دوستو! صرف چند دن بعد اکیسویں صدی کے پہلے پچیس سال پورے ہونے والے ہیں۔ یہ سائنسی اور جدید اختراعی حوالے سے ہماری زمینی تاریخ کا سب سے منفرد اور انوکھا دور ہے جسے دنیا بھر کے انسانوں نے بسر کیا ہے۔
کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ ہماری یہ دنیا کیسے چلتی ہے؟ یہ ایک مسلسل اور اجتماعی مربوط نظام کے تحت رواں دواں ہے۔ ہم جو دنیا میں دیکھتے ہیں وہ سب کئی عناصر کے باہمی تعاون سے وجود میں آتا ہے۔ اس میں ان تمام ٹھوس و مائع معدنیات کی معاونت شامل ہے جو قدرت نے ہمیں اس زمین پر مہیا کی ہیں۔ انسان نے اپنے شعور ، تجسس،تحقیق اور اختراعی صلاحیت سے انہیں نئے قالب میں ڈھال کر اسے انسانیت کے لئے مسلسل کارآمد بنایا۔
حقیقت یہ ہے کہ چیزیں ہمہ وقت تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ تہذیب وترقی کا یہ ارتقائی سفر کئی ہزار سالوں پر مشتمل ہے ۔ لکھنے کی صلاحیت حاصل کرنے کے بعد کم و بیش پانچ ہزار سال کا سفر تو ہمارے سامنے ہے، مگر صرف پچھلے پچاس سالوں یعنی بیسویں صدی کے آخری اور اکیسویں صدی کے پہلے پچیس سالوں میں جو کچھ انسانی تہذیب کو میئسر آیا ہے اس کی پہلے کوئی مثال ہی نہیں ہے ۔ یہ بہت حیرت انگیز اور قابل قدر ہے ۔ جیسا کہ ہم نے پڑھا ہے کہ سر آئزک نیوٹن نے ایک بار کہا تھا کہ
If I have seen further than others, it is by standing upon the shoulders of giants.
وہ کہتے ہیں کہ میں اگر اس قابل ہوا ہوں کہ میں مزید آگے دیکھ سکوں یا مزید بہتر کام کر سکوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ میں ان عظیم اور غیر معمولی افراد کے کاندھوں پر سوار ہوں جنہوں نے مجھ سے پہلے اس دنیا کی بہتری کے لئے بڑے بڑے کام کئے۔ نیوٹن کے اس قول میں یہی سچ بیان کیا گیا ہے کہ ہم ترقی و تبدیلی کے جس راستے پر چلتے ہیں، اس پر پچھلے مسافروں کے نشان ہمیشہ موجود ہوتے ہیں جو کہ نئی نسل کے لئے مشعل راہ بن جاتے ہیں۔
یہ جو اکیسویں صدی کے پچیس سال ہیں، انہوں نے ہماری دنیا کے تصور کو ہی بدل کر رکھ دیا ہے ۔ ہم اب نئی اور حد یہ ترین دنیا میں رہتے ہیں ۔ یہ جدید ٹیکنا لوجی کی منفرد اور حیرت انگیز دنیا ہے۔ اس دور میں سائنسی ایجادات کی ایک طویل فہرست ہے جو ہمارے اطراف بکھری ہوئی ہیں، مگر میں یہاں صرف ان چند تبدیلیوں کا ذکر کرنا چاہوں گا جنہوں نے محاورتا” سمندر کو کوزے میں بند کردیا ہے۔ یہ کوزہ ایک سمارٹ فون کی شکل میں آج ہر انسان کے ہاتھوں میں ہمہ وقت موجود ہے۔
آج ہم جن تمام سائنسی دریافتوں کے ساتھ اپنے دن کا آغاز کرتے ہیں اور سارا دن ان کی ہم رکابی میں گزار کر خود کو نیند کے سپرد کرتے ہیں، یہ سب انہی پچیس تیس سالوں کی دین ہے۔
پچھلی صدی کی اختتامی دہائیوں میں کمپیوٹر اپنی ابتدائی شکل میں انسانی دسترس میں آگیا تھا۔ اس کی سوجھ بوجھ رکھنے والوں نے یہ جائزہ لینا شروع کردیا تھا کہ اس دریافت سے اور کیا کیا کام لئے جاسکتے ہیں۔ یعنی سادہ الفاظ میں کمپیوٹر کی آمد کے بعد انسانی اختراعی سوچ کے لئے نئے راستے بنتے چلے گئے۔
۱- ۱۹۹۴ میں جیف بروس نے امریکہ میں امیزون قائم کیا۔ یہ کنزیومر کو سہولیات فراہم کرنے کا منفرد ادارہ ہے۔
۲- ۱۹۹۴ہی میں دو ذہین افراد جیری ینگ اور ڈیوڈ فلو نے یاہو کی نئی دنیا امریکہ میں قائم کی۔یہ ڈجیٹل پیغام رسانی کا ابتدائی ذریعہ تھا۔
۳- ۱۹۹۷ میں ریڈ ہاسٹنگس نے تفریح کی دنیا میں نیٹ فلکس کی امریکہ میں بنیاد رکھی جس نے بڑے پردے پر فلم دیکھنے کے تصور کو بدلتے ہوئے فلم، سیریز اور ڈراموں کو ناظرین کے گھروں کے اندر پہنچا دیا۔ آج نیٹ فلکس اپنی فلمیں خود بھی پروڈیوس کرتا ہے۔
