ بہت سی باتوں پہ بالکل سطحی انداز میں تنقید شروع کر دی جاتی ہے۔
بسنت کے دوران کسی کا چھت سے گر کر مر جانا ایک دکھ بھری بات ہے لیکن اس حادثے کے لیے وہ فرد خود ذمہ دار ہے کہ اس نے احتیاط نہیں کی، اس کا الزام حکومت کے سر لگانا سراسر بیوقوفی ہے۔
سڑک پہ حادثات ہوتے ہیں لیکن ان حادثات سے بچنے کے لیے سڑک بند نہیں کی جاتی، سفر کرنے والوں کو احتیاط کرنی ہوتی ہے اور حکومتی سطح پہ کوئی پالیسی بنانی ہوتی ہے کہ عوام کو اس بےاحتیاطی سے روکنے کے لیے سختی کی جائے۔
بسنت ایک بہت خوشگوار تہوار ہے اور ایسے تہواروں کی ہر قوم ، ہر معاشرے کو ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہاں کے لوگ اپنے اندر کی گھٹن سے نکل کر کسی ایکٹویٹی میں حصہ لے سکیں، فکروں کو ایک طرف رکھ کر کچھ غیر ضروری کام کر سکیں، اپنے جذبات کسی چیز سے جوڑ سکیں، اپنے اندر کی بھڑاس نکال سکیں، اپنی بے چینی سے چھٹکارا پا سکیں، گھل مل سکیں، خوش ہو سکیں، خوشیاں محسوس کر سکیں۔
معلوم نہیں ہمارے معاشرے میں خوش ہونے پہ ممانعت کیوں ہے، خوش ہونا برا کیوں سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پہ دیکھیں تو ہماری عوام خوشیوں سے بہت دور رہتی ہے ، کتنے ہی لوگ ہیں جو خوش ہونے کے بعد ندامت سے محسوس کرنے لگتے ہیں کہ میں نے خوش ہو کر کوئی غلطی تو نہیں کر دی۔ ہمارے لوگوں کے پاس پریشانیاں ہیں، اداسیاں ہیں لیکن خوش ہونے کا کوئی بہانہ نہیں، کوئی ایسی سرگرمی نہیں ، جس میں حصہ لے کر وہ خوش ہونے کے ذرائع ڈھونڈ سکیں۔
بسنت پہ اعتراض نہیں بنتا، بسنت نے لوگوں کو خوش ہونے کا موقع دیا ہے، ان کے چہرے کی رونقیں لوٹ آئی ہیں۔ ہر معاشرے میں ایسے کئی تہوار ہوتے ہیں، اور وہ بھرپور طریقے سے منائے جاتے ہیں کیونکہ وہ وہاں کے مکینوں کو جوڑتے ہیں، خوش کرتے ہیں تاکہ ان کی زندگی پرسکون ہو سکے، ہمیں بھی ایسے تہواروں کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارے پاس تہوار تو ہیں ہی نہیں، عیدوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ اور عیدوں پہ بھی اب لوگ خوشی محسوس نہیں کر پا رہے ہوتے، انھیں بھرپور طریقے سے نہیں منا رہے ہوتے۔ شب برات ، شب معراج وغیرہ منانے کا رواج بھی ختم ہو چکا ہے تو ہمارے پاس تہوار کے نام پہ بچا ہی کیا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ حکومت نے بالآخر کسی تہوار کو زندہ کرنے کی کوشش کی۔
البتہ کچھ اعتراضات بھی ہیں کہ بسنت سے پہلے منصوبہ بندی مکمل نہیں کی گئی، باقی ب کاموں کی طرح اسے منانے کا فیصلہ بھی جلدبازی میں کیا گیا فیصلہ تھا۔ اس کے تمام پہلو دیکھ کر پالیسیاں نہیں بنائی گئیں۔ مثال دیتا ہوں کہ بسنت کے دوران ساری رات چھتوں پہ ڈیک رکھ کر بجائے گئے ، جس نے اردگرد بستے لوگوں کی نیند حرام کی، ان کا جینا مشکل کیا۔ اس کا آسان سا حل تھا کہ ڈیک لگانے کا دورانیہ رکھ لیا جاتا کہ رات اتنے بجے تک ، اس وقت تک ڈیک چلا سکتے ہیں، اس کے بعد نہیں۔ یا ڈیک چلانے پہ سرے سے پابندی بھی لگائی جا سکتی تھی۔
جن چھتوں پہ بسنت منائی جانی ہے ، ان پہ حفاظتی باڑ لگانے کو لازم کیا جا سکتا تھا۔ اس طرح چھت سے گرنے کے واقعات میڻ مزید کمی ہو جاتی۔ ڈور کی کوالٹی کے متعلق کوئی سخت پالیسی بنا لی جاتی۔ یہ تو اکا دکا مثالیں ہیں لیکن ایسی بہت سی پالیسیاں بنا کر اس تہوار کو مزید بہتر کیا جا سکتا تھا۔ لیکن مجموعی طور پہ اس تہوار کا ہونا بہت ضروری تھا۔ عوام کا خوشیوں کی طرف لوٹنا، کسی قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہو کر اپنی بے چینی کم کرنا بہت ضروری تھا۔
اعتراض درست سمت میں رکھیے، جہاں جہاں کمی رہ گئی، مناسب منصوبہ بندی نہیں کی گئی ، ان پہ اعتراض کیجیے۔ مذہبی طور پہ بھی اعتراض کرنا ہے تو اونچے گانے لگانے یا کسی غیر شرعی حرکت پہ اعتراض کیجیے۔ پتنگ اڑانا بذاتِ خود کوئی برا عمل نہیں۔ ہم نے کتنے ہی تہوار دفن کر دیے ، ان پہ ہندوؤں کا لیبل لگا کر ، حالانکہ کوئی بھی تہوار جس کے کرنے میں کوئی خلافِ اسلام بات نہ ہو ، اس پہ ہندو لیبل لگا کر اسے برا قرار دینا معاشرے کے ساتھ زیادتی ہے۔ ویسے بھی ہم سب ہندو ہی تو ہوتے تھے، ہمارے اجداد نے ہندو ہوتے ہوئے ہی کسی موقع پہ اسلام کی طرف راغب ہو کر اسلام قبول کیا تھا (الحمدللہ )
وہ تہوار جو معاشرتی ثقافت کا حصہ ہوتے ہیں، انھیں زندہ رہنا چاہیے کہ معاشرے کو ان کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ مذہبی تہوار ہر کوئی اپنی پسند ، اپنی مرضی ، اپنے معاشرے کے مطابق ذاتی یا قومی سطح پہ منائے جیسے عید ، کرسمس وغیرہ۔ لیکن معاشرتی ثقافت سے جڑے تہواروں کو قومی سطح پہ منانا چاہیے تاکہ پریشانیوں میں گھری عوام ، حبس زدہ ماحول میں ، گھٹی ہوئی فضا میں کچھ پل کو کھل کر سانس لے سکے، خوش ہو سکے۔