Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » اخلاقیات کی دھنک

اخلاقیات کی دھنک

محمد امین الدین

کی طرف سے Ranaayi جنوری 8, 2026
کی طرف سے Ranaayi جنوری 8, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
67

ہم اپنے خد و خال اور وضع قطع میں بظاہر انسان دکھائی دینے والے اس وقت تک انسان ہونے یا کہلائے جانے کے حقدار نہیں ہیں جب تک کہ ہم اخلاقی اصولوں، ضابطوں سماجی قوانین کی پاسداری نہیں کرتے۔ یہ اخلاقی اصول سماج میں رہنے والے ازخود بنا بھی لیتے ہیں اور اپنے اوپر نافذ بھی کرتے ہیں تاکہ دنیا امن و سکون کا کہو ارہ بن سکے۔ اخلاقیات فلسفے کا بہت ہی اہم موضوع ہے۔ مختلف مفکرین نے اس پر بہت کچھ لکھا اور انسانیت کو ہمہ وقت سمجھانے کی کوشش کی ہے۔

مختلف ادوار میں اس کے اصول مرتب ہوتے رہے ہیں۔ پاکیزگی، نرمی، برداشت، مسکراہٹ اخلاقیات کے راستے کے چند سنگ میل ہیں۔ ایک فرد سے دوسرے فرد کے تعلق میں یہ بہت نمایاں نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فرد کی زندگی سے جڑے ہوئے معاملات اخلاقیات کا بنیادی موضوع رہے ہیں۔

۶۰۰ عیسوی میں روم کے ۶۴ ویں بشپ گریگوری اول نے سات افعال کو انسانی اخلاقیات کے حوالے سے سات گناہ قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ انسان کو ان سے بچنا چاہیے۔

آئیے ہم ان سات برائیوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہوس:

سب سے پہلے وہ انسانی فطرت میں حد سے زیادہ ہوس،عیش و آرام، جنسی لذت یا اس کی بے ترتیبی یا ضرورت سے زیادہ طلب کے رویے میں فرد کو محتاط رہنے کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

بسیار خوری:

دوسرے وہ کہتے ہیں کہ فرد کو اپنے کھانے پینے میں متوازن ہونا چاہیے۔ یہ صحت کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔

لالچ:

تیسرے وہ فرد کی طبیعت میں لالچ کی طرف اشارہ کرتے ہیں ، وہ زمینی املاک ہوں ، سامان ہوں یا ضرورت سے زیادہ بے ترتیب خواہشات، یہ فرد کی زندگی کو تباہ کرتی ہیں۔ اسی لئے ان سے بھی بچنا چاہیے۔

کاہلی:

چوتھی بات وہ کاہلی یا سستی کے بارے میں کہتے ہیں اور آگاہ کرتے ہیں کہ امور کی انجام دہی میں کوتاہی درحقیقت روحانی بے حسی کا سبب بنتی ہے۔

غصہ:

پانچویں بُرائی جس کی وہ نشاندہی کرتے ہیں جو فرد کی زندگی کو تباہ کرتی ہے اسے غصہ کہا جاتا ہے۔ بدلہ لینے کی ضرورت سے زیادہ خواہش یا ایک مضبوط، بے قابو ناراضی جو کسی دوسرے کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

حسد:

چھٹی برائی حسد ہے جو کہ دوسروں کی خوشحالی اور کامیابیوں پر ایک خودغرض رویے کی صورت میں اثر انداز ہوتی ہے۔ اکثر دوسروں کی خوش قسمتی سے محروم کرنے کی خواہش کے ساتھ۔

فخر:

ساتواں اور آخری رویہ،فطرت یا گناہ وہ فخر کو سمجھتے ہیں۔ فخر درحقیقت تکبر کی ایک شکل ہے۔ خود سے بہت زیادہ محبت اور برتری کی خواہش۔ اکثر گناہوں میں اسے سب سے زیادہ سنگین سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ تمام دوسرے برائیوں کی قیادت کر سکتا ہے.

برصغیر کے ممتاز سیاسی و سماجی رہنما موہن داس کرم چند گاندھی جنہیں مہاتما گاندھی بھی کہا جاتا ہے نے پوپ گریگوری کے سات برائیوں کی فہرست سے متاثر ہو کر 1925ء میں سات سماجی گناہوں کی فہرست جاری کی تھی۔ ان کا کہنا تھا، جب تک کوئی معاشرہ ان سات گناہوں پر قابو نہیں پاتا، وہ حقیقت میں انسانی معاشرہ نہیں بنتا۔

گاندھی جی کے بقول

اصولوں کے بغیر سیاست،

کام کے بغیر دولت،

ضمیر کے بغیر خوشی،

کردار کے بغیر علم،

اخلاقیات کے بغیر تجارت،

انسانیت کے بغیر سائنس،

اور قربانی کے بغیر عبادت گناہ ہے،

ہر فرد کو اپنے سماج کو بہتر اور رہنے کے قابل بنانے کے لئے اخلاقیات کے ان اصولوں کی پاسداری کرنا چاہیے تاکہ دنیا میں ہر ایک کے لئے امن قائم ہو۔

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • ہم اور ہماری سوچیں
  • سخن ہائے گفتنی
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ
  • خطرناک امراض اور سائنس
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
رومی کے چند اشعار کا ترجمہ
اگلی تحریر
خوشبو کی غزل | نازیہ غوث

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

دہلی نامہ؛ امرتسر کے دو کردار

فروری 23, 2026

خود کش حملے کیسے ختم ہوں؟

فروری 12, 2026

رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے

مارچ 1, 2026

کیا عقلی دلیل ممنوع ہے ؟

دسمبر 23, 2025

ہائی فائی’ زندگی کون گزار رہا ہے؟’

فروری 20, 2026

پاکستان سے ڈاکٹروں کی ہجرت کا مطلب کیا ہے؟

فروری 22, 2026

دو اہم افسانوں کا تذکرہ

جنوری 2, 2026

ادبی میلوں کا ایک توجہ طلب پہلو

دسمبر 29, 2025

اکیسویں صدی میں اتارے ہوئے لوگ

جنوری 1, 2026

فارمیسی میں منہ چڑاتی دو دوائیں

فروری 7, 2026

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • آموں کی پیٹی سے آج تک
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ
  • حارث خلیق کی ایک غزل
  • کالونیل ازم کی ایک نئی شکل

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 280 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 264 views
  • 3

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 254 views
  • 4

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 253 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 226 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • آموں کی پیٹی سے آج تک

    مارچ 1, 2026
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے

    مارچ 1, 2026
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ

    مارچ 1, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

پنجابی کھوج گڑھ؛ یادگار کارنامہ

دسمبر 29, 2025

پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی

فروری 22, 2026

آموں کی پیٹی سے آج تک

مارچ 1, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here