Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » اروندھتی کی نئی کتاب؛ چند باتیں

اروندھتی کی نئی کتاب؛ چند باتیں

محمد امین الدین

کی طرف سے Ranaayi دسمبر 20, 2025
کی طرف سے Ranaayi دسمبر 20, 2025 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
79

 

سوچنا انسانی فطرت ہے مگر سماج کے مخصوص دائرے سے باہر نکل کر سوچنا فطرت کی خاص عنایت ہے ۔ اروندھتی رائے کو یہ خاص عنایت حاصل ہے ۔ اس کا اندازہ ان کی حال ہی میں شائع ہونے والی یاداشتوں پر مشتمل کتاب “مدر میری کمز ٹومی “کو پڑھنے سے ہو جاتا ہے ۔ انہوں نے بہت سہولت اور آسانی سے اپنی زندگی کے ان گوشوں پر بات کی ہے جس سے عام قاری اب تک واقف نہیں تھا ۔

اس کتاب میں آتے جاتے بہت سے کرداروں کے درمیان دو کردار انتہائی استقامت سے کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک تو خود اروندھتی رائے ہیں اور دوسری ان کی ماں میری رائے جنہیں رائے جونئیر نے بڑے خواب دیکھنے والی، اپنے حق کے لئے لڑنے والی اور تعلیم کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کردینے والی ایک ایسی عورت سے تعبیر کیا ہے جو ہندوستان کے جنوبی خطے کے ایک پسماندہ قصبے میں اکیلی اپنے دو بچوں کے ساتھ زندگی کے جبر سے نبرد آزما ہے۔

آئیے نقشے پر ہم اس کی دنیا کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں کی زمین پر اس نے نمو پائی۔ ان لوگوں کی زندگی کو کھوجنے کی کوشش کرتے ہیں جن کے درمیان رہ کر اس نے اچھائی برائی، نیکی بدی، سچ یاجھوٹ اور دوست دشمن کے فرق کو سمجھا اور اس کے نتائج کا بوجھ لئے اپنی زندگی کے سفر پر روانہ ہوئی ۔

حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے ابتدائی پندرہ سال ہماری آنے والی زندگی کی سمت کا تعین کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔

یہ جنوبی ہندوستان کا ایک پسماندہ علاقہ ہے ۔ جہاں وسائل کی کمی ہے۔ یہاں نسلی امتیاز بھی برتا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بعض طبقات کا معیار زندگی پسماندگی کی بھی نچلی سطح پر ہے ۔ ان تمام ازلی حقیقتوں کے باوجود یہاں بسنے والوں کا اپنا ماضی ہے، پہچان ہے ، زبان ہے، کلچر ہے تہوار ہیں ، فنون سے دلچسپی کے واضح نشانات ہیں۔ تعلیم سے وابستگی ہے ۔ کچھ نا ہونے کے باوجود اپنی نسلوں کی تعلیم و تربیت کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔ ا نہیں ہوسٹل اسکولوں میں پڑھاتے ہیں، جہاں نصابی کتب کے علاوہ لٹریچر بھی پڑھایا جاتا ہے۔ کھیلوں میں حصہ لیا جاتا ہے ، تیرا کی سکھائی جاتی ہے۔ ڈرامے اسٹیج کئے جاتے ہیں ، کتب میلے منعقد کئے جاتے ہیں ، گیت گائے جاتےہیں۔

یوں ایک بچہ مادی کسمپرسی کے باوجود امیر ہوتا چلا جاتا ہے۔تعلیم کا یہ سفر طے کر کے عملی زندگی جب وہ قدم رکھتا ہے تو وہ صرف طے کردہ اوقات کار والی نوکری کا متلاشی نہیں ہوتا بلکہ گھڑیال کی مخصوص ٹک ٹک اور لگے بندھے دائرے سے ہٹ کر زندگی جیتاہے ۔ اس کی دنیا میں پیسہ نہیں بلکہ جذبات و خیالات و افکار اہم ہوتے ہیں ۔ اس کے خواب بڑے ہوتے ہیں جن کی تعبیر پانے کے لئے وہ کبھی ریلوے پلیٹ فارم پر ہوتا ہے اور کبھی کسی ایسے کمرے میں جہاں پیشاب کی بو والی تنگ گلیوں سے گزر کر جانا پڑتا ہے۔ کبھی جیپ کی ونڈ اسکرین کو چار اینٹوں پر رکھ کر چولہا بنانا پڑتا ہے تو کبھی تین دن اور دو راتوں کے طویل سفر کے دوران اپنی حفاظت کے لئے ایک چاقو بھی ساتھ رکھنا پڑتاہے ۔ یہ چاقو ہمارے سماج کی بدصورتی کی علامت ہے۔ جس نے اپنی زندگی کے سفر میں یہ صعوبتیں برداشت کی ہیں ، قدم قدم پر بکھری ہوئی ناہموار راہوں والی زندگی کو اپنی شرائط پر پوری استقامت کے ساتھ گزارا ہے۔ اسے اروندھتی رائے کہتے ہیں ۔

