پاکستان میں خو دکش حملوں پر پہلا تفصیلی مضمون میں نے روزنامہ جنگ کے لیے لکھا تھا جو 5 مئی2002 کو سنڈے میگزین میں چھپا تھا۔ میرے پاس اس کی ایک کاپی موجود ہے۔ لائبریریوں میں بھی ہوگا۔ میں نے پوری دنیا سے ڈیٹا جمع کرکے بتایا تھا کہ اس وقت تک ہر ملک میں کتنے خو دکش حملے ہوچکے تھے۔ تب پوری دنیا میں ان حملوں کی کل تعداد 364 تھی۔ اب دسیوں ہزار ہوچکی ہے۔
اتفاق یہ ہوا کہ اتوار 5 مئی 2002 کو مضمون چھپا اور تین دن بعد8 مئی کو شیرٹن ہوٹل دھماکا ہوا۔ تب وہ پاکستان میں صرف دوسرا خو دکش دھماکا تھا۔ میں نے صرف اعدادوشمار پیش نہیں کیے تھے بلکہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹس کا مطالعہ کرکے بتایا تھا کہ خو دکش حملے کیسے روکے جاسکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو خو دکش حملہ آور بم باندھ کے نکل پڑے، اسے روکنا تقریبا ناممکن ہوتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ایسے حملے انفرادی نہیں ہوتے۔ ان کے لیے فنڈنگ اور ذہن سازی لازم ہے اور یہ کام تنظیمی یا ادارہ جاتی سطح پر ہی ممکن ہے۔ ایک دور تھا کہ اسرائیل میں ہر روز ایسے حملے ہوتے تھے۔ اس نے ایسی تنظیموں کی فنڈنگ روکی اور حما س کے لیڈرز چن چن کے مار ڈالے۔ اب خو دکش حملے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہی کام سری لنکا نے کیا۔ یہی پاکستان کو کرنا پڑے گا۔ فنڈنگ رکوائیں، ذہن سازی بند کرائیں اور دہ شت گر د لیڈر ماریں۔ حملے خودبخود رک جائیں گے۔ذہن سازی کہاں ہوتی ہے، یہ آپ بہتر جانتے ہیں۔