Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » چند ادبی و سماجی مسائل

چند ادبی و سماجی مسائل

محمد امین الدین

کی طرف سے Ranaayi دسمبر 28, 2025
کی طرف سے Ranaayi دسمبر 28, 2025 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
48

کوئی بھی معاشرہ کامل اور پرفیکٹ نہیں ہوتا۔ اسے بہتر کرنے، سنوارنے اور قابل رشک بنانے کے لئے محنت درکار ہوتی ہے اور سماج کے سارے طبقات مل کر اپنی حیثیت کے مطابق اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ بہت سی رکاوٹوں کے باوجود بہتری اور ترقی کا یہ سفر جاری رہتا ہے ۔ مگر نا جانے کیوں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جس سماج کا ہم حصہ رہے ہیں وہاں یہ سفر کسی جگہ آکر رک سا گیا ہے۔

کسی بھی سماج کی بہتری میں سب سے اہم کردار مقتدرہ کا ہوتا ہے۔ وہ با اختیار لوگ جو قوت و قدرت رکھتے ہیں، وہ نظام تشکیل دیں، قانون سازی کریں، خود بھی عمل کریں اور دوسروں سے بھی کروائیں۔ میں نے اسی خوش گمانی کے ساتھ زندگی گزاری ہے کہ ہم دھیرے دھیرے ہی سہی مگر بدل رہے ہیں۔ پرویز مشرف کے دور میں ، گو کہ وہ آمریت کا دور تھا، کچھ ایسے اقدامات ہوئے تھے جن کی بنا پر مجھے لگتا تھا کہ اچھے فیصلوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔ان میں سے ایک کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ، پاسپورٹ، برتھ، ڈیتھ اور نکاح کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کرنا تھا۔ یہ ایک تاریخی قدم تھا۔ اس کی مدد سے جائیداد، بنکنگ، بین الاقوامی تجارت اور دیگر بیشمار معاملات میں انقلابی تبدیلی آئی۔ دوسرا کام ان کے دور میں لوکل گورنمنٹ میں یونین کونسل اور چھوٹے یونٹ کا قیام تھا، جن کی بنیاد پر لوگوں کے مسائل کے حل کے لئے بہت اہم پلیٹ فارم مئیسر آیا۔ یہ میری رائے ہے کہ یا تو جناب ذولفقار علی بھٹو کے دور میں بہترین اقدامات کئے گئے تھے جن میں آئین پاکستان جیسی عظیم دستاویز ،تعلیمی نظام کی تشکیل، شناختی کارڈ کا اجراء، سینکڑوں پے اسکیل کی جگہ صرف بائیس بنیادی پے اسکیل کا نفاذ جیسے اہم فیصلوں کی عملداری تھے ، جن سے آج بھی صرف نظر نہیں کیا جاسکتا، یا پھر مشرف کے اقدامات نے معاشرے کو صحیح سمت عطا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے بعد اگر کسی نے بڑا قدم اُٹھایا تو وہ آصف علی زرداری ہیں جنہوں نے صوبوں کو اختیارات لوٹائے۔دوسری طرف احمقانہ اور بیہودہ اقدامات کی بھی ایک طویل فہرست ہے جن میں یلو کیب سے لے کر لنگر خانے تک بہت کچھ ہے مگر میں ان کی طرف جانا نہیں چاہتا۔

چند سالوں سے تو میرے اندر خاصی مایوسی در آئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سماج جمود کا شکار ہوگیا ہے۔ ایک طرف آبادی کا بے ہنگم اضافہ ہے اور دوسری طرف خود رو جھاڑیوں کی طرح پھیلتی ہوئی اس آبادی کو منظم اور ضابطوں کا پابند بنانے کا کوئی کارآمد فیصلہ دکھائی نہیں دیتا۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کوئی مجھے بھی تو کہہ سکتا ہے کہ میاں باتیں تو خوب کرتے ہو، خود بھی اس سماج کی بہتری کے لئے کچھ کیا ہے؟ تب میں آئینے کا رخ اپنی طرف کرلیتا ہوں۔ خود احتسابی سے گزرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