اروندھتی رائے کی ناہموار اور پیچیدہ زندگی کی پرتوں کو کھولتی ہوئی کتاب “مدر میری کمز ٹو می “ ایک دلفریب و دلکش تصویر کی طرح ہے جسے ملگجی رنگوں سے پینٹ کیا گیا ہے ۔ یہ پینٹنگ ایک طویل مورال کی طرح ہے ۔ اس میں ایک پگڈنڈی ہے،جسے ایک مصنفہ نے بنایا ہے ۔ ایک ایسی مصنفہ جو کبھی اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ کر نہیں چلی ۔ اور اگر مصنفہ کی زبان میں کہا جائے تو ماں نے کبھی اس کا ہاتھ تھاما ہی نہیں ۔ مگر حیرت انگیز طور پر میری رائے کی یہ عدم توجہ مصنفہ کو کمزور نہیں بناتی بلکہ نامساعد حالات میں غیر معمولی بہادر اور مضبوط عورت بناتی ہے ۔ یہی وہ حیران کن طرز عمل ہے جو آج سے چھ دہائی پہلے جنوبی ہندوستان کے ایک پسماندہ قصبے میں رہنے والی دو بچوں کی سنگل مدر نے اختیار کیا۔ اس نے نہ صرف اپنے بچوں کو پالا بلکہ ہزاروں بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا ، جس نے شامی عیسائی عورتوں کے زبردستی چھینے گئے وراثتی حق کو تین راتوں اور دو دن کی طویل مسافت پر قائم کردہ سپریم کورٹ سے جاکر حاصل کیا۔

کتاب پڑھتے ہوئے جا بجا اروندھتی رائے کی ہمت اور حوصلے کی داد تو دنیا ہی پڑتی ہے، مگرمیری رائے کی چند فطری خامیوں کے باوجود ان کے استقلال کو بھی سراہنا پڑتا ہے۔

یہ سوال اُس کتاب کی اشاعت سے پہلے بار ہا دہرایا گیا ہے کہ اروندھتی رائے میں ایسا کیا انوکھا پن تھا جو انہیں اتنی شہرت ملی ۔ کبھی ان کے اندازتحریر پر بات کی گئی،کبھی ان کے متنازعہ خیالات کی طرف اشارہ کیا گیا اور کبھی ان کے طرز زندگی کو نشانہ بنا یا گیا۔ کتاب “ مدر میری کمز ٹو می “ ان تمام سوالوں کے جواب دیتی ہے ۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ایسے سماج میں رہتے ہیں جہاں فن و ادب ، رقص وموسیقی حتی کہ آرٹ کی تمام اقسام کو یا تو ناپید کردیا گیا ہے یا پھر ان تمام شعبوں کو اتنا کمزور کر دیا گیا ہے کہ اب یہاں کوئی قد آور شخصیت پیدا ہی نہیں ہوتی ۔ عقیدے کو زندگی کے ہر شعبے میں داخل کردیاگیا ہے ،لہذا فرد کو سمجھنے اور اسے قبول کرنے کے پیمانے ہی بدل گئے ہیں۔ گُھٹن کی فضا میں جہاں فکری آزادی ناپید ہو اور معاشرتی سیاسی، مذہبی، سماجی مسائل پر کھل کر اظہار کرنا مشکل ہو تو فرد کی تخلیقی صلاحیتیں دب کر رہ جاتی ہیں۔ ہندوستان میں بھی اب اختلاف رائے پر قبولیت کا اسپیس دھیرے دھیرے کم ہو رہا ہے ۔ مصنفہ نے اس بات کا اظہار اس کتاب میں کیا ہے مگر اس کے باوجود وہ اس سماج میں جم کر کھڑی ہوئی ہیں ۔

