حکیم محمد سعیدؒ کے معمولات رمضان کیا تھے؟ فرماتے ہیں کہ ” سال گزشتہ (1996ء) پورے ماہ رمضان المبارک میں بجز ایک یوم میں نے پورے مہینے ترک غذائے متنوع کیا۔ پورے مہینے میں نے نہ گوشت کھایا نہ چاول کھائے اور نہ گیہوں کھایا۔کوئی سبزی ترکاری نہیں کھائی۔کوئی دہی بڑا اور پکوڑا نہیں کھایا۔ایک دن بھی میں نے قورمہ نوشِ جاں کیا نہ تافتان اور نہ شیر مال اور نہ روٹی، نہ پلاؤ اور نہ بریانی، نہ چٹنی نہ اچار۔
پھر کیا کھایا؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ میں نے پورے ماہ رمضان المبارک میں
ابلی ہوئی نمکین چنے کی دال (ایک پیالی)
(چند) کھجوریں
اور (ان میں ) بہ قدر ضرورت دودھ ڈالا
افطار و سحر یہ میری من بھاتی غذا تھی۔اللہ تعالٰی کا شکر ہے کہ پورا رمضان المبارک بہ عافیت تامہ گذرا۔ ایک دن تہجد ہاتھ سے نہ گئی۔ کوئی ایک نماز قضا نہ ہوئی۔ کوئی ایک تراویح ادا ہونے سے نہ رہی۔پورے مہینے کی شام ورزش کے لئے ٹینس جاری رہی۔ کسی ایک دن ہاضمہ خراب نہ ہوا۔پورا مہینہ چاق و چوبند رہا۔ کاہلی اور سستی قریب نہ آئی۔
عید کی صبح آئی۔ میں نے اپنی نواسی ماہم سے کہا : ماہم! ذرا وزن کرنے کی مشین لاؤ۔ دیکھتا ہوں کہ وزن دس پاؤنڈ کم ہوا ہے یا بارہ۔ مشین پر کھڑا ہوا۔ حیرت انگیز طور پر معلوم ہوا کہ ساڑھے چھ پاؤنڈ وزن بڑھ گیا ہے۔
میرے ہم وطنو!
اب آپ ذرا غور فرمائیے کہ آپ کو کیا کرنا چاہیئے۔ میں آپ سے اپنا تجربہ دہرانے کے لئے نہیں کہتا مگر صرف اس قدر کہتا ہوں کہ روحِ روزہ و رمضان یہ ہے کہ انسان تقلیل غذا کرے۔اپنے اندرون کو خالی رکھے تاکہ نور معرفت نظر آئے۔
لقمۂ حلال کے وقت یہ خیال ذہن سے ماورا نہ ہو کہ پاکستان میں لاکھوں غریب لوگ فاقے کرتے ہیں۔ کھاتے وقت یہ بات ذہن میں موجود ہو کہ ہم مقروض ہیں اور ہماری غذائی اشیاء مثلاً چائے، دودھ، گیہوں، گوشت، آلو، پیاز، ٹماٹر ، دالیں درآمد کرنے پر ارب ہا روپیہ خرچ ہو رہا ہے۔ ہمیں قرض دے کر اقوامِ غیر، طاغوتی طاقتیں، یہود و نصارٰی ہماری گردنوں میں غلامیوں کے طوق لٹکا رہے ہیں۔ہماری خودی اور خودداریاں چھین رہے ہیں۔ ہماری عزت و ناموس کو تباہ کررہے ہیں۔