میں ایک نثر نگار ہوں ۔ افسانہ نگاری سے مجھے شغف رہا ہے ۔ لگ بھگ ۱۳۰ افسانے میرے سات افسانوی مجموعوں میں بکھرے ہوئے ہیں ۔ دو ناول اور میری آپ بیتی اس کے علاوہ ہیں۔ آخری افسانہ پانچ سال قبل لکھا تھا۔ اب سالوں سے کوئی افسانہ نہیں لکھا ۔ اس کی کچھ وجوہات ہیں ، ایک وجہ تو میری دن بہ دن کم ہوتی ہوئی یاداشت ہے جس کا ذکر میں نے اپنی آپ بیتی میں بھی کیا ہے ۔ مگر یہ واحد وجہ نہیں ہے۔اس میں تھوڑی بددلی، تھوڑی مایوسی اور تھوڑا سا میری حساسیت کو بھی شامل کر لیجئے –

ادب سےمحبت ۵۰سال پہلے شروع ہوئی تھی ۱۹۸۰میں غیر مربوط طریقے سے لکھنے کی طرف راغب ہوا اور ۱۹۹۰تک آتے آتے خود کو صرف افسانہ نگاری سے جوڑ لیا ۔ اب یہ سفر ۳۵ سال پر محیط ہے ۔ ہر چند کہ مجھے شہرت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے لیکن ہر تخلیق کار کی اتنی خواہش ضرور ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہنر کی بنیاد پر پہچانا جائے ۔ اس کا فن دوسروں تک پہنچے۔ اس حوالے سے ایک اور بات بہت زیادہ اہمیت کی حامل رہی ہے۔ اگر لکھنے والے کو اپنے سماج اور اردگرد کے ماحول میں کمی محسوس ہو اور وہ اپنی تحریروں کے ذریعے سماج کو بہتر کرنے یا تبدیل کرنے کا پیغام دے سکتا ہو تو وہ تو وہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ایسا ضرور کرتا ہے۔

اس بات کا اندازہ تو آغاز میں ہو گیا تھا کہ نثر نگار ی اور بالخصوص افسانہ نگاری کے فروغ میں کردار ادا کرنے والے پلیٹ فارم بہت محدود ہیں جبکہ مشاعروں کے ذریعے نئے لکھنے والے بہت جلد اپنی پہچان بنا لیتے ہیں ، مگر کیا کیجئے کہ میں جو کچھ کہنا چاہتا تھا اس کے لئے افسانہ ہی سب سے موزوں صنف تھی – جب نشتوں میں جانا شروع کیا تو کچھ افسوس ناک پہلوسامنے آئے ۔ افسانوں پر گفتگو کرنے والے ہمیشہ ہی کم لوگ ملے۔

اردو ادب میں ایسے شاعر موجود ہیں جو ادب کی دیگر اصناف پر نہ صرف گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ ان کی مقامی اور عالمی ادب پر بھی بہت گہری نظر ہے ۔ مگر ان کی تعداد افسوسناک حد تک بہت محدود ہے ۔ اکثریت ان کی رہی ہے جو محض اپنی شاعری سنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ میرے مشاہدے میں ایسے شعراء بھی آئے ہیں جنہوں نے ادب کو کبھی پڑھنا ہی نہیں ہوتا ۔ یہ ایک بد دیہی حقیقت ہے کہ شاعری پر گفتگو کرنے کے لئے شعری جمالیات سے زیادہ واہ واہ کی گردان کی جاتی ہے اور شاعر اسی کا متلاشی ہوتا ہے ۔ جب کہ افسانہ کچھ اور رویوں کا تقاضہ کرتا ہے ۔

افسانہ نگار سماجی رویوں، مسائل اور زندگی کے نشیب وفراز سے کہانی اخذ کرتا ہے اور پھر اپنے اسلوب بیاں کی آمیزش سے افسانہ تخلیق کرتا ہے ۔ افسانہ شاعری کے غالب رجحانات کی طرح نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ دو مصروں کی طرح دو سطروں میں بیان کر دینے والی کوئی صنف ہے ۔ افسانے کے لئے یکسوئی، فراوانی وقت اور سماجی مشاہدے کی بہت ضرورت ہوئی ہے اور یہی یکسوئی اور وقت کسی بھی ادبی نشست میں بھی درکار ہوتا ہے ۔ مگر آج کا شاعر تو عجلت میں ہوتا ہے ۔ کہنے کی عجلت،سنانے کی عجلت اور پھر شہرت اور کامیابی کی عجلت۔

یہ کاتا دوڑی اسے کسی اور کی طرف دیکھنے ، پڑھنے اور سراہنے کی مہلت ہی نہیں دیتی ۔ ادب میں یہ رویہ ہمیشہ سے ہی رہا ہے مگر اب یہ بہت تیزی سے بڑھتے ہوئے ایک خرابی کی شکل اختیار کرتا جارہاہے۔