اروندھتی رائے کی عالم گیر شہرت کو اس کی جڑوں سے منہا کر کے نہیں دیکھا جا سکتا ۔ انہوں نے انگریزی زبان درسی کتابوں میں نہیں پڑھی۔ یہ ان کے گھر میں مادری زبان کی طرح ہی بولی جاتی تھی ۔ انہوں نے اُن نظموں کو چلتے پھرتے دہرایا ہے جو کلاسیقی ادب کا حصہ ہیں ۔ انہوں نے ان کرداروں کو ادا کیا ہے جن کو ہمارے ہاں صرف پڑھا جاتا ہے ۔ انہوں نے جنگلی جانوروں کی چھنگھاڑتی آوازوں یا تیز بارش کے شور میں اپنی بوڑھی نانی کو وائلن بجاتے ہوئے سنا ہے اور یہ بلاشبہ بہت خوبصورت احساس ہے جو کسی لکھنے والے سے کوئی عمدہ نثر یا پھر خیال انگیز نظم لکھوا سکتا ہے۔

اروندھتی رائے کی ایک خوبی یہ بھی ہے جو انہیں متنازعہ بھی بناتی ہے اور وہ ہے ان کا جرات اظہاراور بے باکی۔ اس کی جڑیں بھی ان کے بچپن میں پیوست ہیں ۔ میری رائے کی تربیت میں پنہاں ہے ۔ وہ ساٹھ کی دہائی میں انتظامیہ کی طرف سے ڈرامہ پیش کرنے میں رکاوٹ ہو، ستر کی دہائی میں اسکول اور ہوسٹل کی تعمیر ہو یا اسی کی دہائی میں وراثتی قانونی جنگ، وہ ہر مرحلے پر ثابت قدم دکھائی دیتی ہیں ۔ بعد ازاں یہی طرز عمل رائے جو نئیر کی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے ۔ وہ مرکزی حکومت پر تنقید ہو، پسماندہ قبائل کے ساتھ اظہار یکجہتی ہو یا توہین عدالت پر ایک دن کی سزا، وہ اسے ثابت قدمی کے ساتھ ادا کرتی ہیں ۔

یہ کتاب جہاں ختم ہوتی ہے، وہاں اروندھتی رائے نے اپنی ماں کے لئے لکھا:

“خواب دیکھنے والی جنگجو ٹیچر “

رائے کا میری رائے کے لئے یہ خوبصورت اور دلآویز خراج تحسین ہے

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • یورپ کے کچھ کردار
  • قانون کے دانت
  • معروف مصنف عرفان جاوید کی سال 2025 کی پسندیدہ کتابیں
  • سنسکرت کی دو کتابیں اور چند جملے
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
رومی اور عربی شاعری کا ایک دیوان
اگلی تحریر
ایلف شفق، عشق اور چالیس اصول

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

ایک تبصرہ

دسمبر 8, 2025

اردو کانفرنس پر گفتگو

دسمبر 30, 2025

ایک نئی زبان کیوں سیکھی جائے؟

دسمبر 11, 2025

بھٹو کی پھانسی پر پہلا ناول / سید کاشف رضا

جنوری 9, 2026

انجنہاری کی گھریا؛ ایک مطالعہ

دسمبر 8, 2025

جدہ بک فیئر ایک نمایاں ثقافتی تقریب

دسمبر 10, 2025

عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

جنوری 12, 2026

علامہ اقبال اور خوشحال خان خٹک کے موضوع پر لیکچر

دسمبر 11, 2025

نئے سال کا ایک عہد

جنوری 1, 2026

نذر اجمیر (خصوصی اشاعت بسلسلہ یوم خواجہ معین الدین چشتی)

دسمبر 26, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • روشنی (کہانی)
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید
  • اخلاق احمد کی کتاب بھید بھرے
  • احوال ایران؛ چند فکری زاویے

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 238 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 215 views
  • 3

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 211 views
  • 4

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 204 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 180 views

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • روشنی (کہانی)

    جنوری 13, 2026
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

    جنوری 12, 2026
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید

    جنوری 11, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

پیرزادہ اقبال احمد فاروقی کی یاد

دسمبر 19, 2025

نذر اجمیر (خصوصی اشاعت بسلسلہ یوم...

دسمبر 26, 2025

ہمارے شعور کا المیہ

جنوری 3, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here