۴- ۱۹۹۸ میں لیری پیج اور سرگرے برن نے مل کر امریکہ میں گوگل جیسے سرچ انجن کی بنیاد رکھی۔ صرف ستائیس سال بعد گوگل میں آج وہ سب کچھ دستیاب ہے جو ہماری دنیا میں ہے۔گوگل بیک وقت صارفین کی سہولیات کے لئے گوگل میپ، گوگل ڈرائیو، جی میل اور پوری دنیا کی زبانوں کا ترجمہ کرنے جیسے بہت سارے اہم کام بھی سرانجام دیتا ہے۔ ہر وہ شخص جس کے پاس گوگل ہے، درحقیقت اس کے پاس ایک بہت بڑی لائبریری ہے۔
۵- ۲۰۰۳ میں بل گیٹس اور پال ایلن نے مل کر امریکہ میں لنکڈن کی بنیا رکھی۔ یہ سرچ انجن ملازمتوں سے متعلق بہت اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔ یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ یہی وہ دو افراد ہیں جنہوں نے مائیکروسافٹ ۱۹۷۵ میں بنایا تھا۔
۶- ۲۰۰۴ میں امریکہ ہی کی سرزمین پر فیس بک سامنے آیا۔ یہ مارک زکربرگ، ڈسٹن موسکووتیز اور ہوگز کریس کی مشترکہ ایجاد تھی۔ فیس بک اس وقت اربوں انسانوں کو ایک ساتھ جوڑے ہوئے ہے۔لوگ آزادی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کر پاتے ہیں۔
۷- ۲۰۰۵ میں ایک اور اہم دریافت امریکہ کی سرزمین پر سامنے آئی جسے ہم سب یوٹیوب کے نام سے جانتے ہیں۔ اس کے بانی تین دوست تھے: چڈ ہرلے، اسٹیو چین اور جاوید کریم۔ صرف بیس سالوں میں یو ٹیوب وڈیوز کے ذریعے اپنی بات کہنے اور دوسروں تک پہنچانے کا بہت بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔
۸- ۲۰۰۵ میں یونیورسٹی آف ورجینیا امریکہ کے طالب علم اسٹیو ہافمین اور ایلیکسز اوہانین نے سوشل میڈیا ریڈیٹ کی بنیاد رکھی۔
۹- ٹویٹر کا پلیٹ فارم ۲۰۰۶ میں امریکی ریاست کیلی فورنیا میں قائم ہوا۔ اس کے بانی جیک ڈورسی ہیں۔ اب یہ ایلون مسک کے ایکس کے نام سے جانا جاتا ہے۔
۱۰- فوری پیغام رسانی میں واٹس ایپ نے رابطے کے پچھلے تمام طریقوں کو یکسر بدل دیا ہے۔ ۲۰۰۹ میں جان کوم اور برائن ایکٹن نے مل کر امریکہ میں اس کی بنیاد رکھی تھی۔
۱۱- ۲۰۱۰ میں پنٹرسٹ بنایا گیا اور اس کے بنانے والوں میں بین سلبرمان، ایون شارپ اور پال سریارا شامل ہیں۔
۱۲- ۲۰۱۰ ہی میں انسٹا گرام کی بنیاد رکھی گئی۔ اسے بنانے والوں میں کیون سسٹروم اور مائیک کریگر شامل ہیں۔
۱۳- ۲۰۱۳ میں ٹیلی گرام کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کے بانی روسی نژاد پال دروف ہیں۔
۱۴- ۱۹۱۶ میں چینی ژانک یمنک نے ٹک ٹاک کی بنیاد رکھی۔
دوستو! یہ تو صرف چند مثالیں ہیں مگر ان ہی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کمپیوٹر اور سوشل میڈیا سے جڑے ہوئے ان تمام پلیٹ فارمز نے دنیا کو کتنی تیزی سے تبدیل کردیا ہے۔ رابطوں کی نئی دنیا تخلیق کردی ہے۔ ہر شخص اپنے ہاتھوں میں پوری دنیا یا پھر بہت بڑی لائبریری لئے پھرتا ہے۔
ہماری زندگیوں کو مربوط کرنے، ایک دوسرے کو قریب لانے، رابطے بڑھانے، تعلیم پھیلانے اور علمی مکالمہ کرنے کی جدید تہذیب سے ہم آہنگ کرنے میں ان تمام تخلیقی پلیٹ فارمز نے بہت بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ انسانی شعور کو بلند کرنے کے علاوہ ان تمام پلیٹ فارمز نے جو سب سے بڑا کام کیا ہے وہ آزادی سے اپنی بات کہنے اور دوسروں تک پہنچانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ بہت کم ممالک ہیں جہاں اظہار رائے کی آزادی ہے۔ بیشتر ممالک کسی نا کسی شکل میں خیالات کو کنٹرول کرتے ہی پائے جاتے ہیں۔ وہاں بندشوں کی وجہ سے گھٹن کا احساس بڑھ رہا ہے۔
یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ دنیا اس سے کہیں زیادہ حیرت انگیز دریافتوں کا مشاہدہ کرے گی۔