معروف ہندی ادیب اور گیان پیٹھ ایوارڈ یافتہ ونود کمار شُکل، منگل کی شام رائے پور کے ایک سرکاری ہسپتال میں علالت کے باعث انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 89 برس تھی۔
ونود کمار شکل ہندی ادب کی ایک مضبوط آواز سمجھے جاتے تھے اور اپنی منفرد اسلوبی شناخت، سادگی اور گہرے انسانی احساسات کے باعث وسیع حلقے میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔
ان کی نمایاں اور سب سے زیادہ سراہی جانے والی تخلیقات میں ناول ’نوکر کی قمیض‘، ’کھلے گا تو دیکھیں گے‘، ’دیوار میں ایک کھڑکی رہتی تھی‘ اور ’ایک چپ سی جگہ‘ شامل ہیں۔ ان کی فکشن تحریروں میں عام انسانوں کی باطنی دنیا کو موضوع بنایا گیا، جہاں سادہ اور کم سے کم زبان کے ذریعے پیچیدہ جذباتی اور سماجی حقیقتوں کو بڑی تاثیر کے ساتھ اجاگر کیا گیا۔
’نوکر کی قیمض ‘ کا اردو ترجمہ کراچی سے شائع ہونے والے جریدے ’آج‘ میں شائع ہوا تھا،جو ونود کمار شُکل سے پہلا تعارف بنا۔
ناول اور کہانیوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے ہندی میں نظمیں بھی کہیں۔
کچھ عرصہ قبل میں نے ونود کمار شکل کی چند نظموں کو دیوناگری سے اردو کا روپ دیا تھا۔ یہ نظمیں پیش ہیں:
آکاش کی طرف
اپنی چابیوں کا گچھا اچھالا
تو دیکھا
آکاش کُھل گیا ہے
ضرور آکاش میں
میری کوئی چابی لگتی ہے!
شاید میری صندوق کی چابی!!!
کُھلے آکاش میں
بہت اونچے
پانچ بمبار جہاز
دِکھے اور چھپ گئے
اپنی خالی صندوق میں
دِکھ گئے دو چار تِل چٹے
صندوق الٹانے سے بھی نہیں گرتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دور سے اپنا گھر دیکھنا چاہیے
مجبوری میں نہ لوٹ سکنے والی دوری سے اپنا گھر
کبھی لوٹ سکوں گا کی پوری آشا میں
سات سمندر پار چلے جانا چاہیے
جاتے جاتے پلٹ کر دیکھنا چاہیے
دوسرے دیس سے اپنا دیس
خلا سے اپنی زمین
تب گھر میں بچے کیا کرتے ہوں گے، کی یاد
زمین میں بچے کیا کرتے ہوں گے،کی ہوگی
گھر میں کھانے پینے کی فکر ہوگی
زمین میں کوئی بھوکا
گھر میں بھوکا جیسا ہوگا
اور زمین کی طرف لوٹنا
گھر کی طرف لوٹنے جیسا
گھر کا حساب کتاب اتنا گڑبڑ ہے
کہ تھوڑی دور جا کر گھر کی طرف لوٹتا ہوں
جیسے زمین کی طرف
۔۔۔۔۔۔۔۔
مایوسی سے ایک شخص بیٹھ گیا تھا
اس شخص کو میں نہیں جانتا تھا
مایوسی کو جانتا تھا
اس لیے میں اس شخص کے پاس گیا
میں نے ہاتھ بڑھایا
میرا ہاتھ پکڑ کر وہ کھڑا ہوا
مجھے وہ نہیں جانتا تھا
میرے ہاتھ بڑھانے کو جانتا تھا
ہم دونوں ساتھ چلے
دونوں ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے
ساتھ چلنے کو جانتے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔
اب اس عمر میں ہوں
کہ کوئی بچہ جنم لیتا ہے
تو وہ میری نواسیوں سے بھی چھوٹا ہوتا ہے
سنسار میں بھنبھناہٹ ہے
کسی نے سویرا ہوا کہا تو
لڑکا ہوا لگتا ہے
صبح ہوئی خوشی سے چلا کر کہا
تو لڑکی ہوئی کی خوشی لگتی ہے
میری بیٹی کی دو بیٹیاں ہیں
سب سے چھوٹی نواسی جاگ گئی
جاگتے ہی اس نے صبح کو
گڑیا کی طرح اٹھایا
بڑی نواسی جاگے گی تو
دن کو اٹھا لے گی