پاکستان میں کتابوں کی اشاعت بھی ایک بہت ہی سنگین مسئلہ ہے ۔ یہ شعبہ اب ایک مذاق بن گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ پبلیشر ایک کاروباری شخص ہوتا ہے۔ اسے اپنے منافع سے غرض ہوتی ہے ۔ مگر کسی بھی ادیب کی تخلیق ایسی پروڈکٹ ہوتی ہے جسے لکھنے، بنانے، سنوارنے اور سجاتے ہوئے وہ داخلی کرب سے گزرا ہوتا ہے ۔ اس کا فن پارہ محض کسی دکان یا شوروم میں سجا دینے والی مادی شے نہیں ہوتا کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرکے شوکیس میں سجا دیا جائے ۔ یہ تو قاری کو بصیرت اور سماجی آگا ہی عطا کرتا ہے ۔ اسے شعور سے مالا مال کرتا ہے ۔

ادیب کو سب سے زیادہ جو بات مسرت عطا کرتی ہے وہ کتاب کا قاری کے ہاتھوں تک پہنچنا ہے ۔یگر اس مرحلے پر آ کر وہ سب سے زیادہ پریشان ہوتا ہے ۔

ہم اکثر کتاب پڑھنے کے رجحان پربات کرتے ہوئے مغرب کے حوالے دیتے ہیں کہ یہاں ایک ایک ایڈیشن کتنی بڑی تعداد میں چھاپا جاتا ہے ۔ مگر میری نگاہ میں ہم درست موازنہ نہیں کرتے ۔ یہاں اکثر کتا بیں دس سے پندرہ ڈالر میں مل جاتی ہیں جو کہ پاکستانی روپوں میں ڈھائی تین ہزار روپے بنتے ہیں ۔ مگر ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ یہاں معمولی جاب کرنے والے دس سے پندرہ ڈالر صرف ایک گھنٹے میں کمالیتے ہیں جب کہ پاکستان میں یہ پورے دن کی کمائی سے بھی زیادہ ہے۔اس پر افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے معاشرے میں کتاب کلچر پیدا ہی نہیں کیا۔ لوگوں کی ترجیحات میں کتاب شامل نہیں ہوتی۔ ایک طرف قاری کی عدم دلچسپی اور دوسرے طرف وہ گروہ جو کتابیں شائع کرتا ہے۔ کچھ پبلشرزکے بارے میں ہم یہ بات بہت آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ کتابیں پڑھنے کے لئے نہیں بلکہ صرف امراء کے بک شیلفوں میں سجانے کے لئے چھاپتے ہیں ۔ ان کا قاری تو مخصوص ہوتا ہی ہے بلکہ ان کا ادیب بھی مخصوص ہوتا ہے۔ جو ادیب پہلے درجے کے پبلشرز تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے وہ دوسرے درجے کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہاں سجی ہوئی دکان پر یہ سمجھ نہیں آتا کہ اپنے لکھے ہوئے کو اپنے پیسوں سے چھاپ کر احباب میں کتاب تقسیم کرنے کا فائدہ کیا ہوگا۔ لیکن کچھ سر پھرے ادیب یہ بھی کر گزرتے ہیں۔ کیونکہ انہیں سب سے زیادہ مسرت اپنی کتاب چھپی ہوئی دیکھ کر ہوتی ہے ۔

اب میں دوبارہ آغاز کی طرف آتا ہوں کہ ہزاروں صفحات کالے کرنے، اپنی جیب سے خرچ کر کے کتابیں شائع کروانے اور قاری تک پہنچانے کے بعد اب میں کیوں لکھنے کی طرف مائل نہیں ہوتا۔ در حقیقت ہم نے ادب میں در آئی غیر ادبیت کے غلبے کو برداشت کر لیا، قاری تک پہنچنے کے لئے پبلشرز کی عدم دلچسپی کو بھی جھیل لیا مگر اس قاری کا کیا کریں جو اپنے اندر تبد یلی لانے اور سماج کو بہتر کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ۔ کسی سماج نے خود کو کتنا بہتر کیا ہے، اس کا اظہار نمائشی نموداور دکھاوے سے نہیں ہوتا ۔ یہ سب جاننے کے لئے اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ سماج میں عدل و انصاف کتنا ہے ، آزادی اظہار کا معیار کیسا ہے،سماج کے مختلف طبقات کا ایک دوسرے کے ساتھ رویہ کیا ہے، مختلف مذاہب میں ہم آہنگی کتنی ہے، نوجوانوں میں تعلیمی صلاحیت کس معیار کی ہے جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے خواتین کو یکساں حقوق حاصل ہیں کہ نہیں، معاش کی سہولت لوگوں کو یکساں مئیسر ہے کہ نہیں ، مظلوم کی دادرسی کے لئے ادارے کتنا کام کر رہے ہیں ۔مگر جب ہم اپنے سماج کو دیکھتے ہیں تو ذہنی پسماندگی دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے ۔

