یہ ۲۰۲۱ کا قصہ ہے۔ مجھے اپنے پہلے ناول پر مرحوم امجد اسلام امجد صاحب سے تبصرہ لکھانا تھا۔ خیر تبصرہ تو محض ایک بہانہ تھا اصل مقصود ان کی صحبت میں کچھ وقت گزارنا تھا۔ برادرم شہزاد رفیق (چیئرمین فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن) ان سے اپنی سپر ہٹ فلم “سلاخیں“ کے ڈائیلاگ لکھواچکے تھے اور ان سے اپنی وابستگی کا اکثر ذکر کرتے رہتے تھے لہٰذا اہتمامِ ملاقات ان کے ذمے ٹھہرا۔
کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے مقبول عام ڈرامہ “ وارث” امجد اسلام امجد صاحب کے قلم کا شاہکارتھا۔ امجد اسلام امجد صاحب نے جب یہ ڈرامہ لکھا تو ان کی عمر کوئی تیس برس تھی۔کہنے والے کہتے ہیں کہ جب یہ ڈرامہ نشر ہوتا تھا تو پاکستان اور انڈیا کی گلیاں سنسان ہوجاتی تھیں۔
حسبِ پروگرام میں اور شہزاد رفیق شام کے وقت امجد صاحب کے گھر واقع ڈی ایچ اے جا پہنچے ۔ امجد صاحب خود باہر تشریف لائے، پرتپاک استقبال کیااور بڑی محبت کے ساتھ قرینے سے سجے ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا۔ خود چائے وغیرہ کا اہتمام کرنے کے لیے اندر تشریف لے گئے۔
اس دوران میں مسلسل سوچ رہا تھا کہ ان کے ساتھ بات کہاں سے شروع کی جائے۔ ذہن میں ایک خیال آیا کہ شاعر کی شاعری کی تعریف سے بڑھ کر گفتگو کے آغاز کے کیے کون سا موضوع بہتر ہو سکتا ہے لٰہذا کیوں نہ یہیں سے بات شروع کی جائے۔ میں نے اپنے ذہن میں مکالمے کا تانا بانا بننا شروع کر دیا۔
امجد صاحب کچھ ہی دیر میں واپس تشریف لائے تو میں نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا” سر ہم آپ کی شاعری بچپن سے پڑھتے آرہے ہیں۔ آپ کی ایک ایک نظم، ایک ایک غزل اور ایک ایک شعر شاہکار ہے۔ خاص طور پر وہ نظم “راستوں کی مرضی ہے” مجھے بہت پسند ہے۔”وہ نظم انہیں دنوں میں نے کہیں پڑھی تھی اور مجھے بہت اچھی لگی تھی۔
“لیکن یہ نظم تو میری نہیں ہے”۔ وہ سادگی سے بولے۔ بس پھر کیا تھا چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ شہزاد رفیق نے گردن گھما کر جن نظروں سے مجھے دیکھا وہ آج تک مجھے یاد ہے۔
ہم کوئی ایک گھنٹہ سے زیادہ وقت کے لیے ان کے ہاں ٹھہرے رہے۔بے شمار موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ طرح طرح کے لوازامات سے ہماری خدمت کی گئی۔اس سارے وقت میں امجد اسلام امجد صاحب نے بڑے پن اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک پل کے لیے بھی ہمیں ہماری اس حماقت کا احساس تک نہیں ہونے دیے۔ سچ کہا ہے سیانوں نے کہ دوسروں کی غلطیوں اور حماقتوں کی پردہ پوشی اعلیٰ ظرفی کا کام ہے۔
اللہ کریم امجد اسلام امجد صاحب کی قبر پر رحمتوں کا نزول کرے۔ آمین
آج یہ نظم کیسے یاد آگئی؟ اس سوال کا جواب آپ کے تخیل کی پرواز پر چھوڑ رہا ہوں۔
“راستوں کی مرضی ہے”
بے زمین لوگوں کو
بے قرار آنکھوں کو
بد نصیب قدموں کو
جس طرف بھی لے جائیں
راستوں کی مرضی ہے
بے نشان جزیروں پر
بدگماں شہروں میں
بے زباں مسافر کو
جس طرف بھی بھٹکادیں
راستوں کی مرضی ہے
روک لیں یا بڑھنے دیں
تھام لیں یا گرنے دیں
وصل کی لکیروں کو
توڑدیں یا ملنے دیں
راستوں کی مرضی ہے
اجنبی کوئی لاکر
ہمسفر بنا ڈالیں
ساتھ چلنے والوں کی
راکھ بھی اڑا ڈالیں
یا مسافتیں ساری
خاک میں ملاڈالیں
راستوں کی مرضی ہے