۷۵سالوں میں ہمیں جس قدر بہتر اور تہذیب یافتہ ہونا چاہیے تھا، وہ دکھائی نہیں دنیا ۔ مادی ترقی تو دکھائی دیتی ہے مگر ذہنی اور فکری ترقی کا سفر خط معکوس کی جانب جاتا ہوا نظر آتا ہے ۔ مانا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ادیب محض اپنے لکھے سے سماج کو تبدیل نہیں کر سکتا مگروہ بہتر سماج کی نشاندہی ضرور کرتا رہتاہے ۔ اپنے قلم سے سماج کو بیدار کرنے کی کوشش کے بعد اس کا کردار محدود ہو جاتا ہے ۔ اس کے بعد سماج کی اپنی ذمہ داری شروع ہو جاتی ہے کہ وہ خود کو تبدیل کرنے کی طرف قدم بڑھائے ۔ مگر جب برسوں کے بعد بھی سماج تبدیل ہوتا ہوا دکھائی نہ دے تو پھر کیا کیا جائے ۔

ایک تو یہی رائے ہو سکتی ہے کہ ادیب کو اپنا کام خلوص نیت کے ساتھ کرتے رہناچاہیے۔مگر کیا کیا جائے کہ جس گھٹن نے لکھنے کی طرف مائل کیا تھا وہ محض کتھارسس نہیں تھا،وہ ایک خواب تھا، بہتری کا خواب ، ایک آدرشوں بھرا خواب۔اصل میں ہوا یہ کہ ہم جیسوں نے آدرشوں کی بنیاد پر سماج کو تبدیل کرنے کے خواب دیکھے تھے وہ آدرش کسی اور دنیا سے آئے تھے۔

ہمارے سماج کی پرورش اور بنت اس طرح ہوئی ہی نہیں۔ یہ اپنی جڑوں سے کٹاہوا سماج ہے، اسے مصنوعی تنفص سے جو آکسیجن فراہم کی جارہی ہے، وہ بھی کہیں اور سے درامد کی گئی ہے ۔ جس کی وجہ سے اس میں دوغلا پن در آیا ہے۔

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ

کچھ نا سمجھے خدا کرے کوئی

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • امریکہ میں ممدانی اور قرآن
  • اے آئی کی کلہاڑی
  • آپ اے آئی سے ڈرتے ہیں یا نہیں
  • احوال ایران؛ چند فکری زاویے
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
غالب کے چند فارسی شعر مع اردو (ویڈیو)
اگلی تحریر
آدمی (افسانہ)

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

میرا کراچی

دسمبر 24, 2025

اکیسویں صدی کے پہلے 25 برس

دسمبر 22, 2025

دو اہم افسانوں کا تذکرہ

جنوری 2, 2026

کیا عقلی دلیل ممنوع ہے ؟

دسمبر 23, 2025

سوشل میڈیا کے دور میں مطالعہ کیوں کیا جاۓ؟

دسمبر 13, 2025

اکیسویں صدی میں اتارے ہوئے لوگ

جنوری 1, 2026

احوال ایران؛ چند فکری زاویے

جنوری 9, 2026

ادبی میلوں کا ایک توجہ طلب پہلو

دسمبر 29, 2025

کیا ڈاکٹر ظالم ہوتے ہیں؟

دسمبر 26, 2025

اے آئی کی کلہاڑی

دسمبر 31, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • روشنی (کہانی)
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید
  • اخلاق احمد کی کتاب بھید بھرے
  • احوال ایران؛ چند فکری زاویے

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 240 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 217 views
  • 3

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 213 views
  • 4

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 205 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 182 views

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • روشنی (کہانی)

    جنوری 13, 2026
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

    جنوری 12, 2026
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید

    جنوری 11, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

اے آئی کی کلہاڑی

دسمبر 31, 2025

اکیسویں صدی میں اتارے ہوئے لوگ

جنوری 1, 2026

امریکہ میں ممدانی اور قرآن

جنوری 4, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here